دنیا

یہاں تو سبزیاں بھی انڈیا دشمنی کا شکار ہو جاتی ہیں

 طاہر کامران

ترجمہ: فاروق سلہریا

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ یہ سر توڑ کوشش کی ہے کہ بھارت کو پاکستان کا ازلی دشمن بنا کر پیش کیا جائے۔ بطور پاکستانی ہماری پہچان ہی یہ ہے کہ ہم کچھ بھی ہو سکتے ہیں مگر انڈین نہیں۔

پاکستان کا سرکاری بیانیہ حد درجے کا بھارت مخالف رہا ہے۔ اگر کوئی انڈین ہندو ہے تو فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ کبھی بھی پاکستان کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ ایک پاکستانی کے ذہن میں انڈین ہندو کا خاکہ یہ ہے کہ وہ بد نیت، ناقابل اعتبار اور مسلمان دشمن ہوگا۔

پاکستان میں پیاز کی قلت ہوئی تو میرے ایک استاد نے پیاز خریدنے بند کر دئیے کیونکہ جو پیاز دکانوں پر بک رہا تھا، وہ ہندوستان سے آ رہا تھا۔ ہندوستان کو پاکستان کا دشمن بنا کر پیش کرنے کی سرکاری کوششوں کے باوجود تین چیزیں ایسی ہیں جو پاکستانی لبرل حضرات کی سیاسی خودی پر اثر انداز ہوئیں:گاندھی کا عدم تشدد، نہرو کی متنوع سوشل ڈیموکریسی او ابولکلام آزاد کا اسلامی روایت پر عمل پیرا رہتے ہوئے، کافی حد تک کامیابی سے، اس روایت کو جدید سیاست سے ہم آہنگ بنا دینا۔

یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ یہ وہ تین نظریاتی ستون تھے جن کے سہارے کلونیل ازم مخالف جدوجہد استوار ہوئی۔ یہی وہ نظریاتی ستون تھے جن کے سہارے وہ قوم پرستی کھڑی تھی جس کا اظہار نہرو دور کے اقدامات سے ہوتا ہے۔

انہی دانشوارانہ محرکات نے پاکستان کے مختلف لبرل حلقوں کو متاثر کیا۔ نہرو کے سوشل ڈیموکریٹک تجربے بارے جانکاری کا ایک اہم ذریعہ وہ کتابیں تھیں جو پاکستانی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی تھیں۔ تریپاتھی، بھنڈاری، موجمدار، تارا چند، وی ڈی مہاجن، محمد مجیب اور پروفیسر حبیب کی لکھی ہوئی کتابیں پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی تھیں۔

ان سکالرز کی تحریروں میں کانگریس سے وابستہ قوم پرستی کی جانب میلان واضح تھا۔ ان کتابوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں ذہن سازی کی۔ مزید یہ کہ پاکستان کے معروف لکھاریوں کا تقسیم کی جانب رویہ مخاصمانہ تھا۔ فیض، منٹو اور انتظار حسین کے تقسیم بارے کئی تحفظات تھے جو ان کی تحریروں میں نمایاں ہیں۔

ستم ظریفی دیکھئے کہ پاکستان میں تقریباََ پہلی دو دہائیوں تک کوئی ایسے مستند مصنف بھی سامنے نہیں آئے (تا آنکہ اشتیاق احمد قریشی اور شیخ محمد اکرم کی کتابیں شائع ہوئیں اور نسبتاََ ایک تسلسل کے ساتھ یہ کتابیں لوگوں تک پہنچیں بھی)۔ پاکستانی سیاست دانون کے بر عکس جنہوں نے کوئی قابل ذکر کتاب نہیں لکھی، جواہر لعل نہرو کی ’تلاشِ ہند‘ (ڈسکوری آف انڈیا)اور ان کی سوانح عمری پاکستان میں شوق سے پڑھی گئیں۔ اسی طرح ابولکلام آزاد کی کتاب ’آزادی ہند‘ (انڈیا ونز فریڈم) بھی بصد شوق پڑھی گئی۔

اسی طرح گاندھی کی خود نوشت نے نہ صرف ہندوستان کے لوگوں کو متاثر کیا بلکہ پاکستانی قارئین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ سامراج مخالف سیاست نے بھی پاکستان کے لیفٹ لبرل حلقوں اور ہندوستان کے سامراج مخالف سیاستدانواں کے درمیان ایک پل کا کام دیا۔

ہندوستان کے ساتھ پاکستانی لیفٹ لبرل حلقوں کا رومانس تب ٹوٹا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھارتی سیاست میں اہمیت اختیار کر گئی اور ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔

میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ بی جے پی کا ابھار یا امت شاہ اور نریندر مودی کا لیڈر بن کر سامنے آنا در اصل گاندھی، نہرو اور آزاد والی انڈین قوم پرستی کی ناکامی اور ہندو قوم پرستی کی کامیابی ہے۔ ہندو قوم پرستی نے ہر مخالف نظرئیے کو شکست دی ہے، بشمول انڈین قوم پرستی کے جس میں مذہب کو بطور سیاسی قوت خاص عمل دخل حاصل نہیں تھا۔ معاملات کو ان کے صحیح تناظر میں سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہندو قوم پرستی اور انڈین قوم پرستی کے فرق کو سمجھا جائے۔

نیرد سی چوہدری نے اپنی کتاب ’آٹو بائیو گرافی آف این اَن نوُن انڈین‘ (ایک نامعلوم ہندوستانی کی سوانح عمری) میں ہندو مڈل کلاس کے مسلمانوں بارے روئیے کے حوالے سے چار پہلو اجاگر کئے ہیں۔ اول، اس بنیاد پر مسمانوں سے دشمنی رکھنا کہ کسی دور میں مسلمانوں نے ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ دوم، عصر حاضر کے معاشرے میں ہندو کا مسلمان سے کوئی لینا دینا نہیں رکھا جاتا۔ سوم، ہندوووں کی مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے لوگوں کا برابر معاشی و سماجی رتبہ رکھنے والے مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس مسلمانوں سے تعلق داری رہتی ہے۔ چہارم، مسلمان کسان کی طرف وہی حقارت آمیز رویہ جو نیچ ذات کے ہندو وں کی طرف روا رکھا جاتا ہے۔

فرقہ وارانہ صورت حال بارے لگ بھگ ایسی ہی باتیں خوشونت سنگھ نے بھی اپنی کتابوں یا تقاریر میں کی ہیں۔ بمل پرساد ایسے ہی ایک اور سکالر ہیں جنہوں نے ہندووں اور مسلمانوں کے مابین گہری خلیج کا ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کے مابین کسی قسم کا سماجی و ثقافتی سنگم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

انیسویں صدی کے بنگالی ادب میں مسلمانوں کو ہمیشہ یوانا کے ہتک آمیز لقب سے پکارا جاتا تھا۔ بنکم چندر چیٹر جی (1838-1894)اور رومیش چندر دت (1848-1909)نے جو تاریخی رومانوی ناول لکھے ان میں مسلمانوں کے خلاف ہندووں کی بغاوتوں کی عظمت بیان کی گئی جبکہ مسلمانوں کے کردار کو مسخ کیا گیا۔

نیرد سی چوہدری کا کہنا ہے کہ وندے ماترم چیٹر جی کی تخلیق تھا اور چیٹر جی کی کتاب ’آنند متھ‘ مسلم دشمنی کا نمونہ تھی۔ نیرد سی چوہدری کے بقول: ’ہمارے ذہن میں مسلمانوں کا جو خاکہ بنا اس میں انیسویں صدی کے ادیبوں کی ان تحریروں کا بھی بڑا ہاتھ ہے جن میں مسلمانوں کا ذکر ہی غائب ہے“۔ گویا ہم عصر مسلمان بارے ہندو لا علم رہے۔ اگر لا علم رہنا ممکن نہیں تھا تو لاتعلقی اختیار کر لی گئی۔ ہندو قوم پرستی کامرکزی نقطہ نظر یہ تھا کہ مسلمانوں کو قوم سے خارج کر دیا جائے۔

برطانوی راج بھی ایک عنصر تھا جو ’اسلامی ثقافت کی ترویج اور ہندوں کی ہمدردی‘ کے راستے میں حائل ہوا۔ عہد قدیم کی ہندوستانی تہذیب دریافت ہوئی تو یہ عمل اور تیز ہو گیا۔ قدیم تہذیب کے احیا کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ ’انڈیا کے ہندوں کی تیزی سے ڈی اسلامائزیشن ہونے لگی جبکہ ہندو روایات کا احیا ہونے لگا‘۔

پوری انیسویں صدی میں ہندو کلچر کو پرانے دور کی سنسکرت روایات سے جوڑنے کا عمل جاری رہا۔ اگر کسی غیر ہندو روایت کے اثر و نفوذ کو قبل کیا گیا تو وہ یورپی روایت تھی۔ رام موہن رائے سے لے کر رابند ناتھ ٹیگور تک جتنے بھی مصلح اور مفکر آئے، انہوں نے اپنے کام کی بنیاد ہندو اور یورپی روایات کے انضمام پر رکھی۔ اسلامی روایات یا رجحانات نے ان کے شعور کو چھوا تک نہیں۔

اس ہندو قوم پرست حساسیت (sensibility)کا اثر ہر خطے میں ملے گا۔ پنجاب میں آریہ سماج شدھ ہندو مت کی بات کرنے والی ایسی ہی ایک تنظیم تھی۔ مہاراشٹر میں بال گنگا دھر تلک اور شمالی ہندوستان میں ہندو مہاسبھا ہندو قوم پرستی کے زبر دست پرچارک تھے۔

ہندو قوم پرستی اور انڈین قوم پرستی میں کیا فرق ہے، دونوں کا آپس میں کیسا تعلق تھا اور ہندو قوم پرستی کیوں کامیاب ہوئی۔ ۔ ۔ اس بارے اگلے کالم میں بات کی جائے گی۔

بشکریہ: دی نیوز آن سنڈے

Tahir Kamran

طاہر کامران بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، لاہور میں لبرل آرٹس کی فیکلٹی میں پروفیسر ہیں۔ تاریخ پر نصف درجن کتابوں کے علاوہ وہ کئی تحقیقی مقالات شائع کر چکے ہیں۔