خبریں/تبصرے

’دہشت گردی سے ٹی وی تک‘ :قیصر عباس اور فاروق سلہریا کی نئی تصنیف

لاہور(جدوجہد رپورٹ) پاکستانی ذرائع ابلاغ اپنی آزادانہ روش، مزاحمت اورصحافت پر عائد پابندیوں کے لئے دنیا بھرمیں پہچانے جاتے ہیں۔ گزشتہ ستر سال کے دوران ملک کے میڈیا مسلسل دباؤ اور بندشوں کا شکار رہے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر عباس اور فاروق سلہریا کی مدون کردہ نئی کتاب اس کہانی کو نئے تحقیقی زاویوں سے پیش کررہی ہے۔

 

اکیڈیمک کتابیں شائع کرنے والے معروف بین الاقوامی اشاعتی اداریروٹلیج (Routledge) کے زیراہتمام شائع ہونے والی یہ نئی تصنیفFrom Terrorism to Television: Dyanmics of Media, State and Society دہشت گردی سے لے کر میڈیا کے جہادی پروگرام، آزادی اظہار، ٹی وی ٹاک شوزمیں کشمیر کی کوریج، ملالہ یوسف زئی اور مختاراں مائی کی بین الاقوامی شبیہ، قومی اخبارات میں بلوچستان کی کوریج، سوشل میڈیا میں خواتین صحافیوں کی ہراسگی، اسامہ بن لادن اور میڈیا، آسکر انعام یافتہ پاکستانی ڈاکومنٹری اور دوسرے اہم موضوعات کا بخوبی احاطہ کرتی ہے۔ یہ تصنیف نہ صرف صحافیوں اور میڈیا کے مسائل بلکہ ریاست اور ذرائع ابلاغ کے کردار کا تجزیہ اکیسویں صدی کے سماجی پہلوؤں کے حوالے سے کرتی ہے۔

تصنیف کے مدیرڈاکٹر قیصرعباس امریکہ میں ماہرِ ابلاغیات ہیں اور امریکی یونیورسٹیز میں پروفیسر اور اسسٹنٹ ڈین رہ چکے ہیں۔ وہ روزنامہ جدوجہد کے ادارتی بورڈ کے رکن ہیں اور ان کے مضامین اور رپورٹس تسلسل کے ساتھ روزنامہ جدوجہد کی ویب سائٹ پر شائع ہوتے ہیں۔

مدیرِمعاون فاروق سلہریا بھی پاکستان کے جانے پہچانے صحافی ہیں جو لندن سے ڈاکٹریٹ کے بعد اب بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ فاروق سلہریا بھی بطور شریک مدیر روزنامہ جدوجہد سے وابستہ ہیں۔

دونوں نے کتاب کے تمہیدی باب میں ملک میں ذرائع ابلاغ کے ارتقا کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے میڈیا، ریاست اور سماج کے باہمی تعلق پر ایک نئی تھیوری تشکیل دی ہے جو اس تصنیف کا نظریاتی جواز بھی ہے۔

کتاب میں پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا سے پاکستانی میڈیا کے محققین اور صحافیوں نے ان متنوع موضوعات پر قلم اٹھایا ہے جن پر ابھی تک تحقیقی کام نہیں ہوا۔ ان مصنفین میں دونوں مدیروں کے علاوہ فوزیہ افضل خان، فیض اللہ جان، عافیہ شہربانو ضیا، عائشہ خان، امیر حمزہ مروان، حیافاطمہ اقبال اورعدنان عامر شامل ہیں۔

کتاب میں ملک کے تین سینئر صحافیوں اور دانشوروں آئی اے رحمان، ڈاکٹر مہدی حسن اور ڈاکٹر ایرک رحیم کے انٹرویو بھی شامل ہیں جنہوں نے ملک میں صحافیوں کے مسائل اور آزادی اظہار پر اپنے وسیع تجربات کی روشنی میں دانشورانہ تجزیے پیش کئے ہیں۔

تصنیف کو ملک کے ان چار صحافیوں… مسعودااللہ خان، ناصر زیدی، خاور نعیم ہاشمی اور اقبال جعفری… کے نام منسوب کیاگیاہے جنہیں جنرل ضیاکے آمرانہ دورمیں سرِعام کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس لحاظ سے یہ کتاب ان تمام دانشوروں اور صحافیوں کو خراج عقیدت کا استعارہ بھی ہے جنہوں نے آزادی اظہار کے لئے قربانیاں دی ہیں۔