تاریخ

5 جولائی کا شب خون: ”ضیا کو مار دو!“

اویس قرنی

تینتالیس سال قبل کا 5 جولائی اس خطے کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے جب جنرل ضیا الحق نے پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت پر شب خون مارا۔ یہ فوجی آمریت سامراجی آقاؤں کی پشت پناہی سے مسلط کی گئی جس کے مہلک اثرات یہاں کے سماج، سیاست، ثقافت اور دانش پر آج  تک حاوی ہیں۔

زیر نظر تصویر 80ء کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں شائع ہونیوالے جریدے ”جدوجہد“ کا سر ورق ہے۔ ’جدوجہد‘ ایک جریدے کے ساتھ ساتھ ضیائی مارشل لا کے عہد میں پاکستان سے جلا وطن ہونیوالے سیاسی نوجوانوں کی انقلابی تنظیم کی شکل اختیار کر رہا تھا۔ جس کی بنیادیں ایمسٹرڈیم میں رکھی گئیں۔ آج یہ ایک انقلابی سوشلسٹ رجحان کی حیثیت سے ملک گیر اور بین الاقوامی وجود رکھتا ہے۔ آج بھی یہ رسالہ پندرہ روزہ ”طبقاتی جدوجہد“کے نام سے تواتر سے شائع ہو رہا ہے۔

چار دہائیوں سے زائد کے اس عرصے میں اس جریدے کے مدیران کئی وجوہات کی بنیاد پر بدلتے رہے لیکن ایک نام جو ہمیشہ اس کے ادارتی بورڈ کا حصہ رہا وہ کامریڈ لال خان تھے۔ 80ء کے عشرے میں جدوجہد رسالے کے غالباً پہلے شمارے کی شہ سرخی ”Smash Zia!“ اور 22 فروری 2020ء کے کامریڈ لال خان کے اپنے بیٹے کو کہے گئے آخری الفاظ ”ضیا کو مار دو!“ اس عظیم مارکسی استاد کی زندگی کی ساری کہانی بیان کرتے ہیں۔

”ضیا کو مار دو!“ سے مراد سرمایہ داری کی اس فسطائی اور کالی رات کا خاتمہ ہے جس نے محنت کشوں کی نسلیں برباد کر دی ہیں۔ کامریڈ لال خان کی اہلیہ اور جدوجہد کی ساتھی کامریڈ صدف تنویر نے لاہور میں منعقد ہونیوالے کامریڈ لال خان کے تعزیتی ریفرنس میں اس جملے کے بارے کہا تھا ”ضیاایک استعارہ ہے جبر کا، ان حکمرانوں کے استحصال کا… کامریڈ لال خان نے نیم بے ہوشی میں ہم سب کو یہ پیغام دیا کہ ان ظالم حکمرانوں کو مات دو… اس ضیا کو مار دو جس نے ہماری نسلوں کو تباہ کیا… ہمیں یہ عزم لے کر چلنا ہے کہ ہم اپنے عمل اور جدوجہد سے ضیا الحق کو اس معاشرے سے ہمیشہ کے لئے مٹا دیں۔“

ضیائی فسطائیت آج بھی پورے معاشرے کو اوپر سے نیچے تک گھائل کیے ہوئے ہے۔ حاکمیت پر براجمان آج کے نودولتیے سرمایہ دارحکمرانوں کے آدرش ضیائی ملائیت پر کھڑے ہیں۔ ریاست میں شامل یہ رجعت آج چار دہائیوں بعد گہری ہی ہوئی ہے۔ جولائی 2018ء میں روزنامہ دنیا میں کا مریڈ لال خان نے لکھا تھا، ”ضیا الحق کی ’اسلامائزیشن‘ سامراجیوں کی ہی ترغیب اور حمایت سے تھی۔ اس کے خارجی اور داخلی دونوں طرح کے عزائم تھے۔ بیرونی محاذ پر افغانستان کے ثور انقلاب کو برباد کرنے کے لئے اسے استعمال کیا گیا۔ داخلی میدان میں اسے ہر ترقی پسند اور انقلابی رجحان کو کچلنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ ظلم و جبر کی انتہائیں ہوئیں۔ کوڑوں اور پھانسیوں کا دستور رائج ہوا۔ رجعت کے اس جبر نے معاشرے میں ایسی منافقت کو جنم دیا جو بالخصوص درمیانے طبقات میں آج تک عام ہے۔“

اس ظلمت کے نقوش پر کامریڈ لال خان کی کئی تحریریں ہیں جن میں انہوں نے ان رجعتی اور ردِ انقلابی رجحانات کا مارکسی نقطہ نظر سے تناظر تخلیق کیا۔ انہوں نے لکھا”آج کئی دہائیوں بعد بھی ضیا کی مہلک وراثت‘ ریاست، سماج، اخلاقیات اور سیاست پر حاوی ہے۔ اس کا متعارف کروایا ہوا کلاشنکوف کلچر، منشیات کی سمگلنگ اور استعمال، دہشت گردی، رجعتی سماجی رویے، خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرتیں سماج میں کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ضیا کے بر سر اقتدار آنے پر پاکستان میں ’متوازی‘ یا کالی معیشت کا حجم صرف 5 فیصد تھا۔ آج یہ73 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ منشیات کے تاجروں، دہشت گرد ملاؤں، پراپرٹی ڈیلر سیٹھوں، ریاستی اداروں کے حکام، سیاست دانوں اور نو دولتی سرمایہ داروں کی بے پناہ دولت ہی وہ کالا دھن ہے جو ایک ناسور کی طرح پاکستان کی معیشت اور سماج کو کھائے جا رہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں، ریاستی ادارے، مافیا نیٹ ورک اور مذہبی فرقہ وارانہ جتھے سب اس سے کنٹرول ہوتے ہیں اور اشرافیہ مذہب کے نام پر پرہیز گاری کے لائسنس اور تحفظ حاصل کرلیتی ہے۔“

لیکن اس طویل رات کا از خود انت نہیں ہوسکتا۔ جیسے کامریڈ لال خان نے لکھا کہ ”فرسودہ پاکستانی سرمایہ داری نے ایک قدامت پرست ریاست تشکیل دی ہے جس میں ضیا کی باقیات اور میراث جاری و ساری ہیں۔ سماجی، معاشی، ثقافتی اور اخلاقی رجعت اس کی پیداوار ہیں۔ اس نظام کا خاتمہ اور اسے تبدیل کیے بغیر اس جبر سے سماج کی نجات ممکن نہیں ہے۔ چار دہائیوں سے جاری یہ بھیانک خواب اب صرف انقلاب کے سرخ سویرے سے ہی ختم ہو سکتا ہے۔“

’جدوجہد‘کا پہلا سر ورق، کامریڈ لال خان کی تحریریں اور ان کے آخری الفاظ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ 5 جولائی1977ء کا انتقام صرف سوشلسٹ انقلاب ہے جس سے ضیا الحق کی باقیات کو حتمی شکست دی جا سکتی ہے۔

Awais Qarni

اویس قرنی ’ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ‘ کے مرکزی آرگنائزر ہیں اور ملک بھر میں طلبہ کو انقلابی نظریات پہ منظم اور متحرک کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔