اداریہ

زخموں پر مرہم رکھیں‘ انہیں کریدیں نہیں!

اداریہ روزنامہ جدوجہد

پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) اور ریاست کے مابین تنازعہ ایک بار پھر خونی انداز میں بھڑک کے منظرِ عام پر آیا ہے۔ مورخہ 26 مئی کو شمالی وزیرستان، جو سابقہ فاٹا کا حصہ ہے، کے علاقے میں ’خارقمر‘ چیک پوسٹ پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تین مظاہرین جاں بحق ہو گئے جبکہ 40 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے اس واقعے کے بعد مظاہرین کی قیادت کرنے والے پی ٹی ایم کے رہنما اور جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر سمیت دس افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ جبکہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، جو موقع پر موجود تھے، تاحال روپوش ہیں۔

پی ٹی ایم کا موقف ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے پرامن احتجاج کرنے والے مظاہرین پر گولی چلائی گئی ہے۔ جبکہ فوج کا موقف ہے کہ پی ٹی ایم کے کارکنان نے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا جس کے بعد مجبوراً گولی چلانا پڑی۔ مزید یہ کہ پانچ فوجی اہلکار بھی اِس تصادم میں زخمی ہوئے ہیں۔

جیسا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں توقع کی جا سکتی ہے زیادہ تر ملکی میڈیا سرکاری موقف ہی پیش کر رہا ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ پی ٹی ایم کے معاملے میں ملکی میڈیا کا طرز عمل روز اول سے ایسا ہی رہا ہے۔ میڈیا کو اس تحریک کے کسی نمائندے کا موقف پیش کرنے کی اجازت نہیں ہے جو آزادی اظہار اور بنیادی جمہوری حقوق کے سراسر منافی ہے۔ تاہم غیر ملکی میڈیا بھی اپنی حکومتوں کے مفادات کے مطابق ہی پی ٹی ایم کو کوریج دیتا ہے۔

اس واقعے کے تناظر میں بلاول بھٹو، مریم نواز، مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف وغیرہ جیسے اپوزیشن رہنماﺅں نے کھلے عام یا ڈھکے چھپے الفاظ میں سرکاری موقف اور طرزِ عمل کو رد ہی کیا ہے۔

پاکستان کے حکمران طبقات روزِ اول سے ایک طرف داخلی و خارجی سطح پر اپنی آزادانہ طبقاتی حیثیت کو منوانے اور دوسری طرف ایک جدید اور یکجا سرمایہ دارانہ ریاست کی تشکیل میں ناکام رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک طرف نظام کو چلانے میں ریاست کا کردار مبالغہ آرائی کی حد تک زیادہ رہا ہے‘ دوسری طرف انتہائی ناہموار ترقی کی وجہ سے چھوٹی قوموں میں محرومی کے جذبات ایک حقیقت ہیں۔ قومی محرومی کے احساسات کی مادی بنیادوں کو سمجھنے کے لئے مرکزی پنجاب (یا چند ایک دوسرے نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں) کے عمومی معیارِ زندگی کا موازنہ قبائلی علاقہ جات، آزاد کشمیر، جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ یا بلوچستان وغیرہ سے کر لینا ہی کافی ہے۔ یوں نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان سمیت خطے کے تمام ممالک میں طبقاتی استحصال کیساتھ ساتھ قومی جبر و استحصال کا عنصر بھی اِن پسماندہ اور تاخیر زدہ سرمایہ دارانہ نظاموں کا لازمی جزو رہا ہے۔

پاکستان میں کشمیر سے بلوچستان تک قومی تحریکیں مختلف شکلوں اور شدتوں کیساتھ ابھرتی رہی ہیں جن پر ایک وقت میں بائیں بازو کے نظریات بھی حاوی رہے ہیں۔ بلکہ اس زمانے کے کئی سرخیل قوم پرست رہنما تو ’علیحدگی‘ کی بجائے تمام قوموں کے محنت کشوں کی یکجہتی سے نہ صرف قومی بلکہ طبقاتی آزادی کو اپنا مقصد قرار دیتے تھے۔ تاہم بالخصوص سوویت یونین کے انہدام کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی اور قومی آزادی کی تحریکیں تنگ نظر قوم پرستی اور لسانیت کا شکار ہو کے بتدریج زائل ہو گئیں، کچل دی گئیں یا سامراجی طاقتوں کی پراکسیاں بن گئیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ آج بھی قوم پرست قیادتوں کے کچھ حصے امریکی سامراج جیسی کرہ ارض کی سب سے بڑی دہشت گرد، رجعتی اور جابر ترین قوتوں کے بارے میں خوش فہمیوں کا شکار نظر آتے ہیں۔

لیکن قیادتوں کے بک جانے، جھک جانے یا سمجھوتہ کر لینے سے مسائل تو ختم نہیں ہوتے۔ اور جب تک مسائل سلگ رہے ہیں، محرومیاں بڑھ رہی ہیں، جبر و استحصال کے سلسلے جاری و ساری ہیں‘بغاوتیں بھی ہوتی رہیں گی اور تحریکیں بھی ابھرتی رہیں گی۔یہ تاریخ کا قانون ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ بھی ایسی ہی ایک تحریک ہی جسے دہائیوں سے جاری عوامل نے جنم دیا۔ قبائلی علاقہ جات کو انگریزوں کی طرح ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے بھی ہمیشہ ایک بفر زون کے طور پہ اپنے سٹریٹجک مفادات کی نظر سے ہی دیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں کی طرف ریاست کا رویہ نوآبادیاتی حکومتوں والا ہی رہا ہے اور ایف سی آر جیسے نوآبادیاتی دور کے کالے قوانین ابھی کل تک رائج تھے۔

1979ءکے بعد ان علاقوں کے نوجوانوں کو امریکی ڈالر جہاد کا ایندھن بنایا گیا۔ اِس ردِ انقلابی جنگ کیساتھ منشیات اور سامراجی فنڈنگ کا جو بیش بہا کالا دھن آیا اس نے ان علاقوں کی تاریخی پسماندگی کو ختم کرنے کی بجائے مسخ کر کے زیادہ زہریلا، رجعتی اور خونخواربنا دیا۔ پھر 9/11کے بعد یہاں ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے نام پہ ڈبل گیم اور پراکسی جنگوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا جس میں ایک بار پھر ان علاقوں کے عام لوگ دونوں طرف سے پستے رہے۔ پھر فوجی آپریشنوں میں لاکھوں خاندان دربدر ہوئے۔ کاروبار تباہ ہو گئے۔املاک برباد ہو گئیں۔ ہزاروں لوگ جبری گمشدگیوں کا شکار ہوئے۔ اس سے کہیں زیادہ تعداد دہشت گردی یا سرکاری ظلم و تشدد کا شکار ہوئی۔ غرضیکہ جبر اور محرومیوں کی ایک طویل تاریخ ہے جسے اگر وسیع تناظر میں دیکھیں تو دہائیوں نہیں بلکہ صدیوں پہ محیط نظر آتی ہے۔

نقیب اللہ محسود کے قتل نے قبائلی نوجوانوں میں پنپنے والے اس غم و غصے کو ہی ایک معیاری تبدیلی کیساتھ بڑی تحریک میں تبدیل کر دیا جس میں پھر دوسرے علاقوں کے پشتون نوجوان بھی شریک ہوتے گئے۔ لیکن پی ٹی ایم، جو بنیادی طور پہ ایک طبقاتی نہیں بلکہ قومی تحریک ہے، کے اندر بھی کئی طرح کے مختلف بلکہ متضاد رجحانات موجود ہیں۔ جن میں رجعتی اور ترقی پسندانہ نظریات کے حامل‘ دونوں طرح کے لوگ قیادت میں موجود ہیں۔ لائحہ عمل اور طریقہ کار پر بھی تذبذب اور اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

پی ٹی ایم کی طرف ریاست کا رویہ بھی گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں مسلسل بدلتا رہا ہے۔ اس میں خیرسگالی اور مذاکرات اور پھر محدود پیمانے کے جبر اور کھلی دھمکیوں کے عرصے بھی آئے ہیں۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے یہ رویہ خاصا جارحانہ ہو گیا ہے جس کی عکاسی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے بھی ہوتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی بربادیوں اور جبر میں سے برآمد ہونے والی تحریکوں کو بھلا ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کروایا جا سکتا ہے؟ اور اس سے بھی بڑھ کے یہ کہ راﺅ انوار جیسے سرکاری سیریل کلر کے سرِ عام دندنانے پھرنے سے نہ صرف پشتونوں بلکہ ملک کے ہر عام شہری کو کیا پیغام ملتا ہے؟

پی ٹی ایم کے نعروں، جن میں سکیورٹی اداروں کو مجموعی طور پہ نشانہ بنایا جاتا ہے، سے بہت سے ترقی پسند رجحانات اور افراد کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن اس تحریک کے بنیادی مطالبات کو کوئی ذی شعور انسان غلط نہیں کہہ سکتا۔ یہ بنیادی جمہوری، قانونی و آئینی حقوق جن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، ہر شہری کو حاصل ہونے چاہئیں۔ لیکن تحریک کی قیادت کو چاہئے کہ وسیع تر عوام کے مسائل پر بھی بات کی جائے۔ انہیں بھی پارلیمان کے اندر اور باہر اجاگر کیا جائے۔ حکومت سے نہ صرف قانونی بلکہ معاشی اور سماجی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا جائے۔  بیروزگاری، لاعلاجی، ناخواندگی، مہنگائی وغیرہ ہر قومیت کے غریبوں کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں  جن کی بنیاد پہ انہیں استحصالی نظام اور اس کے اداروں کے خلاف یکجا کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ فوری غم و غصے کا اظہار کرنے والے نعرے و مطالبات چاہے کتنے ہی جائز اور معقول کیوں نہ ہوں، ان کے ذریعے طویل عرصوں تک لوگوں کی حمایت حاصل نہیں کی جا سکتی۔

لاپتہ افراد کا مسئلہ انتہائی دردناک ہے جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی انسان کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر سب کے سامنے عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ کسی انسان کو یوں غائب کر دینا سراسر غیر انسانی اقدام ہے۔

پاکستان میں غدار یا ”غیر ملکی ایجنٹ“ ہونے کے الزامات کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ آج حقیقت یہ ہے کہ یہ الزامات، جو خود اشرافیہ کی کئی زیر عتاب شخصیات پر بھی لگائے جاتے رہے ہیں، بہت گھس پٹ چکے ہیں۔ انہیں کوئی سنجیدہ لیتا ہے نہ ان کے ذریعے کوئی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ بالخصوص اس کیفیت میں جب ساری ملکی معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کر دینے والے دوسروں کو غدار اور ایجنٹ کہہ رہے ہوں ۔ ویسے بھی بیرونی مداخلت یہاں ہو رہی ہو یا یہاں سے کہیں اور کی جا رہی ہو‘ اس کا خمیازہ آخر کار عام انسانوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔

جبر کے ذریعے ان مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے کو سلجھانا ہے یا الجھانا ہے‘ اس کا فیصلہ یہاں کے مقتدر حلقوں کو ہی کرنا ہے۔ لیکن مزید الجھاﺅ کی صورت میں پہلے سے مہنگائی، بیروزگاری اور غربت سے بدحال عوام کے مسائل میں اضافہ ہی ہو گا۔ صورتحال بہت زیادہ بگڑ بھی سکتی ہے۔

ملک کے ترقی پسند حلقوں کا مطالبہ یہی ہے کہ گزشتہ روز گرفتار کیے جانے والے افراد کو رہا کیا جائے۔ کرفیو اٹھایا جائے۔ اگر کوئی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے تو باضابطہ الزامات کے تحت اس پر مقدمہ چلایا جائے اور صفائی کا موقع دیا جائے۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان نوجوانوں کی بات سنی جائے‘ ان کے مسائل حل کیے جائیں۔ سابقہ فاٹا کے علاقے ملک کے پسماندہ اور غریب ترین علاقے ہیں۔ وہاں صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، ٹیلی کمیونی کیشن، پانی، نکاس اور رہائش کا بنیادی انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے۔ روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ انہیں کریدا نہ جائے۔