دنیا

دنیا کے امیر ترین شخص سے امریکی سوشلسٹ کا ’انقلابی بدلہ‘

فاروق سلہریا

یادش بخیر! اس صدی اور ہزاری کے آغاز پر امریکی شہر سیاٹل دنیا بھر میں شہ سرخی بنا ہو اتھا۔ سیاٹل میں ڈبلیو ٹی او کا اجلاس ہو رہا تھا۔ دوسری جانب پوری دنیا سے ترقی پسند سیاسی کارکن ڈبلیو ٹی او کے خلاف مظاہرے کے لئے جمع ہو رہے تھے۔ یہ مظاہرے اتنے بڑے تھے کہ ’مادرِ جمہوریت‘کو سیاٹل میں مارشل لا لگانا پڑا۔ تھوڑی دیر کے لئے دنیا بھر کے لوگوں نے دیکھا کہ عوامی قوت کے سامنے دنیا کی طاقتور ترین سامراجی قوت بھی سرنگوں تھی۔

سیاٹل کی انقلابی اور ترقی پسندانہ روایات بہت پرانی ہیں۔ اس کا ایک اظہار 2014ء میں بھارتی نژاد امریکی سوشلسٹ کشاما سوانت کا الیکشن تھا۔ سو سال بعد جب کوئی انقلابی سوشلسٹ سیاٹل سٹی کونسل میں پہنچا تو کم از کم بائیں بازو نے دنیا بھر میں اس خبر کو دلچسپی سے پڑھا۔

کشاما سوانت جب 2019ء میں دوسری مرتبہ سیاٹل سٹی کونسل کی رکن بنیں تو یہ ایک عالمی خبر بن گئی کیونکہ ان کا الیکشن مسلسل خبروں میں تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ کشاما سوانت کو ہرانے کے لئے ایما زن نے ان کے مخالف امیدوار کو دل کھول کر چندہ دیا تھا۔ مجموعی طور پر ایمازون نے سیاٹل کے ضلعی الیکشن میں ڈیڑھ ملین ڈالر کا فنڈ دیا۔ ایمازون کے علاوہ مائیکروسافٹ اور بوئنگ جیسی کھرب پتی کارپوریشنز بھی کشاما سوانت کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن میں فنڈنگ کر رہی تھیں۔

یوں یہ انتخاب براہ راست ایمازون کے مالک جیف بیزوس اور کشاما سوانت کے مابین تھا۔ ادھر، کشاما سوانت کو ووٹ دینے کے لئے برنی سانڈرز نے بھی اپیل کی تھی۔ 5 نومبر کو ہونے والے اس انتخاب میں کشاما سوانت فاتح رہیں۔ چار دن پہلے: 6 جولائی سیاٹل کی انقلابی تاریخ کا ایک اور اہم دن اور کشاما سوانت کی جدوجہد کی ایک اور علامت بن کر سامنے آیا۔ سیاٹل سٹی کونسل نے ایمازن ٹیکس نافذ کر دیا (اس ٹیکس بارے مزید تفصیلات ذیل میں پیش کی گئی ہیں)۔ اس نئے ٹیکس قانون کے مطابق شہر کی تین فیصد امیر ترین کارپوریشنز کو ایک خصوصی ٹیکس دینا ہو گا جس کو بے گھر شہریوں کو چھت فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اس ٹیکس سے سالانہ 200 ملین ڈالر اکٹھے ہوں گے۔

اس ٹیکس کے لئے کشاما سوانت نے کئی سال جدوجہد کی۔ کشاما سوانت کی جدوجہد سے یہ سبق بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ سوشلسٹ نہ انفرادی دہشت گردی پر یقین رکھتے ہیں نہ کسی انفرادی بدلے پر۔ وہ ’اجتماعی بدلے‘کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ایما زن اور جیف بیزوس کے خلاف اس فتح سے امریکہ میں سامراجی نظام ختم نہیں ہو گا مگر ایسی کامیابیوں سے محنت کش طبقہ بے شمار سبق سیکھتا ہے، حوصلہ پاتا ہے، آگے بڑھتا ہے اور سوچتا ہے…آج اگر ایمازن کو وقتی شکست دی ہے تو کل کو اسے حتمی شکست بھی دی جا سکتی ہے۔ اگر ایک سرمایہ دار کو شکست دی جا سکتی ہے تو ساری سرمایہ داری کو بھی گرایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے اس ٹیکس کا راستہ روکنے کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکنز نے بھی کوشش کی۔ اس کامیاب جدوجہد نے ان لوگوں کے لئے ایک ممکنہ متبادل کی مثال بھی قائم کر دی ہے جو سمجھتے ہیں کہ ’کچھ نہیں ہو سکتا‘۔

کشاما سوانت کے بارے میں روزنامہ جدوجہد ماضی میں بھی رپورٹ کرتا رہا ہے۔ اس موقع پر ان کے بارے میں قارئین جدوجہد کے لئے کچھ دلچسپ معلومات ذیل میں دوبارہ پیش کی جا رہی ہیں۔

کشاما سوانت کا پہلا الیکشن

2014ء میں جب وہ پہلی بار کونسلر منتخب ہوئی تھیں تو تقریباً سو سال بعد کوئی سوشلسٹ کونسلر سیاٹل کی ضلعی حکومت میں انتخاب جیت کر پہنچا تھا۔ ان کا تعلق سوشلسٹ الٹرنیٹو سے ہے۔ ”سوشلسٹ الٹرنیٹو“ عالمی مارکسسٹ تنظیم”کمیٹی فار اے ورکرز انٹرنیشنل“ کا امریکی سیکشن ہے۔

2014ء میں جب بھارتی نژاد کشاما سوانت، سیاٹل سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئی تھیں تو بالخصوص بھارت میں اس خبر کو دلچسپی سے پڑھا گیا۔ بھارت میں میڈیا کو صرف ان کی بھارتی شناخت سے دلچسپی تھی مگر امریکہ اور دنیا بھر کے بائیں بازوکے لئے یہ خبر اس لئے اہم تھی کہ تقریباً ایک صدی کے بعد سیاٹل میں کوئی سوشلسٹ ایک سوشلسٹ جماعت کے ٹکٹ پر جیتا تھا۔ جب پچھلے سال انہوں نے دوبارہ الیکشن کی مہم شروع کی تو ایک سٹی کونسلر کا الیکشن پورے امریکہ کے لئے ایک خبر بن گیا کیونکہ جیف بیزوس سمیت کئی طاقتور امریکی کارپوریشنز ان کو ہرانا چاہتی تھیں۔

کارپوریشنز کشاما سوانت کو کیوں ہرانا چاہتی تھیں؟

کشاما سوانت اس مہم کی قیادت کر رہی تھیں جس کے نتیجے میں یہ قانون بنایا گیا کہ سیاٹل میں کام کرنے والی ایسی کارپوریشنز جن کی آمدن 20 ملین ڈالر سے زیادہ ہے، ان پر ”ہیڈ ٹیکس“ لگایا جائے گا اور یہ ٹیکس بے گھر افراد کو چھت فراہم کرنے کے لئے استعمال ہو گا۔

قانون بن گیا تو ایمازون اور سٹار بکس (Starbucks) جیسی بڑی کارپوریشنز نے اس قانون کے خلاف لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے مہم شروع کراد ی جس کے بعد شہری حکومت نے یہ قانون ختم کر دیا۔ اس قانون کے حق میں، اس وقت، کشاما سوانت سمیت صرف ایک اور کونسلر نے ووٹ دیا۔

اس مہم کی قیادت کی وجہ سے ہی کشاما سوانت بگ بزنس کی نظروں میں کھٹک رہی ہیں۔ کشاما سوانت نے معروف ترقی پسند امریکی جریدے ”دی نیشن“ کو الیکشن سے قبل ایک انٹرویو میں بتایا: ”اس سال انتخابات میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ سیاٹل (کی شہری حکومت) کو محنت کش طبقے نے چلانا ہے کہ چیمبر آف کامرس اور ایمازن نے“۔ ماضی میں وہ ایمازون کے سی ای او جیف بیزوس کو کھل کر ”دشمن“ قرار دے چکی تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کشاما سوانت کی ترقی پسند اور سوشلسٹ سیاست کو شکست دینے کے لئے ایک طرف اگر ارب پتی سرمایہ لگا رہے تھے تو دوسری طرف عام شہری دل کھول کر کشاما سوانت کوانتخابی مہم چلانے کے لئے چندہ دے رہے تھے۔ انہیں تقریباً نصف ملین ڈالر ز کا ڈونیشن ملا۔ اکثر چندہ دینے والے وہ مزدور اور نوجوان تھے جنہوں نے دس بیس ڈالر سے سو دو سو ڈالر تک کا چندہ دیا۔

کشمیر اور کشاما

کشاما سوانت ایک انٹرنیشنل اسٹ ہیں۔ وہ ہمیشہ دنیابھر کے مزدوروں اور محکوموں کی بات کرتی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس سال کے شروع میں سیاٹل سٹی کونسل نے ہندوستان کے شہریت ترمیم بل اور نیشنل رجسٹر برائے سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف قرارداد منظور کی اور بھارتی پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی آئین کی پاسداری کرے۔

سیاٹل کی سٹی کونسل کو امریکہ کی ایک طاقتور ترین سٹی کونسل سمجھا جاتا ہے۔ یہ قرارداد کشاما سوانت نے پیش کی تھی۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہندوستان مہاجرین کے حوالے سے جو بھی قانون بنائے، وہ قانون اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے۔

کشاما سوانت کا امریکہ میں سٹی کونسلر بننا اور سیاٹل سٹی کونسل کا شہریت ترمیم بل کے خلاف قرارداد منظور کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ دنیا میں کہیں بھی ترقی پسندوں کو کامیابی ملے، وہ دنیا بھر میں ترقی پسندی کی کامیابی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنونی اور مذہبی قوتیں کہیں بھی کامیابی حاصل کریں، دنیا بھر میں عوام کا نقصان ہوتا ہے۔

اس کی مثال بھی امریکہ اور ہندوستان کے حوالے سے دی جا سکتی ہے۔ جہاں کشاما سوانت ہندوستان میں آرٹیکل 370 اور شہریت ترمیم بل کے خلاف چلنے والی تحریک کے لئے سیاٹل سٹی کونسل کی حمایت کا باعث بنیں وہاں نریندر مودی جب امریکہ گئے تو اپنی بہت بڑی ریلی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بلایا اور ان کے لئے ووٹ مانگے۔

کشاما سوانت کی وکٹری سپیچ

ایمازن ٹیکس لاگو ہونے کے بعد سات جولائی کو کشاما سوانت نے ایک تقریر کی جو ان لنکس پر سنی اور پڑھی جا سکتی ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔