پاکستان

لال کی اہمیت

لال خان ایک شاندار مقرر تھے اور کوئی بھی ان کی مارکسی تاریخ کے علم سے میل نہیں رکھتا تھا۔ وہ بالشوازم خاص طور پر لیون ٹراٹسکی کی ایک سیاسی لغت تھے۔ نوجوانوں کو تحریک دینے کی ان میں کرشماتی صلاحیت موجود تھی۔ وہ بغیر نوٹس کے گھنٹوں اپنے سامعین کو مسحور رکھنے پر قادر تھے۔ ان کی تنظیم ”طبقاتی جدوجہد“ کی اٹھان میں ایوان اقبال لاہور میں منعقد کردہ سالانہ کانگریسوں کو خصوصی اہمیت حاصل رہی جس میں سینکڑوں مندوب دو دن کیلئے جمع ہوتے اور پاکستان کے سیاسی تناظر میں تنظیمی اور سیاسی ترجیحات کا تعین کیا جاتا۔

عظیم انقلابی جس نے زندگی کے کسی محاذ پر شکست نہیں مانی

کامریڈ لال خان اپنی سوچ، سیاسی فکر اور مارکسی نظریات کے ساتھ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔ ہم کسی قیمت پر ان کے متعین کئے ہوئے راستے سے نہیں ہٹیں گے اور جس سرخ پرچم کو سینے پر سجا کر وہ وداع ہوئے اسی لال پرچم کو بلند کئے ہم جئیں گے اور اسی کے ساتھ مریں گے۔

نواز شریف کو للکارنے والا سوشلسٹ سپاہی: محمود بٹ کی آج پہلی برسی منائی جائے گی

آج بختیار لیبر ہال میں محمود بٹ کے ساتھی مزدور اور انقلابی کامریڈ اسے خراجِ عقیدت پیش کرنے صبح دس بجے اس عہد کے ساتھ جمع ہوں گے کہ محمود بٹ کی جدوجہد جاری رہے گی۔ گذشتہ اتوار کو ہونے والا فیض امن میلہ جو گذشتہ سال سے بھی کہیں بڑا تھا، محمود بٹ کے ساتھیوں کے اسی عہد کا ایک عملی اظہار تھا۔

افغانستان: حسبِ توقع صدر غنی کی جیت، عبداللہ عبداللہ کی دھمکیاں

اگر عراق میں امریکی مداخلت کے نتیجے میں ایران نواز مذہبی جنونی اور جنگی سالار لوگوں پر، فرقہ وارانہ بنیادوں پربذریعہ انتخابات، مسلط کر دئے گئے ہیں تو افغانستان میں خونی جنگی سالار نسلی بنیادوں پر مسلط ہو گئے ہیں۔
افغان شہریوں کے پاس موجود ’آپشن‘ یہ ہے کہ طالبان کا ساتھ دو یا حکمت یار کو ووٹ دو۔

فیض امن میلہ: انقلابی اٹھان کا اظہار

حقیقت یہ ہے کہ عوام موجودہ سرمایہ درانہ نظام اور اس کی رکھوالی سیاسی پارٹیوں کی سیاست سے تنگ ہو کر نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ فیض انہی نئی راہوں کا امین اور مبلغ تھا۔ عوام نے بار بار ان سرمایہ دار جماعتوں کے اقتدار کو دیکھ لیا ہے اور ان سے جان چھڑانے کی جستجو میں جو تلاش جاری ہے فیض امن میلہ اس کی نشان دہی کر رہا ہے۔

بوٹ کو عزت دو

ی ٹی آئی کی زیرِقیادت وفاقی اور صوبائی حکومتیں نااہل ہیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کا بڑے پیمانے پر مذاق اڑایا جاتا ہے، جس میں پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز کے میزبان یہ کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کے عہدے پر برقرار رہنے کی وجہ خان صاحب کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا یہ انتباہ ہے کہ بزدار کی رخصتی ان کے شوہر کی رخصتی کا باعث بن سکتی ہے۔