دنیا

اسلام آباد کا مندر ہو یا بابری مسجد: مذہبی فتنے کھڑے کر کے سیاست میں جگہ بنائی جاتی ہے

فاروق سلہریا

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر عملاً رک گئی ہے۔ مستقبل قریب میں اس مندر کی تعمیر ممکن نظر نہیں آتی۔ اس واقعے سے چند اسباق سیکھنے اور دہرانے کی ضرورت ہے:

۱۔ بعض لبرل حضرات اور بسا اوقات بائیں بازو کے حلقے بھی یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ مولوی ریاستی پشت پناہی کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ دیا جاتا ہے کہ انہیں کبھی اکثریت نے ووٹ نہیں دیا۔ کچھ’مطالعہ پاکستان‘ ٹائپ مڈل کلاس لبرل حضرات بالخصوص بھارت کے مقابلے پر پاکستان کو بہتر ثابت کرنے کے لئے، ایسی تاویلیں دیتے نظر آئیں گے۔ بتایا جائے گا کہ دیکھئے وہاں تو بار بار بی جے پی اکثریتی جماعت بن کر ابھری مگر ہمارے ہاں مولویوں کو کبھی اکثریت نے ووٹ نہیں دئے۔

میری دلیل اس کے بالکل بر عکس ہے۔ میرا دعویٰ یہ ہے کہ مذہبی جنونی قوتیں بغیر اکثریت کا ووٹ لئے ملک پر حکومت کر رہی ہیں۔ ویسے بھی ہمارے ہاں جب پاپولر طریقے سے منتخب جمہوری حکومت آئے تو وہ دراصل حزبِ اختلاف ہوتی ہے۔

یہ مت دیکھئے حکومت کس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ دیکھنا چاہئے، ریاست کی باگ ڈور کس کے پاس ہے۔ جن اسٹیبلشمنٹ والوں کے پاس ریاست پاکستان کی باگ ڈور ہے، انہیں نہ ووٹوں کی یا اکثریت کی ضرورت ہے نہ وہ کبھی اس چکر میں پڑے۔ مولوی اسٹیبلشمنٹ کی سماجی، سیاسی، ثقافتی اور نظریاتی ایکسٹینشن ہیں۔ علاوہ ازیں، مولوی حضرات کی اسٹیبلشمنٹ سے ہٹ کر بھی ایک وسیع سماجی بنیاد ہے۔ صرف مدرسوں اور مسجدوں کے نیٹ ورک کے اعداد و شمار پر کبھی ٹھنڈے دل سے غور کیجئے گا اور پھر بتائیے گا کہ مولوی ریاستی پشت پناہی کے بغیر بھی ایک زبردست طاقت کے حامل ہیں یا نہیں۔

یہ ان کی طاقت کا ہی اظہار ہے کہ آج اسلام آباد میں مندر نہیں بنایا جا سکا۔ یہ ان کی طاقت ہے کہ آج کسی میں یہ جرات نہیں کہ وہ ضیا عہد کے بلاسفیمی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کر سکے۔ جب یہ قوانین منظور ہوئے تھے، تو سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، میڈیا کے بہت سے حصوں، این جی اوز اور سب سے بڑھ کر ہمارے مذہبی اقلیتوں کے نمائندوں نے ان قوانین کی مخالفت کی۔ یہاں تک کے ضیا الحق کی بنائی ہوئی جعلی، غیر نمائندہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے بھی اس کی مخالفت کی۔ لاہور کے مال روڈ پر بلاسفیمی قوانین کے خلاف جلوس نوے کی دہائی کے آخر تک نکلتے رہے۔ بشپ جان جوزف جنہوں نے ان قوانین کے خلاف احتجاجاً خود کشی کی، ان کی موت کے موقع پر لاہور میں دس ہزار کا جلوس نکلا (جسے شہباز شریف کی پولیس نے دل کھول کر پیٹا)۔

بلاسفیمی قوانین کو چھوڑئیے۔ کسی بھی ایسے سوال کو لے لیجئے جس کو مولوی حضرات اپنی اجارہ داری بنا چکے ہیں، اس پر ریاست، فوج، حکومت، میڈیا، سیاسی جماعتیں…کسی کی جرات نہیں کہ مولوی کی مخالفت کر سکے۔ جس عسکری ریاست میں فوجی چیف کو اپنا فرقہ مولویوں کے سامنے ثابت کرنے کے لئے نعت خوانی اور قرآن خوانی کرانی پڑے، وہاں یہ کہنا کہ مذہبی بنیاد پرستوں کی کوئی حیثیت نہیں، در اصل انتہا درجے کی خود فریبی، بلکہ حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اور تو اور رویت ہلال کمیٹی کا چیئرمین کسی سپیس سائنٹسٹ (جس کا یہ کام ہے) کو لگا کر دکھا دیجئے۔

دوسرے الفاظ میں: یہ مت دیکھئے کہ مذہبی جنونیوں کا حکومت اور ووٹوں میں کتنا حصہ ہے (ایک عسکری ریاست میں ووٹ اور نام نہاد حکومت دونوں ہی مضحکہ خیز حقیقت کے سوا کچھ نہیں ہوتے)، یہ دیکھئے طاقت میں مولوی حضرات کا کتنا حصہ ہے۔

رہی بات ووٹوں کی تو نہ صرف دو صوبوں میں وہ 1970ء سے حکومت میں چلے آ رہے ہیں بلکہ ضیا دور سے وفاقی حکومت کا بھی حصہ ہیں۔ اس سے بھی خطر ناک بات یہ کہ مسلم لیگ/تحریک انصاف اور جماعت اسلامی /جمعیت علمائے اسلام کی سیاست اور مذہبی موقف میں کوئی فرق نظر آئے تو راقم کو ضرور مطلع کیجئے گا۔ رہی بات پی پی پی یا اے این پی وغیرہ کی تو ان سے بڑا موقع پرست عصر حاضر کی تاریخ میں کوئی ہو تو وہ بھی راقم کے لئے باعث دلچسپی ہو گا۔ جو کام مسلم لیگ اور تحریک انصاف نہ کر سکی، پی پی پی نے کئے۔

قصہ مختصر: بنیاد پرست مذہبی حلقے سیاست کو اس حد تک رائٹ ونگ بنا چکے ہیں کہ ان کو حکومت یا ووٹ کی خاص ضرورت ہی نہیں۔

۲۔ ابھی چند مہینے پہلے ہم نے دیکھا کہ نارووال میں مشرقی پنجاب کی سکھ برادری کے لئے ایک کوریڈور بھی بن گیا اور کسی مذہبی جماعت یا ملا نے کرتار پور دربار صاحب والے مسئلے پر آہ و بکا نہیں کی۔ اسلام آباد کا مندر مگر وجہ نزاع بن گیا۔ وجہ یہ تھی کہ مندر بنانا حکومت کا فیصلہ تھا۔ کرتار پور پراجیکٹ اسٹیبلشمنٹ کا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کوئی منصوبہ شروع کرے تو اسٹیبلشمنٹ کی ایکسٹینشن جلا وطنی اختیار کر لیتی ہے (دونوں میں بعض اوقات اختلافات بھی ابھرتے ہیں مگر بنیادی باتوں پر اتفاقِ رائے رہتا ہے)۔

۳۔ مذہبی مدعے کھڑے کر کے بنیاد پرست سیاست میں اپنے لئے جگہ بناتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی تازہ مثال تو خادم رضوی کی پارٹی ٹی ایل پی ہے۔ اس گروہ نے سلمان تاثیر کی موت پر موبلائزیشن کی۔ ریاست نے نواز حکومت کے خلاف اسے استعمال کیا۔ گذشتہ انتخابات میں اس پارٹی نے ملک بھر میں تقریباً چار فیصد ووٹ حاصل کئے۔

پڑوسی ملک بھارت کی مثال لیجئے۔ بابری مسجد کے انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت انہدام کے بعد ہی بی جے پی پہلی مرتبہ سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرنا شروع ہوئی۔

ابھی اسلام آباد میں مندر کے مسئلے کو دیکھ لیجئے۔ پرویز الٰہی یا ق لیگ کی گجرات سے باہر کوئی وقعت باقی نہیں۔ مندر کے مسئلے پر پرویز الٰہی نے مخالفانہ موقف لیا اور وہ مین اسٹریم ہو گئے۔ بھلے وقتی طور پر ہی سہی۔ اگر ق لیگ کے پاس مذہبی جماعتوں کی طرح مدرسے کا کیڈر ہوتا تو وہ اس سے زیادہ دیرپا فائدہ اٹھا سکتے تھے۔

اسی تناظر میں ایک مرتبہ پھر ذرا خادم رضوی یا ٹی ایل پی کا جائزہ لیجئے۔ ان کے پاس معیشت، سیاست، عالمی حالات، سامراج، خواتین، مزدور طبقے، ماحولیات کے بحران، صحت، تعلیم، بیروزگاری، مہنگائی، زرعی مسائل اور ایسے درجنوں دیگر مسائل پر عوام کی رہنمائی کے لئے کہنے کو کچھ نہیں۔ الٹا جب مولانا خادم رضوی سیاست یا معیشت پر کوئی ویڈیو بیان جاری کرتے ہیں تو بہت سے لوگ تفنن طبع کے لئے اسے سنتے ہیں نہ کہ رہنمائی کے لئے۔

جماعت اسلامی جیسے زیادہ سنجیدہ گروہوں کے پاس بھی روایتی نعرے بازی کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے ان بنیاد پرست قوتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی مذہبی مسئلہ کھڑا کیا جائے۔ مذہب کی بنیاد پر مسائل کھڑے ہوں گے تو مذہبی حلقوں کا کوئی فائدہ ہو گا۔ وہ قومی بیانئے کا حصہ بن جائیں گے۔ وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور یوں پبلک لائف میں نمایاں ہو سکیں گے۔ مذہبی مسائل مرکزی اہمیت اختیار کریں گے تو دلیل اور دانش پچھلی سیٹ پر اور جذبات ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لیں گے۔

۴۔ مندرجہ بالا صورت حال کافی مایوس کن ہے۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟

سب سے پہلے تو حالات کا صحیح ادراک ضروری ہے۔ مذہبی جنونیت اور بنیادپرستی، اس کی سیاسی و سماجی بنیادوں اور ریاست کے ساتھ اس کے تعلقات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان قوتوں کو ریاست کی محض پراکسی کہہ کر رد کر دینا انتہائی خطر ناک ہوگا۔ دوم، اصولوں پر سمجھوتے بازی کی بجائے (جیسا کہ پی پی پی یا اے این پی مسلسل کرتے آ رہے ہیں) سیکولر ازم کے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے، ان مذہبی ڈھونگیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے، سیاست کا محور طبقے اور انسانی حقوق کوبنانے کی جدوجہد جاری رہنی چاہئے۔

اس سلسلے میں بیانئے کی جنگ اہم ہے مگر یہ جنگ بغیر تنظیم سازی کے ممکن نہیں۔ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی جنونیوں کی ساکھ کو پچھلے عرصے میں زبردست دھچکے بھی لگے ہیں۔ جو خلا پیدا ہوا ہے یا جب بھی پیدا ہو، اسے پر کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ جدوجہد ہی امید کا واحد سرچشمہ ہے اور یہ جنگ بہت طویل ہے۔ بغیر ایکشن یعنی عمل کے کسی بھی معاشرے میں طاقتوں کا توازن نہیں بدلتا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ تبدیلی کی ضرورت ہے تو پھر جدوجہد میں حصہ لیجئے۔ بے عمل لوگوں کو تنقید کا بھی کوئی حق نہیں ہوتا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔