تاریخ

جب ویسٹ انڈیز نے کرکٹ کو کلونیل ازم کے خلاف محاذ جنگ بنا دیا

لگ بھگ پندرہ سال تک ہولڈنگ اور ان کی ٹیم ناقابل شکست رہے۔ اس شاندار کارکردگی کے پیچھے یہ جذبہ بھی تھا کہ ہم نے اپنے سابق آقاؤں سے بدلہ لینا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ تاریخ کا گہرا شعور رکھتے تھے جس کی وجہ سے وہ پوری دنیا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ مائیکل ہولڈنگ اس ٹیم کے تاج کا ہیرا تھے۔

امریکہ میں انسانی حقوق اور مساوات کے دو رہنما ایک ہی دن انتقال کر گئے

سابق صدر اوبامہ نے جان لو ئیس کی طرح سی ٹی ویوین کوبھی وائٹ ہاؤس میں آزادی کے صدارتی میڈل سے نوازا۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان دونوں رہنماؤں کی ان تھک جدوجہد اور قربانیوں کا ہی نتیجہ تھاجس نے صدر اوبامہ جیسے افریقی النسل رہنما کو امریکہ کے ایوانِ اقتدار میں پہنچایا اور اقلیتوں کو ان کے حقوق کا احساس دلایا۔

سندھ: قوم پرست سیاست اور طبقاتی جدوجہد کا المیہ

اسی شہری سندھ میں عوامی سیاست، جماعتیں اور تحریکیں بھی جنم لیتی رہیں ہیں۔ ایوب آمریت سے لے کر ضیا تک کے خلاف سندھ کے شہر تحاریک کے مرکز رہے، فاطمہ جناح کو یہاں سے حمایت ملی۔ انہی شہروں نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کو جنم دیا، عوامی نیشنل پارٹی یہاں مقبول رہی۔ ان شہروں نے ہر آمر کے خلاف سینہ سپر کیا۔ یہاں سے پیپلز پارٹی کو کارکن ملے۔ سندھی قوم پرستوں سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ وہ سندھ کے عوام کو طبقاتی بنیادوں پر منظم نہیں کر سکے۔

بھارتی کشمیر: تاریخ میں پہلی مرتبہ 13 جولائی کی تقریبات پر پابندی

کشمیر کے سب ہی خطوں میں رہنے والے چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی، یا مذہبی فرقہ سے ہو خود کو 13 جولائی 1931ء کے شہدا کا وارث قرار دیتے ہیں اور اس دن کو استحصال، جبر و استبداد اور غلامی کے خلاف ایک قومی دن کے طور پر مناتے ہیں۔

پانچ جولائی: پاکستان میں فوجی آمریت کے جمہوری ہیروز کی یاد میں کچھ بھی نہیں

فلپائن میں کیوزون سٹی میں 2000ء میں ایک میوزیم بنایا گیا۔ جس کا نام ہے ’ہیروز کی یادگار‘۔ یہ میوزیم بھی ہے اور ریسرچ سنٹر بھی۔ یہ میوزیم ان ہیروز کی یاد تازہ کرتا ہے جنہوں نے فرنینڈ مارکوس کی 21 سالہ آمریت کے خلاف جدوجہد اور قربانیاں دیں۔ فرنینڈ مارکوس نے 1965ء سے 1986ء تک فلپائن پر فوجی آمریت کے ذریعے حکومت کی تھی۔

5 جولائی کا شب خون: ”ضیا کو مار دو!“

’جدوجہد‘کا پہلا سر ورق، کامریڈ لال خان کی تحریریں اور ان کے آخری الفاظ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ 5 جولائی1977ء کا انتقام صرف سوشلسٹ انقلاب ہے جس سے ضیا الحق کی باقیات کو حتمی شکست دی جا سکتی ہے۔

اسامہ کی موت نہیں سیاسی انجام سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے

جب اکیسویں صدی کی تاریخ لکھی جائے گی، اسامہ بن لادن شائد ایک فُٹ نوٹ بھی نہ بن پائے کیونکہ نہ تو تاریخ کا خاتمہ ہوا ہے نہ ہی کوئی تہذیبوں کا تصادم ہو رہا تھا۔ اصل لڑائی طبقاتی اور انقلابی ہے۔ اس لڑائی میں القاعدہ اور سامراج ایک دوسرے کے اتحادی تھے اور جب مسلم دنیا میں طبقاتی لڑائی تیز ہو گی تو یقین کیجئے پوری مسلم دنیا کے اسامے اور القاعدے چچا سام کی گود میں بیٹھے ہوں گے۔