پاکستان

ڈوبتا کراچی: شہروں کا کنٹرول منافع خوروں سے واپس لینا ہو گا

عمار علی جان

بارش نے کراچی میں  تباہی مچائی ہوئی ہے اور لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا کے رکھ دیا ہے۔ کئی مقامات پر  محنت کشوں کی بستی میں شہری ایک ایسی صورت حال کا شکار ہیں جس میں گلیاں کسی گندے دریا کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔


وائے قسمت! یہ وہی لوگ ہیں جو پانی کی قلت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہوتے ہیں مگر بارش پڑتے ہی سیلاب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے شہر عفریت بن چکے ہیں۔ اس صورت ِحال کا دفاع کرنا نا قابلِ قبول ہو چکا ہے۔ رہائش، صاف پانی، بجلی، روزگار، تحفظ اور صاف ہوا کا شدید فقدان…یہ وہ چند مسائل ہیں جو ہمارے شہروں میں آفت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ کتنے ہی معصوم بچے صاف پانی کی قلت کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں ریاست نے تمام ذمہ داریوں سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔

شہروں کے مندرجہ بالا مسائل حل کرنے کی بجائے ہمارے سیاستدان اور جرنیل ایسے میگا پراجیکٹس لگانے میں مصروف ہیں جنہیں میڈیا کی زینت بنایا جا سکے یا ارب پتی لوگوں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ میگا پراجیکٹس پر سرمایہ کاری سے شہروں میں طبقاتی تقسیم اور بڑھ جاتی ہے۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں چند آبادیوں میں شیشے جیسی سڑکیں اور گالف کورس تو بن جاتے ہیں مگر اکثریت کی زندگی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے۔

ہمارے شہر طبقاتی تفریق اور تشدد کا نمونہ بن چکے ہیں۔ اگر ہم نے شہرو ں میں غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کو مدِ نظر رکھ کر متبادل منصوبہ بندی اور ترقی کے لئے جدوجہد نہ کی تو یہ شہر طبقاتی اپارتھائڈ کی شکل اختیار کر جائیں گے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے شہروں کا کنٹرول منافع خوروں، لالچی سیاستدانوں، جرنیلوں اور نالائق انتظامیہ سے واپس لیں۔ آج زندگی کا بنیادی وقار ہی داؤ پر لگ چکا ہے۔ اسے بحال کرنے کے لئے جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔  

Ammar Ali Jan

عمار علی جان حقوق خلق موومنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں۔