خبریں/تبصرے

یہ دھمکیاں دینے والا ’غریب‘ مولوی

فاروق طارق

مولوی افتخار الدین نے چند دن پہلے سینئر ججوں کے خلاف شدید بڑھک بازی کی۔ ان کے خلاف پولیس تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم کی ٹیلیفون لسٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران شامل ہیں۔ ان کے اقرا پبلک سکول اور کالج کے بینک کھاتوں میں اب تک 6 کروڑ 4 لاکھ 37 ہزار 568 روپے کی رقم منتقل ہوئی۔ ملزم کے اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے بھی فنڈنگ ہوتی رہی۔

کچھ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں:

ملزم کے پاس سوزوکی مہران اور ویگنار گاڑیاں ہیں۔ مولوی افتخار نے اب تک 698 ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں۔ ان کے 19 بینک اکاؤنٹس ہیں۔

مولانا صاحب نے اپنے فون سے ایران، سعودی عرب، ساؤتھ کوریا، ملیشیا، چین، زمبیا اور انگلینڈ کالیں کی ہوئی ہیں۔

مولوی افتخار جب پہلی دفعہ عدالت میں از خود نوٹس کے بعد پیش ہوئے تو ان کی وکیل کہتی رہیں: معاف کر دیں یہ تو بے چارہ غریب مولوی ہے۔

مولوی نے اب خود بار بار معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ویڈیو کس نے ایڈٹ کی اور کس نے اپ لوڈ کی۔

ادھر چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس میں معافی والی کوئی بات نہیں۔

اس سارے واقعے کا لب لباب یہ ہے کہ اگر ریاست ایسے افراد کا فوری نوٹس لے جو دھمکیاں دیتے ہیں، بندوں کو اٹھاتے ہیں تو کچھ نہ کچھ تو بہتری آ سکتی ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔