پاکستان

عمران خان کو کرونا میں کمی کا ہیرو ٹہرانا تاریخ کا مذاق اڑانے کے مترادف

فاروق طارق

عمران خان حکومت کے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے 26 جولائی کو پریس کانفرنس میں حکومت کی کرونا پالیسی کو کرونا کے کیسوں میں کمی کا باعث قرار دیتے ہوئے نوید سنائی کہ دنیا بھر میں ہماری پالیسی کی پذیرائی ہو رہی ہے۔

وہ شائد بھول گئے تھے کہ یکم جون کو عمران خان قوم کو یہ درس دے رہے تھے کہ کرونا کے ساتھ ہی ہمیں جینا سیکھنا ہو گا۔ وہ کرونا خاتمے کا سوچ بھی نہیں رہے تھے بلکہ کرونا کے ساتھ زندگی کس طرح چلانی ہے اس کی بات کر رہے تھے۔

حکومتی وزیر کرونا میں کمی کو اپنی حکومت کی کارکردگی بارے فخریہ انداز میں ذکر کرتے ہوئے کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ کئی ملک پاکستان کی ”سمارٹ لاک ڈاؤن“ پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے ”پاکستان کو سراہنے والی دنیا“ کا ذکر تو کر دیا، یہ نہیں بتایا کہ کون سے ملک ہیں جو پاکستان کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو اختیار کر رہے ہیں یا کس ملک نے پاکستان کو سراہا ہے؟

ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ عالمی ادارہ صحت بار بار پاکستان کی کرونا پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے مگر کسی حکومت نے پاکستان کی تعریف کی ہو، ابھی تک کسی کے علم میں نہیں۔

انہوں نے عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت کرونا کے خاتمہ کی نوید بھی سنائی۔ انہوں نے ان افراد اور گروہوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہے تھے۔ عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ جب دنیا بھر میں کرونا بارے فروری اور مارچ کے اوائل میں مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی اختیار کی جا رہی تھی تو 18 مارچ کو عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا کہ کرونا وائرس مزید پھیلے گا مگر گھبرانا نہیں ہے اور 90 فیصد کو تو معمولی زکام ہوگا اور بس۔

22 مارچ کو ایک دفعہ پھر قوم سے خطاب میں انہوں نے لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک سندھ اور بلوچستان میں صوبائی حکومتیں لاک ڈاؤن پر عمل پیرا تھیں اور عمران ان کوہدفِ تنقید بناتے ہوئے دکھائی دئے مگر اگلے روز ہی پنجاب میں 24 مارچ کی صبح سے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ اعلان عمران خان کی مخالفت کے باوجود ہوا۔

عمران خان ایک ہٹ دھرم شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ 30 مارچ کو قوم سے خطاب میں ایک دفعہ پھر کہتے پائے گئے کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن سے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ جبکہ دنیا بھر میں یہ بات اب تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ بروقت لاک ڈاؤن کرنے اور کرونا پھیلاؤ روکنے کی مکمل تیاریوں والے ممالک میں کرونا سے بہت کم نقصان ہوا، ویت نام میں ایک بھی موت نہ ہوئی۔ منگولیا میں 30 کے قریب کل اموات ہوئیں، سری لنکا میں بھی ایسا ہی ہوامگر پاکستان میں وزیر اعظم تو لاک ڈاؤن کے ہی خلاف تھے۔

کرونا میں کمی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرونا کی انتہا گزر گئی ہے۔ یہ انتہائی خوشی کی بات ہے۔ شاید موسم کا بھی اثر ہو۔ کرونا سے اب تک 5 ہزار 822 اموات ہوئی ہیں۔ متاثرین کی کل تعداد 2 لاکھ 73 ہزار 113 ہے۔

پاکستان میں کرونا کا اس قدر پھیلنا اور اموات کی اتنی بڑی تعداد نااہل حکومت کی غلط حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے اور آج نہیں تو کل اس بات کی تحقیقات ہوں گی کہ جب عیدالفطر سے قبل لازمی تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہ کھولا جائے، حکومت کیوں مذہبی جماعتوں، مدرسہ مالکان اور تاجروں کے ہاتھوں میں کھیلی؟ وہ ان کے ہاتھوں میں کھیلتی رہی اور عوام کرونا کے ہاتھوں مرتے رہے۔ عمران خان نے کبھی کرونا کو سنجیدہ نہ لیا تھا۔ وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسے ہلکا سا فلو قرار دیا گیا۔ وہ لاک ڈاؤن کے سخت خلاف تھے۔

عمران خان نے عیدالفطر سے قبل مارکیٹیں کھول دیں اور کہا کہ ہمیں کرونا کے ساتھ جینا ہو گا یعنی جو مرتے ہیں مریں، زندگی اسی طرح ہی چلے گی۔ اس وقت کرونا کے ساتھ جینے کا سبق دینے والے آج کرونا کے خاتمے کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ کیا تضاد ہے ان کے قول و فعل میں۔ اگر عیدالفطر سے قبل یہ مارکیٹیں اور مساجد نہ کھولتے اور ایک دفعہ مکمل لاک ڈاؤن کرتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔

آج دنیا بھر کی تحقیق یہ ثابت کر رہی ہے کہ فاصلہ رکھنا اور ماسک پہننا فائدہ مند رہا ہے۔ ہر شعبے میں ناکام حکومت اب کرونا کی کمی کا فائدہ اٹھانے کے لئے غلط دعوے کر رہی ہے۔ اسے تو جواب دینا ہو گا کہ اس قدر نقصان کیوں ہوا ہے؟ دراصل یہ گھبرا گئے تھے کہ معیشت جو پہلے ہی برے حالات کا شکار ہے اور زیادہ خراب ہو جائے گی مگر نہ تو معیشت درست ہوئی اور عوام کا بھی بڑا نقصان ہو گیا۔

جو عمران خان لاک ڈاؤن کے خلاف تھا، کرونا بارے غلط فہمیوں کا ٹرمپ کی طرح شکار تھا، جس نے ڈاکٹروں اورپیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتالوں کے باوجود ان کو بروقت حفاظتی کٹس فراہم نہ کیں (ایک سو سے زیادہ ڈاکٹرز کرونا سے وفات پا چکے ہیں) اس عمران خان کو کرونا کی کمی کا ہیرو قرار دینا پاکستان میں کرونا وبا کی مہلک تاریخ کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔