دنیا

ترکی امیج بہتر کرنے کی کوشش میں مگر بیان حقائق کو نہیں بدل سکتے

قیصر عباس

ترکی کے وزیر دفاع ہلوسی اکار نے کہا ہے کہ ترکی شام کے ساتھ اپنی جنوبی سرحد وں پر امن قائم رکھنے میں سنجیدہ ہے اور وہ کسی صورت اپنی سرحد کے قریب شمالی شام کے علاقے کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔

منگل کے دن واشنگٹن ڈی سی میں ترک ہیرٹیج آرگنائزیشن کے تحت ایک آن لائن مذاکرے میں عالمی امور پر ترکی کا موقف واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے شام کی حکومت نے جمہوریت کے قیام کے بجائے تشددکی راہ اپنائی جس کا عالمی طاقتوں نے کو ئی نوٹس نہیں لیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ”پہلے داعش اور پھر کرد دہشت گرد گروپس پی کے کے اور وائی پی جی (PKK/YPG) نے اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔“

انہوں نے بتایاکہ’’شام کی صورت حال پر ترکی شروع ہی سے امریکہ سے بات چیت کرتا آیا ہے لیکن بد قسمتی سے اس کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ اسی لئے شام میں خون خرابے کو روکنے کے لئے ترکی اور روس نے پانچ مارچ کو سیزفائر کا معاہدہ کیا تھا۔“

انہوں نے بتایا کہ ”دہشت گردی پرقابو پانے کے لئے ہم نے شمالی شام میں تین کاروائیاں کی ہیں اور ہماری ان مہمات کے تین مقاصد تھے۔ اول یہ کہ اس علاقے کو دہشت گردوں کی راہداری بننے سے روکا جائے جو ہماری سرحد کے امن و امان کے لئے بہت اہم ہے۔ دوئم ہم اپنے علاقے میں اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا اپنا فر ض سمجھتے ہیں۔ سوئم اس علاقے میں ہم ایک امن زون قائم کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم شام پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے اور اپنے پڑوسی ملکوں کی قومی سلامتی ہما را نصب العین ہے۔“

انہوں نے مزیدبتایا کہ ”ترکی کردوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ ہم ان کے ساتھ صدیوں سے رہتے چلے آرہے ہیں۔ جس طرح داعش مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اسی طرح پی کے کے یا وائی پی جی بھی کردوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔“

انہوں نے شام کے علاوہ لیبیا، اور یونانی قبرص کی جانب سے بحری ساحلوں پر تیل کی تلاش پربھی ترکی کے موقف کو دہرایا۔

صدر اردگان کی سربراہی میں ترکی کی حکومت نے حال ہی میں استنبول کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ کو مسجد قرار دیا ہے جس پر عالمی پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ وزیر دفاع نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس عمارت کو عنقریب سیاحوں کے لئے بھی کھول دیا جائے گا۔

واشنگٹن ڈی سی جیسی اہم جگہ پر وزیر دفاع کے نئے بیانئے کو اسی تنقید کے اثرات کو کم کرنے کی ایک کوشش سمجھا جارہاہے۔ وزیردفاع ہلوسی اکار کا مندرجہ بالا بیان اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ ترکی کردوں کے خلاف جبر کو مغرب کے سامنے کیسے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ بنا کر پیش کر رہا ہے۔

ترکی کی جانب سے شام کے سرحدی علاقوں میں در اندازی کوبین الاقوامی قوانین کی صریحاً َخلاف ورزی سمجھاجا تاہے۔ کرد اور شام اس کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

ترکی کی موجودہ خارجہ پالیسی جہاں مشرق وسطیٰ میں خود کو ایک طاقتور فریق کے طورپر تسلیم کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے وہاں اندرونی محاذ پر کرد اقلیت کو بزور شمشیر زیر ِنگیں رکھنے کا بہانہ بھی ہے۔

پاکستان میں عموماً ترکی کے اس طرح کے سرکاری موقف کو مین اسٹریم میں پیش کیا جاتا ہے جس کی ایک مثال وزیردفاع ہلوسی اکار کا مندرجہ بالا بیانیہ ہے مگر ترکی کردستان، شام اور لیبیا میں کیا کردار ادا کر رہا ہے، اس بابت بات نہیں کی جاتی۔ اسی طرح ترکی اور داعش کے مابین معروضی تعاون پر بھی آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔