تاریخ

امریکہ میں انسانی حقوق اور مساوات کے دو رہنما ایک ہی دن انتقال کر گئے

قیصر عباس

امریکہ میں سماجی مساوات اور ترقی پسند سیاست کے دو درخشاں ستارے ایک ہی دن معدوم ہوگئے۔

گزشتہ جمعہ کو انسانی حقوق کے دو سر کردہ رہنما ؤں جان لوئیس (John Lewis) اور سی ٹی ویوین (C.T.Vivian) کا انتقال ہوگیا جو ملک میں جمہوری روایات اور بنیادی انسانی حقوق کے دو اہم ستون سمجھے جاتے تھے۔ دونوں نے سرکاری تشدد کا مقابلہ کرتے ہوئے پر امن جدوجہد کے ذریعے سول رائٹس تحریک میں مارٹن لوتھر کنگ کا ساتھ دیا اور خود بھی پولیس کے تشدد کا شکار ہوئے۔

سول رائٹس تحریک کے رہنما اور مارٹن لوتھر کنگ کی رہنمائی میں کام کرنے والے ایوان نمائندگان کے افریقی النسل رکن جان رابرٹس لوئیس جمعہ کو اسی سال کی عمر میں دنیا سے کوچ کرگئے جو دسمبر 2019ء میں کینسر تشخیص ہونے کے باوجود اپنے مشن میں آخرتک مصروف رہے۔

سابق صدر اوبامہ نے انہیں آزادی کے صدارتی میڈل (Presidential Medal of Freedom) سے نوازتے ہوئے کہاتھا: ”آنے والی نسلوں میں جب والدین اپنے بچوں کو انسانی جرات کے معانی سمجھائیں گے تو جون لوئیس کے قصے ان کی زبان پر ہوں گے۔“

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر اور ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر نینسی پلوسی(Nancy Pelosi) نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ”جان لوئیس سول رائٹس تحریک کے ابھرتے ہوئے وہ ستارے تھے جنہوں نے اپنے اعتقاد، بہادری اور استقامت کے ذریعے قوم کی کایا پلٹ دی۔ انہوں نے اپنے دور میں ہونے والے ظلم اور استبداد کا اپنی جان پر کھیل کر مقابلہ کیا۔“

لوئیس نے سیاہ فام باشندوں اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے ایک نوجوان طالب علم کی حیثیت سے احتجاجی جلوسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور پھر یہی ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ گزشتہ تیس سال سے کانگریس میں ریاست جورجیہ کے نمائندے اور ایک سرگرم ترقی پسند رکن ہونے کی بنیاد پرانہیں ’کانگریس کا ضمیر‘ بھی کہا جاتا تھا۔

لوئیس 1960ء میں ہونے والے اس احتجاج کے سر کردہ لیڈر کے طورپر ابھرے جنہیں ’فریڈم رائڈز‘ یا آزادی کاسفر بھی کہا جاتا ہے۔ 1963ء میں وہ مارٹن لوتھر کنگ کے مشہور مارچ میں سب سے کم عمر مقرر تھے جس میں دو لاکھ لوگوں نے واشنگٹن ڈی سی میں احتجاج کیا تھا۔ وہ صدر ٹرمپ کے بے باک ناقدین میں شامل تھے اور انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہیں نسل پرست قرار دیا تھا۔

مارٹن لوتھر کنگ کے بعد کارڈی ٹینڈل ویوین (Cordy Tendell Vivian) ملک کی پر امن تحریک کے دوسرے بڑے لیڈر تھے جنہوں نے تشدد کا مقابلہ پرامن تحریکوں سے کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ گھر سے زیادہ جیل کی زندگی سے واقف تھے کیونکہ ایک لمبا عرصہ انہوں نے پولیس تشدد کا مقابلہ کرتے ہوئے اور زندان کی سلاخوں کے پیچھے گزارا۔ ان کا نعرہ تھا ”ہم کسی حالت میں پرامن جدوجہد کو حکومت کے تشدد کے سامنے شکست کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔“ ان ہی خصوصیات کی بنا پر انہیں کنگ کا ”فیلڈ جنرل“ بھی کہا جاتا تھا۔

اٹلانٹا میں ا نتقال کے وقت ان کی عمر 95 سال تھی۔ سابق صدارتی امیدوار اور افریقی النسل رہنما جیسی جیکسن (Jesse Jackson) نے ان کی وفات پر اپنے پیغام میں کہا: ”انہوں نے کبھی خواب دیکھنا بند نہیں کئے اور کبھی جدوجہد سے کنارہ نہیں کیا۔ ہمیں اگر آج ماضی کے مقابلے میں بہترحقوق حاصل ہیں تو ان کی بے لوث جد وجہد ہ کی وجہ سے ہیں۔“

نوجوان کارکن کی حیثیت سے انہوں نے انیس سو پچاس کی دہائی میں مارٹن لوتھر کنگ کے ساتھ نسلی تعصب اور سفید فام اور افریقی النسل شہریوں کے لئے الگ الگ اسکولوں کے خلاف تحریکوں میں بھرپور حصہ لیا۔ پھر 1965ء میں وہ ملک کی سیاہ فام آبادی اور خواتین کے ووٹنگ کے حقوق کی مہم میں حصہ لیتے ہوئے پولیس تشدد کا شکار ہوئے۔

سابق صدر اوبامہ نے جان لو ئیس کی طرح سی ٹی ویوین کوبھی وائٹ ہاؤس میں آزادی کے صدارتی میڈل سے نوازا۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان دونوں رہنماؤں کی ان تھک جدوجہد اور قربانیوں کا ہی نتیجہ تھاجس نے صدر اوبامہ جیسے افریقی النسل رہنما کو امریکہ کے ایوانِ اقتدار میں پہنچایا اور اقلیتوں کو ان کے حقوق کا احساس دلایا۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔