پاکستان

حکمرانوں کی نا کام کرونا حکمت عملیاں: یہ اِدھر کے رہیں گے نہ اُدھر کے

حکومت اپنی کرونا حکمت عملی پریشر گروہوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے گاہے بگاہے تبدیل کرتی رہتی ہے۔ رمضان سے پہلے یہ مولویوں کے آگے جھکی اور مساجد میں اجتماع کرنے کی اجازت دے دی۔ اب لاک ڈاؤن ختم کیا گیا ہے تا کہ تاجروں اور سرمایہ داروں کو عید پر پیسے کمانے کا موقع مل سکے اور یہ لوگوں کی چمڑیاں اتار لیں۔

کرونا، سازشی تھیوریاں اور سوشلسٹ موقف

سازشی تھیوریاں ساری دنیا میں ہی اپنے لئے سامعین ڈھونڈھ لیتی ہیں مگر پاکستان میں تو مین اسٹریم سیاست اور تجارتی میڈیا چلتے ہی سازشی تھیوریوں کے سہارے ہیں۔ اور تو اور پاکستانی بائیں بازو کے کارکن بھی ایک سے بڑھ کر ایک سازشی تھیوری پیش کرتے نظر آئیں گے۔

لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے

بجٹ میں کم از کم دس فیصد صحت اور بیس فیصد اس بحران سے نپٹنے کے لئے محنت کشوں کے لئے مختص ہو۔ بے روزگار ہونے والے افراد کو، بعض دیگر ممالک کی طرح، کم از کم ماہانہ تیس ہزار روپے آئندہ چھ ماہ تک دئے جائیں۔

خبر کا قتل

پاکستان کی قومی اسمبلی کے دو ارکان ایک نعش دارالحکومت سے اٹھا کر وزیرستان تک لے گئے، ہزاروں افراد تدفین کے عمل میں شریک رہے۔

عارف وزیر کا قتل: جدوجہد جاری رہے گی!

عارف وزیر کا قتل حکمران طبقے کی طرف سے اشتعال انگیزی کا واضح اظہار ہے۔ وہ پشتون نوجوانوں کو مہم جوئی کے لئے اکسانا چاہتے ہیں تاکہ حکمرانوں کو تحریک کو جسمانی اور سیاسی طور پر روکنے کے لئے ایک آسان بہانہ فراہم ہوسکے۔ لیکن تحریک کی قیادت کو جذبات کو ٹھنڈا رکھنا ہوگا۔ انہیں اپنے دوستوں اور دشمنوں میں فرق کرنا ہوگا۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے اصل دوست اس ملک کے مظلوم طبقات ہیں نہ کہ کسی ملک کے حکمران۔ انہیں مظلوم محنت کش عوام کی انقلابی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ تمام مظلوم عوام کی اجتماعی تحریک ہی اس خونی قتل عام کو ختم کرسکتی ہے۔