اداریہ

کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ اور بلوچستان کا زخم

بلوچستان میں بہت سے سلگتے ہوئے مسائل ہیں۔ تاریخی طور پر معاشی ناانصافیوں نے جہاں صوبے کو پسماندہ رکھا، وہاں وقت کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک بڑا انسانی المیہ بن گیا ہے۔ یہ سرکاری بیانیہ کہ پسماندگی کی وجہ بلوچ سردار ہیں اور دہشت گردی کی وجہ را…یہ بیانیہ بلوچستان سے باہر تو کچھ پرتوں کو متاثر کر سکتا ہے مگر بلوچستان میں، درست طور پر، اس بیانئے پر کوئی یقین نہیں کرتا۔

عزیز ہم وطنو! پاکستان میں اکیڈیمک مارشل لا نافذ کیا جا رہا ہے

اکیڈیمکس حکمران طبقے کی کاسہ لیسی کرتے تو نظر آتے ہیں مگر حکمران طبقے سے کم ہی ٹکر لیتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں اگر اکیڈیمکس بطور پبلک دانشور ترقی پسندانہ کردار ادا کرتے نظر آئیں تو یہ اور بھی مشکل کام تصور کیا جاتا ہے۔

ایف سی کالج سے پرویز ہود بھائی کی برطرفی اکیڈیمک آزادی پر حملہ ہے

ادارہ جدوجہد اس برطرفی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ کسی بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے اکیڈیمکس کی اکیڈیمک آزادی کا تحفظ کرے۔ اصول کے لئے طاقت سے ٹکرانا بڑی یونیورسٹیوں کی دنیا بھر میں روایت رہی ہے۔ ایک یونیورسٹی میں اکیڈیمک آزادی ہی اس کے تحقیقی اور اخلاقی معیار کی ضمانت ہوتی ہے۔

سو جوتے سو پیاز والی کرونا پالیسی

اب ہو گا یہ کہ نہ جانیں بچیں گی نہ معیشت۔ لوگ کرونا سے بھی مریں گے اور بھوک سے بھی۔ ہسپتال کا نظام ناکام ہو جانے سے اب لوگ ایسی بیماریوں سے بھی ہلاک ہو جائیں گے جن کا علاج ممکن تھا۔ اگر کرونا کو ایک جنگ قرار دے دیا جاتا تو اس حکومت کی پالیسی جنگی جرائم کے زمرے میں آتی۔

عمران خان نے پاکستان کو بحرانستان بنا دیا ہے

یہ چنگاریاں کب آگ بن کر پورے جنگل کو آگ کی لپیٹ میں لیں گی، کچھ کہنا مشکل ہے مگر اِسے نوشتہ دیوار بھی سمجھا جائے اور جن بحرانوں میں یہ ملک گھر چکا ہے، ان کا حل بھی ایک عوامی تحریک ہے جو نہ صرف عمران خان کی نا اہل حکومت کا خاتمہ کر دے بلکہ اس حکمران طبقے کی بنیادیں بھی ہلا دے۔

جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں

اس مجوزہ کمیشن کی تشکیل سے بھی پہلے پی آئی اے کے سربراہ ائر مارشل ریٹائرڈ ارشد چوہدری استعفیٰ دیں۔ کیونکہ طیارے کے حادثے کے اصل ذمہ دار ایئر مارشل ارشد ملک اور لازمی سروسز خدمات کا قانون ہے۔ اے آر وائی جیسا اسٹیبلشمنٹ نواز نیوز چینل کل یہ خبر دے رہا تھا کہ حادثے کی شکار ایئر بس میں پہلے سے ہی فنی خرابی تھی جس کے متعلق انجینئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے متعدد بار انتظامیہ کو خطوط لکھے گئے تھے۔

پیپلز کرونا کمیشن بنایا جائے: حکومت کی بجائے ڈاکٹرز اور ماہرین حکمت عملی بنائیں

اندریں حالات، ہم ’جدوجہد‘ کے فورم سے پاکستان بھر کے شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تجارتی میڈیا کے گمراہ کن بیانئے کی بجائے ماہرین ِصحت، ڈاکٹر حضرات اور منطقی سوچ رکھنے والے عناصر کی بات پر توجہ دیں۔ سماجی دوری اور دیگر ہدایات پر عمل درآمد جاری رکھیں۔

پاکستانی صحافت کے اصل ہیرو!

’روزنامہ جدوجہد‘ان چاروں بہادر صحافیوں کو خراج ِعقیدت پیش کرتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ ان چاروں کی شروع کی ہوئی جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔

شہزادی ہند بمقابلہ ہندو طالبان: جبر اور استحصال آمنے سامنے

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی مذہبی اقلیتیں ہوں یا خلیج اور پاکستان کے محنت کش، ان کے انسانی حقوق کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب مذہبی جنونی قوتوں اورغیر جمہوری قوتوں کو طبقاتی بنیادوں پر شکست دی جائے گی۔