شاعری

غزل: ہر گھڑی اک سفر میں رہتے ہیں

قیصر عباس

ہر گھڑی اک سفر میں رہتے ہیں
ہم تری رہ گزر میں رہتے ہیں

آسمانوں پہ ہے اڑان ان کی
وہ جو تیری نظر میں رہتے ہیں

منصب و جاہ سے نہیں نسبت
ہم کسی چشم ِ تر میں رہتے ہیں

تیری فرقت میں جاگنے والے
اوجِ شمس و قمر میں رہتے ہیں

کتنے خوش بخت ہیں وہ اہلِ نظر
دیدہِ منتظر میں رہتے ہیں

عالمِ آب و گلِ ہے گھر اپنا
ہم اسی بحر و بر میں رہتے ہیں

قید ہیں جسم و جاں کے رشتے میں
اپنے دیوار و در میں رہتے ہیں

ہم کو آواز دو کہ ہم قیصرؔ
اک جہانِ دگر میں رہتے ہیں

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔