پاکستان

جو کہتے رہے، آج اس سے الٹ پر گامزن: عمران خان غیر مقبولیت کی انتہا پر

فاروق طارق

پچھلے دو ماہ کے دوران، خاص طور پر، حکومت نے جو بھی اقدام کئے، اس کے مخالف نقطہ نظر پر مبنی فوری طور پر عمران خان کی ماضی کی تقاریر سامنے آ گئیں۔ جو ماضی میں کہتے رہے، آج اس کے برعکس اقدامات ڈھٹائی کے ساتھ کئے جا رہے ہیں۔

سمجھ نہیں آتی کہ کیا عمران خان اپنی سابقہ تقریر اور خیالات سے آگاہ بھی ہیں یا نہیں؟ یا پھر مکمل بھول گئے ہیں۔ وہ شائد مختلف ٹی وی چینلز پر اپنی ماضی کی تقاریر دیکھتے ہی نہیں جو انہیں آج جھوٹا ثابت کرتی ہیں۔ اور اگر دیکھتے ہیں تو کبھی انہوں نے اس کی وضاحت بھی نہیں کی۔ ان کی جانب سے وضاحتیں دیتے وقت فردوس عاشق اعوان، شبلی فراز یا ڈاکٹر گل انتہائی کمزور موقف اپنا رہے ہوتے ہیں۔ وزیر مشیر جو کرتے ہیں وہ دفاع ہوتا ہے نہ تصدیق بلکہ صرف ڈھٹائی کا اظہار ہوتا ہے۔

عمران خان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کی تقریروں سے کیا ہوتا ہے، تو وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں۔ سب سے اہم تو یہ کہ ان کی حکومت عوام سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ موجودہ بیانیہ اور اقدامات اس حکومت کی زندگی کم سے کم کر رہے ہیں۔

عوام جواب چاہتے ہیں کہ کیا وہ اس وقت غلط تھے جب کہہ رہے تھے کہ میری وزارت کے دوران کوئی فرد بھی گمشدہ نہیں ہو گا، یا آج غلط ہیں۔ دوہری شہریت پر بھی ایسا ہی ہے۔ ریلوے حادثات پر بھی وہ مطالبہ کرتے تھے ریلوے وزیر استعفیٰ دیں، آج ہر ریلوے حادثے کے بعد خاموشی ہے۔

وہ کہتے تھے کہ مہنگائی ہو تو سمجھو وزیر اعظم چور ہے، مہنگائی آج روز ہر گھر کے دروازے پردستک دے رہی ہے۔ ان کا فرمان تھا کہ اوپر ایماندار وزیر اعظم ہو تو کسی کی جرات نہیں کہ بدعنوانی کرے، آج روز ایسے ایسے کیس سامنے آرہے ہیں کہ ماضی کے اسکینڈل بھول جاتے ہیں۔ جیو کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے آج اس کے مالک کو بند کیا ہوا ہے۔ گویا ایک لمبی فہرست ہے۔

تازہ ترین یو ٹرن: ٹی وی کی 35 روپے ماہانہ فیس کو جس قدر انہوں نے تنقید کا بار بار نشانہ بنایا آج اس سے کہیں بڑھ کر ڈھٹائی کے ساتھ یہ فیس 100 روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔

لگتا ہے کہ عمران خان نے سوچ لیا ہے کہ وہ جو بھی کریں انہیں کیا فکر ہے اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر یہی اسٹیبلشمنٹ جب انہیں انتہائی غیر مقبول دیکھے گی تو ان کی طرح ہی وہ بھی اپنے کہے سنے کو بھلا کر کوئی اور گھوڑا تلاش کرنے نکل پڑے گی۔

یہ حکومت پانچ سال پورے کرتے نظر نہیں آتی، یہ روز اپنی حیثیت اور زندگی کم کر رہی ہے۔ اس نے اپنے آپ کوآئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامنے گروی رکھا ہوا ہے۔ حفیظ شیخ کو انہوں نے سر پر چڑھایا ہوا ہے، وہ وہی کچھ کر کے جائے گا جو اس نے پی پی پی حکومت کے ساتھ 2013ء تک کیا تھا۔ حفیظ شیخ اور رضا باقر اس تحریک انصاف اور عمران خان کا بیڑہ تباہ کر کے جائیں گے۔

کرونا نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ حکومت اس سے سیکھنے کی بجائے محنت کشوں کو حاصل بچی کھچی مراعات کو ختم کر کے پیسے بچانا اور اسے دفاع اور قرضہ جات کی واپسی پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ چھانٹیاں عروج پر ہیں، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب لوگ موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے تنگ ہیں۔ بجٹ میں تنخواہیں بڑھائی نہ گئیں جبکہ نجکاری کو مسائل کا حل سمجھا جا رہا ہے۔ مہنگائی عروج پر ہے، بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے، پنشن سکیم ختم کرنے اور ریٹائرمنٹ کی عمر کم کر کے 55 سال کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ ڈالر مسلسل مہنگا ہونے سے امپورٹڈ اشیا مہنگی ہو رہی ہیں۔ ان کی یہ توقع کہ برآمدات بڑھیں گی، پوری نہیں ہو رہی۔

جو محنت کش کام کر رہے ہیں ان کی تنخواہوں میں کٹوٹیاں کی جا رہی ہیں۔ حکومتی وزیروں مشیروں کی کرپشن کی داستانیں روزانہ سامنے آ رہی ہیں۔ جس ارشد ملک کی سربراہی میں پی آئی اے اس برے حال کو پہنچی، کابینہ نے اسی ائیر وائس مارشل ارشد ملک کی 3 سال تک بطور پی آئی اے چیف ایگزیکٹو رہنے کی منظوری دے دی۔ فوجی تھا، سویلین ہوتا تو جیل میں ہوتا۔

عمران خان اقتدار میں دو سال ہونے پر ایک خوش قسمت وزیر اعظم کی بجائے عوام کے ظالمانہ طنزوں اور لطیفوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ اس نے خود یہ راستہ چنا ہے۔ سرمایہ داری کی رجعتی شکل اور اقدامات کے ذریعے وہ اور زیادہ غیر مقبول ہو رہا ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے تضادات کے پبلک اظہار پر ڈھٹائی سے کام لینے یا آنکھیں بند کرنے کی غلط حکمت عملی پر گامزن ہے۔

یہ کھلا تضاد بہت لمبا عرصہ قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ ریاستی جبر بھی اسے قائم نہیں رکھ پائے گا۔ کرونا وبا نے معاملات کو گمبھیر اور پیچیدہ بنا دیا ہے مگر عوامی لاوا کسی شکل میں پھٹے گا ضرور۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔