مہینہ: 2020 اپریل

عرفان

گذشتہ روزکہیں ٹرانسفر ہو گئے”انتقال کو انگریزی میں ٹرانسفر ہی کہتے ہیں نا“۔

کرونا کے مزدوروں پر حملے، یوم مئی اور تاریخ

اس معروضی پس منظر میں اس سال یوم مئی منایا جا رہاہے کہ 1930ء کی دہائی کی کساد بازاری اب دوبارہ ہر ایجنڈے پر واپس آ گئی ہے۔ یہ یوم ِمئی صحت کی سلامتی اور ملازمتوں کے تحفظ کے لئے منایا جا رہاہے۔ اس صورت حال میں ایک محنت کش کا یہ جملہ بہت کچھ عیاں کر دیتا ہے، ”کرونا مارے نہ مارے، بھوک ہمیں ضرور مار دے گی“۔

پاکستانی یونیورسٹیاں ہمیشہ کے لئے بند کر دی جائیں

جو ملک ستر سال سے دیوالیہ پن کا شکار ہو اسے اکنامکس کے ڈیپارٹمنٹ تو کھولنے ہی نہیں چاہئے تھے۔ ویسے بھی جب ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف اتنے پڑھے لکھے ماہرین ِمعاشیات ہر طرح کے ٹیکس لگانے اور مہنگائی کرنے کے لئے ہمارے ہاں بھیج دیتے ہیں تو اکنامکس کے شعبہ جات بند کرنے میں ہرگز کوئی حرج نہیں ہو گا۔

چینی جیسے غیر منافع بخش کاروبار کے لئے 78 شوگر ملیں کیوں لگائی گئیں؟

۔ آپ پاکستان کے کسی بھی سیاستدان کا نام لے لیں تو وہ چینی کی صنعت کا سرمایہ دار نکلے گا۔ اس دھندے میں پنجاب کا تقریباًہر سیاسی خاندان، لاہور کے شریفوں سے لے کر گجرات کے چودھریوں تک اور سرگودھا کے چیموں سے لے کر جہانگیر ترین تک شامل ہیں۔ یہاں ہمایوں اختر اور اس کے اہل خانہ کا نام مت بھولیں۔