تاریخ

کرونا کے مزدوروں پر حملے، یوم مئی اور تاریخ

اس معروضی پس منظر میں اس سال یوم مئی منایا جا رہاہے کہ 1930ء کی دہائی کی کساد بازاری اب دوبارہ ہر ایجنڈے پر واپس آ گئی ہے۔ یہ یوم ِمئی صحت کی سلامتی اور ملازمتوں کے تحفظ کے لئے منایا جا رہاہے۔ اس صورت حال میں ایک محنت کش کا یہ جملہ بہت کچھ عیاں کر دیتا ہے، ”کرونا مارے نہ مارے، بھوک ہمیں ضرور مار دے گی“۔

عرفان

گذشتہ روزکہیں ٹرانسفر ہو گئے”انتقال کو انگریزی میں ٹرانسفر ہی کہتے ہیں نا“۔

اُدھم سنگھ سے رام محمد سنگھ تک

جلیانوالہ باغ قتل ِعام کا بدلہ لینے والے اُدھم سنگھ نے عدالت میں اپنا نام رام محمد سنگھ آزاد اور مذہب ہندوستان بتایا اور کہا حلف ہیر وارث شاہ پر اٹھاؤں گا۔

پھانسی گھاٹ پر میکڈونلڈز

اپنی آخری تقریر میں بھٹو نے امریکہ سے (غلط طور پر) کہا تھا کہ ”پارٹی از ناٹ اوور۔“ امریکہ، فوجی آمریت اور مراعات یافتہ طبقوں نے محنت کش طبقے کی پارٹی پر 1977ء میں جو شب خون مارا تھا، بھٹو کے پھانسی گھاٹ پر بنا ہوا میکڈونلڈز اور اس میں کولا کے ساتھ بے مزابرگر کھانے والے بے فکرے مڈل کلاسئے اس شب خون کا تسلسل ہیں۔

’آپ کے اندر کا انقلابی مرنا نہیں چاہئے‘

”انقلاب کیلئے جذباتیت یا خون خرابے کی بجائے مستقل مزاجی سے کی جانے والی جدوجہد، پیش قدمی اور قربانی چاہیے۔ سب سے پہلے ذاتی تسکین کے خوابوں سے چھٹکارا پانا ہو گا… مشکلات اور مصائب آپ کو مایوس نہ کریں۔ نہ ہی ناکامی اور غداریوں سے دل برداشتہ ہوا جائے۔ جتنی بھی مشقت کرنی پڑے، آپ کے اندر کا انقلابی مرنا نہیں چاہیے۔ ان امتحانات سے گزر کر ہی آپ کامیاب ہو ں گے اورآپ کی فتح ہی انقلاب کا اثاثہ ہو گی“۔