خبریں/تبصرے

لبرل بیٹے کی رجعتی باپ کیخلاف بغاوت: روپرٹ مرڈوک کا بیٹا احتجاجاً کمپنی سے الگ

قیصر عباس

روپرٹ مرڈوک (Rupert Murdoch) کی گلوبل میڈیا ایمپائرسے ان کے بیٹے جیمز مرڈوک نے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے خاندان کے اشا عتی ادارے نیوز کارپوریشن (News Corp) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکنیت سے جمعہ کو استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ادارتی پالیسیوں کے خلاف کمپنی سے الگ ہو رہے ہیں۔

استعفیٰ دیتے ہوئے انہوں نے بورڈ کے نام ایک خط میں کہا ”میں کمپنی کے اداروں کی جانب سے ادارتی تبصروں اور دوسرے اہم اقدامات کی وجہ سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ “ وہ نیوز کارپوریشن کی امریکہ، برطانیہ اور ایشیا کی شاخوں کے ایگزیکٹو تھے اور حال ہی میں انہیں امریکہ میں فوکس نیوز کارپوریشن کا شریک منتظم اعلیٰ (سی ای او) بنا یا گیا تھا جو فوکس نیوز چینل کی مالک ہے۔ بعد میں اس کمپنی کے تما م حقوق والٹ ڈزنی نے خرید لئے تھے۔

عام طور پر اس قسم کے فیصلوں کی تفصیلات بورڈ کے اجلاس تک محدود رہتی ہیں لیکن خاندانی امورپر اس کھلم کھلا اختلاف کا عوامی سطح پر اعتراف سنجیدہ اندرونی کشمکش کی طرف ایک واضح اشارہ سمجھا جارہاہے۔ یہ فیصلہ روپرٹ مرڈوک کی میڈیا کمپنیوں میں جاری اس رسہ کشی کا منطقی انجام ہے جو ایک عرصے سے اداروں کے بانی اور ان کے دو بیٹوں جیمز اور لاکلان مرڈوک کے درمیان نظریاتی تناؤ کاسبب بنا ہوا تھا۔

کہاجاتا ہے کہ روپرٹ اور ان کے بڑے بیٹے لاکلان نظریاتی طورپر رجعت پسند ہیں جب کہ جیمز خاصے لبرل خیالا ت رکھتے ہیں جنہیں اپنی خاندانی میڈیا کمپنیوں کی نظریاتی پالیسیوں پر سخت اعتراض تھا۔ جیمز نے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوبائیڈن کی مالی اور نظریاتی حمائت بھی کی ہے۔

جیمز اپنے اخبارات وال اسٹریٹ جرنل، نیویارک پوسٹ اور فوکس نیوز چینل میں امریکہ میں جاری نسلی تعصب کی کوریج اور تبصروں میں رجعت پسند رجحانات پر خوش نہیں تھے۔ مبصرین کی جانب سے ان اداروں کے بیانیوں میں نسلی تعصب کے فروغ کے الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔ اسی طرح آسٹریلیا میں نیوز کارپوریشن کی کوریج میں ملک کے جنگلات کی حالیہ آتش زدگی کو عالمی موسمیات کی تبدیلی سے الگ دکھایا جارہا ہے۔ جیمز اور ان کی اہلیہ کیتھرن نے بھی ان بیانیوں پر خاصی تنقید کی تھی۔

روپرٹ مرڈوک آسٹریلوی نژاد امریکی شہری ہیں جنہوں نے کئی عالمی میڈیا کمپنیوں کی بنیاد رکھی اور ان پر خاندانی ٹرسٹ کے ذریعے مالی اور انتظامی کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کی میڈیا ایمپائر کی مجموعی مالیت سولہ بلین ڈالرز سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔