دنیا

کورونا اور سرمایہ داری: انسانیت کے لئے خطرہ

اس سے پہلے کہ یہ نظام انسانوں کی وسیع اکثریت کو مزید تاراج کرے ان تمام وسائل اور ذرائع پیداوار و ترسیل کو عالمی پیمانے پر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دے کر منصوبہ بند معیشت کے ذریعے ایک صحت مند اور اشتراکی انسانی معاشرہ تخلیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو ہر قسم کے استحصال، جبر، مانگ اور ضرورت کی ”وبا“سے پاک ہو۔

امریکہ: کورونا وبا اور بدلتا سیاسی شعور!

ایک بار پھر برنی سینڈرز کی پسپائی اور ناکامی سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ حکمران طبقات کی سیاسی پارٹیوں کے ذریعے معمولی اصلاحات کا پروگرام بھی آگے نہیں بڑھایا جا سکتا ہے۔

کرونا امریکہ میں: عدم مساوات اور نسلی امتیاز کے نئے زاویے!

ن حالات کی روشنی میں یہ کہنا کہ کرونا وائرس بلا رنگ ونسل سب کے لئے ایک جیسی مہلک وبا ہے اب ایک مذاق سا لگتاہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ وبا سماج کے مراعات یافتہ اور امیر طبقوں کے لیے اتنی مضر نہیں جتنی نچلے طبقوں کے لیے ہے۔ بلا شبہ آج دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ دار ملک میں کرونا وائرس نے معاشی عدم مساوات اور نسلی امتیاز کے ان زاویوں کو مزید اجاگرکردیا ہے جو ملک کے پس ماندہ طبقوں کے لئے دو دھاری تلوار سے کم نہیں

کرونا: عالمی تجارت میں 32 فیصد تک کمی کا خطرہ

پاکستان کی ریاستی اور سیاسی مشینری اس سے زیادہ نااہل، ناقابل اور بیکار کبھی تاریخ میں نہیں نظر آئی۔ اس بحران نے اسے بالکل ہی ننگا کردیا ہے۔ اس بحران میں ریاست کا کردار ایک دور کھڑے تماشائی سے زیادہ نہیں ہے۔ مکمل معاشی لاک ڈاؤن ہوئے 20 سے زائد دن گزر چکے ہیں لیکن وزیر اعظم پاکستان نے”گھبرانا نہیں ہے“ کے کھوکھلے نعرے سے علاوہ کوئی عملی اور ٹھوس کام نہیں کیا۔

وینزویلا: کورونا وبا اور سامراجی وار!

انقلاب کی پیش قدمی میں سب سے بڑی رکاوٹ سوشلسٹ پارٹی کی اصلاح پسند قیادت اور صدر مادورو کی مصالحت کی روش ہے۔ منڈی کی معیشت اور ایک منصوبہ بند معیشت دو متضاد چیزیں ہیں اور بیک وقت ان دو متضاد نظاموں کو چلانا ناممکن ہے۔