خبریں/تبصرے

مدرسہ اور روبوٹ: تماش بینوں کو لوٹنے نیا مداری آیا ہے

ابنِ شعور

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پاکستانی میڈیا پر آغا وقار نامی ایک ٹیکنیشین نے پانی سے گاڑی چلانے کا اعلان کر کے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ سائنسی طور پر ساری دنیا سے پیچھے رہ جانے کے احساسِ کمتری اور ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے سائنسی شعور نہ رکھنے والے لوگ اس شوشے کی حقیقت کو سمجھنے میں بری طرح ناکام ہوئے۔

میڈیاآغا وقار کو سائنسدان بنا کر پیش کرنے لگا۔ جب دلیر اور قوم کا درد رکھنے والے حقیقی سائنس دان پروفیسر ہود بھائی نے اس فراڈ کی قلعی کھولی تو انہیں کئی دن سے میڈیا پر پانی کی کار کا کرتب دیکھنے والے تماشائیوں سے گالیاں اور غداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

ہاں البتہ اس تماشے سے کچھ لوگوں نے یہ سبق سیکھ لیا کہ اس معاشرے میں سائنس کے نام پر کرتب دکھا کر آسانی سے مشہور ہوا جا سکتا ہے۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ بھی چوکھا آئے!

آج کل سوشل میڈیا پر ایک مبینہ مدرسے کے طلبہ کے روبوٹ کا کرتب دکھانے کی بہت شہرت ہو رہی ہے۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مدرسہ ہذا میں جدید علوم پڑھائے جا رہے ہیں۔ حقیقت میں یہ بیرونِ ملک پاکستانیوں اور ملک کے اندر مذہبی تشخص کے ساتھ جدت پیدا کرنے کی خواہش رکھنے والے امیروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر چندہ بٹورنے کا فراڈ ہے۔

جس معاشرے کے سکولوں کا تعلیمی نصاب مغربی طرز کا نہ ہو، امتحانات میں مغرب کی طرح بچوں کے اذہان کو سوچنے پر مجبور کرنے والے سوالات نہ پوچھے جاتے ہوں، آزادی افکار میسر نہ ہو، وہاں شرحِ خواندگی ساٹھ فیصد سے بڑھ کر سو فیصد بھی ہو جائے تو بھی دھوکے کا کاروبار چلتا رہے گا۔

پانی والی کار کی طرح مدرسے کا روبوٹ بھی ایک جاذبِ نظر چیز ہے۔ اس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ مدرسہ باقی مدارس سے مختلف ہے اور یہاں بچوں کو ایسے علوم سکھائے جاتے ہیں جو انہیں اکیسویں صدی میں رہنے کے قابل بناتے ہوں۔ اگر کوئی سچ مچ مدرسے کے نام پر سائنس کی تعلیم دے تو اسے روبوٹ والا تماشا لگانے کی ضرورت بھی نہ ہو گی کہ بچوں کو ملنے والا علم معاشرے میں انکے کردار کی شکل میں ظاہر ہو ہی جائے گا۔

مدارس کے طلبہ کے ذہن پر درسِ نظامی کا تالہ اور سر پر کپڑا باندھ کر روبوٹ یا کمپیوٹر کے آگے بٹھانے کا مطلب یہ نہیں کہ ان میں سائنسی طرزِ فکر پیدا کی جا رہی ہے۔ سائنسی تعلیم کا مطلب ٹیکنالوجی کی چیزیں خرید کر ان سے کھیلنا نہیں ہے۔ اسی طرح کے فراڈ اس وقت بھی ہوئے تھے جب کمپیوٹر پاکستان آیا تھا۔ مدارس میں جدت کے نام پر طلبہ کو کمپیوٹر چلانا سکھایا جانے لگا مگر ان کمپیوٹرز سے سوشل میڈیا پر دانشوروں کو نت نئی گالیاں دینے، مخصوص فلمیں دیکھ کر مغربی معاشرے کے بارے میں غلط فہمیاں پالنے یا کسی گورے پادری کے نظری ارتقا یا زمین کی حرکت کے خلاف لکھے مضمون سے جاہلانہ مغالطے چرا کر انکا اردو ترجمہ کرنے کے سوا کچھ نہیں نکلا ہے۔

یہی صورت ِحال خلیجی ممالک میں یورپ سے خریدی گئی ٹیکنالوجی کے کرتب کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے خلائی پروگرام شروع کیا ہے جس میں سائنسدان، انجینئرز اور راکٹ وغیرہ سب مغرب سے خرید کر کچھ عربوں کو خلا کی سیر کرائی جائے گی۔ کیا اس کرتب میں اور مغرب کی بنی کار خرید کر صحرا میں کرتب دکھانے میں کوئی فرق ہے؟

ٹیکنالوجی کے استعمال کے مظاہرے کرنے میں تو داعش بھی بہت آگے تھی۔ وہ ڈرون اڑاتے اور جدید اسلحہ چلاتے تھے۔ طالبان آج سے تیس چالیس سال پہلے ٹینک اور سٹنگر میزائیل چلا رہے تھے لیکن اس سب کے باوجود وہ سائنسی سوچ نہ ہونے کی وجہ سے مہذب سماج کے خونخوار دشمن اور ٹیکنالوجی پیدا کرنے کے سلسلے میں بانجھ ہی رہے۔

مختلف یورپی کمپنیوں سے روبوٹ خرید کر کرتب دکھانے والوں سے زیادہ ٹیکنالوجی تو وہ علامہ ہشام ظہیر صاحب جانتے ہیں جو انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے ایم ایس کرنے کے باوجود سوشل میڈیا پر اپنی وائرل ہونے والی ویڈیو میں کرونا کے بارے میں یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ”اے اللہ اس وبا نے اسلام کو خطرے میں ڈال دیا ہے“۔

کیا ذاکر نائک، ڈاکٹر اسرار احمد اور مولانا طارق جمیل کی میڈیکل ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ ان کو جدید علوم اور سائنسی سوچ کے قریب لے جا سکی؟

جدت جدید علم و شعور کا نام ہے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کرنے کو جدت نہیں کہتے۔ اگر کوئی تلوار کی جگہ کلاشنکوف اور کلاشنکوف کی جگہ روبوٹ چلانا سیکھ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدرسے والوں کی ذہنیت بھی بدل رہی ہے۔

جو لوگ مغرب کی ٹیکنالوجی کو حلال اور مغربی علم کو کفر سمجھتے ہیں اور سستی یا مذہبی تعصب کی وجہ سے اس کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں، وہ مغرب کی ٹیکنالوجی کے ہمیشہ محتاج اور اقتصادی بازار کے خریدار رہ کر غریب رہیں گے۔

روس، چین، جاپان اور کوریا نے مغرب کا علم سیکھ کر ہی مغرب کی ٹیکنالوجی پر انحصار ختم کیا ہے۔’مغربی‘ علم ہی اصل علم ہے جو یونانی فلسفیوں نے شروع کیا اور آج عروج پر پہنچا ہے۔

مدارس میں الفاظ اور منطقی مغالطوں سے کھیلنے اور نت نئی تفسیریں کرنے کا فن سکھایا جاتا ہے۔ دھواں دھار خطبے دینے، جذبات سے کھیلنے اور چنگھاڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ سب علما بنیادی طور پر سائنس دشمن ہوتے ہیں۔ جو تصدیق کرنا چاہے وہ مدارس کا نصاب اور سِدھانے (روحانی تربیت کرنے) کے طریقے دیکھ لے۔

دینی مدارس میں علم کے نام پر دھوکہ آج کی بات نہیں۔ مدارس میں علمِ کلام کی شکل میں فلسفے کی اداکاری ایک ہزار سال سے جاری ہے۔ اس سے کیا برآمد ہوا؟ اب جدید ٹیکنالوجی کے نام پر سائنس کی اداکاری کرنے سے کوئی نیا چاند برآمد نہیں ہو گا۔

خوش فہمیاں پالنے اور مسیحا کے انتظار کا نشہ ایسی لت ہے کہ آغا وقار سے دھوکہ کھانے والے لکی روبوٹ سرکس میں بھی جیب کٹوانے آ گئے ہیں۔

وائے قسمت! جو اِس فراڈ کو بے نقاب کرے گا، مدارس کے فیس بکی مجاہدین کی گالیاں کھائے گا۔

Ibn-E-Shaoor

ابنِ شعور سائنس کے طالبِ علم، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں۔