پاکستان

پرویز ہود بھائی کو خاموش کرانے کے لئے عورت دشمن دایاں بازو ’فیمن اسٹ‘ بن گیا

فاروق سلہریا

سوشل میڈیا پر قابض ٹرولز، کلین شیو طالبان، آن لائن مولوی، آلِ یوتھ…الغرض دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہر نوع کے نظریاتی مجاہدین جو دن رات ہمیں یہ بتانے میں مصروف رہتے تھے (اور آئندہ بھی رہیں گے) کہ فیمن ازم مغرب کا ایجنڈا ہے…دو دن سے حقوقِ نسائی کے چیمپئین بنے ہوئے ہیں۔

ان منافقوں کی فیمن ازم اتنی ہی حقیقی ہے جتنی بھارتیہ جنتا پارٹی کی۔ گاو رکھشا کے نام پر مسلمانوں کے گلے کاٹنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو تین طلاق کے مسئلے پر ہندوستان کی مسلمان عورتوں کی بہت فکر لگی رہتی ہے۔

بات اگر صرف منافقت تک رہتی تو ہنس کر ٹالی جا سکتی تھی۔ منافقت کے ساتھ ساتھ کمال درجے کی بد نیتی بھی شامل تھی۔ اس لئے کہ راتوں رات رائٹ ونگ برگیڈ کا فیمن ازم کا جھنڈا اٹھا لینا ایک ایجنڈے کے تحت تھا۔

ہوا یوں کہ ایک ٹیلی ویژن ٹاک شو کے دوران پروفیسر پرویز امیر علی ہود بھائی لمز یونیورسٹی کی ڈاکٹر مریم چغتائی کے ساتھ یکساں قومی نصاب پر مکالمہ کر رہے تھے۔ ڈاکٹر مریم چغتائی یکساں قومی نصاب بنانے والی ٹیم کا حصہ تھیں۔

پرویز ہودبھائی نے یہ نقطہ اٹھایا کہ ماضی میں تعلیمی نصاب کی اسلامائزیشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں فساد پھیلا اور پھر فوج کو ردالفساد کے نام سے ایک خوفناک فوجی آپریشن کرنا پڑا۔ اسی سیاق و سباق میں انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ ڈاکٹر مریم چغتائی اور ان کے ساتھ نصاب بنانے والے لوگ جس طرح کا نصاب بنا رہے ہیں، اس کے نتیجے میں فساد پھیلے گا۔

اس ٹاک شو کے اگلے روز ٹوئٹر اور فیس بک پر پرویز ہود بھائی کے خلاف ایک شرمناک مہم شروع ہو چکی تھی۔ الزام لگایا جا رہا تھا کہ پرویز ہود بھائی نے ڈاکٹر مریم کو فسادی کہا، ان سے بد تمیزی کی اوردونوں کے اختلافی نقطہ نظر کو پدر سری نظام کے عدسے سے یوں پیش کیا گیا گویا پرویز ہود بھائی بہت بڑے میل شاؤنسٹ ہیں۔

یہ کہ یہ ساری مہم بد نیتی پر مبنی تھی اورایک ایجنڈے کا حصہ تھی، اس بات سے واضح تھا کہ پرویز ہودبھائی نے ڈاکٹر مریم کو فسادی کہا ہی نہیں۔ ویڈیو کلپ موجود ہے اور اگر انسان نے پی ٹی آئی کی عینک نہ لگا رکھی ہو تو دیکھا جا سکتا ہے کہ پرویز ہودبھائی کسی موقع پر ڈاکٹر مریم کی صنف کو بیچ میں نہیں لائے۔

دوم، جس موضوع پر بحث ہو رہی تھی، وہ بھلا اور دبا دیا گیا۔ یہ تھا ایجنڈے کا دوسرا حصہ۔

سوم، اس ساری مہم کا مقصد یہ تھا کہ پرویز ہود بھائی کی آواز دبا دی جائے، انہیں خاموش کر دیا جائے۔ یہ تھا ایجنڈے کا اہم ترین مقصد۔

پرویز ہودبھائی ایک مردہ معاشرے کا زندہ ضمیر ہیں۔ وہ طاقت اور دائیں بازو کے ہر نظریاتی یزداں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ ان کے پاس سچ کی طاقت ہے۔ ان کے ایک اخباری کالم نے یکساں قومی نصاب کے نام پر ہونے والے دھوکے اور عوام دشمن ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا۔

تمام تر ریاستی طاقت کے باوجود وزیر تعلیم شفقت محمود ہاتھ مسل رہے ہیں۔ وزیر موصوف کبھی ٹوئٹر پر جگت بازی کرتے ہیں۔ کبھی ڈان اخبار میں جھوٹی تردیدیں جاری کرتے ہیں۔

یہ ہے پرویز ہود بھائی کے سچ کی طاقت جس پر دایاں بازوتلملاتا ہے۔ اس تلملاہٹ کا بد ترین اظہار یہ تھا کہ ایک ٹاک شو کے دوران اسٹیبلشمنٹ اور دائیں بازو کا سب سے ہینڈ سم نظریہ دان وسیاستدان پرویز ہود بھائی پر باقاعدہ حملہ آور ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہینڈسم کو معلوم نہ تھا کہ پرویزہود بھائی باقاعدہ باکسنگ کرتے تھے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ پرویز ہود بھائی کے خلاف اس سڑے ہوئے نظام کا دفاع کرنے والے گِدھوں نے حملہ کیا ہو۔ کبھی بول ٹی وی پر دفاعی ماہرین یہ فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ کبھی ہارون رشید کسی چینل پر براجمان پرویز ہود بھائی کی کردار کشی کی ناکام کرشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ گدھ پہلے بھی پرویز ہود بھائی کو خاموش نہیں کرا سکے، یہ آئندہ بھی نہیں کرا سکیں گے۔

اس مردہ معاشرے کا زندہ ضمیر ہی تو امید کی ایک لو ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔