پاکستان

فروغ نسیم: ایک نیا شریف الدین پیر زادہ

فاروق طارق

شریف الدین پیرزادہ 2017ء میں وفات پا گئے۔ وہ مختلف آمرانہ ادوار میں قانونی موشگافیاں نکالنے میں ماہر تھے۔ ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ فوجی آمروں کو جمہوری ڈھونگ رچانے کے لئے آئین میں ترامیم کرانے اور ایسے آرڈینینسز بنانے میں مہارت رکھتے تھے جن سے آمروں کے دور کو مزید تقویت ملتی تھی۔

وہ فوجی آمر آیوب خان کے دور میں 31 اگست 1966ء سے یکم مئی 1968ء تک وزیر خارجہ رہے۔ اس سے قبل وہ 1965-66ء کے دوران پاکستان کے نوجوان ترین اٹارنی جنرل رہے۔ اس کے بعد جنرل یحییٰ کے دور میں 1968ء سے 1971ء تک اٹارنی جنرل رہے۔

پھر تیسرے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کو ان کی ضرورت پڑی تو وہ 1977ء سے لیکر 1984ء تک تیسری بار اٹارنی جنرل بنے یا بنا دئیے گئے۔ ضیا الحق کی مہربانیوں سے وہ آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (او آئی سی) کے 1985ء سے 1988ء تک سیکرٹری جنرل رہے۔ آخری فوجی آمر جنرل مشرف کے دور میں وہ انکے مشیر رہے۔

شریف الدین پیرزادہ پاکستان کے چاروں فوجی آمروں: ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف کو قانونی جواز دینے کے لئے کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔

1973ء کے آئین کی شکل بگاڑنے کے لئے بدنام زمانہ آرٹیکل 58 ٹو بی لیگل فریم ورک آرڈر اور پروژنل آئینی آرڈرز کو شریف الدین پیرزادہ نے ہی متعارف کرایا۔ اب پاکستان میں ایک نیا شریف الدین پیرزادہ نمودار ہوا ہے… وہ ہیں فروغ نسیم۔

وہ پہلی دفعہ وزیر قانون 20 اگست 2018ء کو بنے، 26 نومبر 2019ء کو تین روز کے لئے جنرل قمر جاوید باجوہ ایکسٹینشن کیس کی وکالت کرنے کے لئے مستعفی ہوئے اور پھر 29 نومبر کو دوبارہ وزیر قانون کا حلف لے لیا۔

یکم جون 2020ء کو جسٹس قاضی فیض عیسٰی کے خلاف حکومتی مقدمہ لڑنے کے لئے مستعفی ہوئے اور مقدمہ ہارنے کے بعد 24 جولائی کو دوبارہ وزیر قانون بن گئے۔

55 سالہ فروغ نسیم وہی کام کرتے ہیں جو شریف الدین پیرزادہ کرتے تھے۔ فروغ نسیم بھی شریف پیرزادہ کی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کیس لڑنے میں ماہر ہیں۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔