پاکستان

چینی جیسے غیر منافع بخش کاروبار کے لئے 78 شوگر ملیں کیوں لگائی گئیں؟

۔ آپ پاکستان کے کسی بھی سیاستدان کا نام لے لیں تو وہ چینی کی صنعت کا سرمایہ دار نکلے گا۔ اس دھندے میں پنجاب کا تقریباًہر سیاسی خاندان، لاہور کے شریفوں سے لے کر گجرات کے چودھریوں تک اور سرگودھا کے چیموں سے لے کر جہانگیر ترین تک شامل ہیں۔ یہاں ہمایوں اختر اور اس کے اہل خانہ کا نام مت بھولیں۔

ایک ’بے حیا‘ عورت کا طارق جمیل کے نام خط

بھی کبھی سوچتی ہوں میری ’بے حیائی‘ تو دکھائی دیتی ہے مگر میری محنت کا استحصال اور میری جنس کا ہراس ہونا آپ کو کیوں دکھائی نہیں دیتا؟ جو سرمایہ دار مالک میرا ہر دو طرح کا استحصال کرتا ہے وہ آپ کی نظر میں بے حیا نہیں بنتا کیونکہ وہ آپ کی تبلیغی جماعت کو چندہ دیتا ہے۔

کرونا وائرس عمران خان حکومت کو لے بیٹھے گا

حکمران طبقات بحرانی دور میں بھی اپنے منافع کم کرنے کی بجائے محنت کشوں کی تنخواہوں میں کمی اور ان کی تعداد کو کم کر دیتے ہیں۔ اپنے بحران کا بوجھ محنت کش طبقات پر ڈالتے ہیں۔ ایسے میں اس سرمایہ داری نظام کی کسی شکل پر بھی بھروسہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ ہمیں اپنی سیاسی قوت اور طاقت کو مزید طبقاتی بنیادوں پر منظم کرنا اور اسے انقلابی سوشلزم کے نظریات سے اور زیادہ قریبی طور پرجوڑنا ہو گا۔

کرونا بحران کے خلاف پاکستانی بائیں بازو کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے؟

زدوروں اور محنت کشوں کے ساتھ مل کر اور اپنی مدد آپ کے تحت بنائی گئی کمیٹیوں کی تشکیل شروع کرنا ہوگی ہمیں اس بحران سے نمٹتے ابھی بھی بہت دیر ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمیں اپنی کمیٹیوں کے ذریعے کرونا جیسی وبا سے بچنے کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ پیداواری عمل پر مزدور طبقات کی اجارہ داری، خواراک اور وسائل کی منصفانہ تقسیم، صحت اور ادویات پر محنت کشوں کے کنٹرول کے لئے سیاسی تربیت کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج بے رحمی اور نالائقی کے سوا کچھ نہیں

اگر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اس کے پاس ڈاکٹروں کی حفاظت کے لئے سامان مہیا کرنے کے لئے وسائل نہیں ہیں تو کسی کو بھی اس بہانے پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔ ہمارے پاس اس وقت تو وسائل کی کوئی کمی نہیں ہوتی جب ہم نے جہانگیر ترین کو معیشت کی لوٹ مار کے ذریعے مال بنانے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔