نقطہ نظر

بابو جی اس لئے سوشلسٹ نہیں کہ کامریڈز لکھتے بہت مشکل ہیں؟

فارو ق سلہریا

میرے ایک دوست جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، سیاسی لحاظ سے نواز شریف کے حامی (دور طالب علمی میں جمعیت کے رفیق تھے) اور امریکہ میں رہتے ہیں۔۔۔چند دن پہلے فون پر بات کرتے ہوئے شکایت کرنے لگے کہ’جدوجہد‘ میں آپ بہت مشکل باتیں لکھتے ہیں۔

مجھے پورا یقین تھا کہ وہ ’جدوجہد‘ بالکل نہیں پڑھتے۔

میں نے ان سے کہا کہ کسی خبر، رپورٹ یا مضمون کی مثال پیش کیجئے جو اس قدر مشکل لکھا گیا تھا کہ سر سے گزر گیاہو۔

جواب ندادر۔

ڈاکٹر صاحب نے ایم بی بی ایس کی موٹی موٹی اور مشکل مشکل کتابیں انگریزی زبان میں پڑھ کر ڈاکٹری کر لی۔ وہ کتابیں ان کو سمجھ آ گئیں لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ نج کاری، استحصال، ماحولیات کی تباہی،جبر اور ظلم نہیں ہونا چاہئے تو ان کو یہ بیانیہ بہت مشکل لگتا ہے۔

میرے ڈاکٹر دوست یہ بھونڈا اعتراض کرنے والے اکیلے شخص نہیں۔ اکثر مڈل کلاس کے وہ لوگ جو کٹر طریقے سے دائیں بازو کے ساتھ منسلک ہوں گے اور دنیا کی کوئی منطق،بھلے کتنی آسان زبان میں پیش کی گئی ہو، ان کو سوشلزم کے حق میں قائل نہیں کر سکے گی۔

اس کی وجہ سوشلزم کا مشکل یا آسان ہونا نہیں۔

وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر، انجنئیر، تاجر، اکیڈیمک،صحافی،وکیل اور اس نوع کے دیگر افراد کا طبقاتی مفاد سرمایہ داری سے جڑا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ انفرادی حیثیت میں سوشلزم کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جب سوشلزم نظریاتی اور تنظیمی تنہائی کا شکار ہے،ایسے میں مڈل کلاس کے لوگ سوشلزم کی طرف نہیں آئیں گے۔

ایسا کیوں ہے کہ جنہیں عربی کا ایک لفظ نہیں آتا، وہ خشوع و خضوح کے ساتھ نہ صرف مولوی صاحب کا خطبہ جمعہ سن رہے ہوتے ہیں بلکہ بعض تو مولوی صاحب کے کہنے پر مرنے مارنے پر آ جاتے ہیں؟

اسی طرح یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ جب ملک میں پہلی بار انتخابات ہوئے تو لگ بھگ اسی فیصد ووٹ ان تین سیاسی جماعتوں کو ملا (عوامی لیگ، پیپلز پارٹی اور نیپ ولی) جو سوشلزم کی بات کر رہی تھیں۔ کیا رائے دہندگان نے کارل مارکس کی انتہائی مشکل تصنیف ’سرمایہ‘ پڑھنے کے بعد ان جماعتوں کو ووٹ دیا تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ جس عوام نے انقلاب روس برپا کیا تھا ان کی اکثریت نے شائد ’سرمایہ‘ کو ہاتھ بھی کبھی نہ لگایا ہو۔

قصہ مختصر، اگر سوشلزم کے نظریات پھیل رہے ہیں یا سکڑ رہے ہیں تو اس کی وجہ ان کا مشکل یا آسان ہونا نہیں۔ کوئی نظریہ کیوں کامیاب یا ناکام ہوتا ہے، اس پر ٹراٹسکی، گرامشی اور لوئی آلتھوسر کے نظریات بہت مدد گار ہیں۔ ان پر آئندہ کسی مضمون میں بات ہو گی۔ فی الحال اصغر گونڈوی کا یہ شعر پیش خدمت ہے جو اس بحث کو سمجھنے کے لئے ایک اچھا نقطہ آغاز ہے:

کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے
غبار قیس خود اٹھتا ہے،خود برباد ہوتا ہے

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔