دنیا

پانچ فروری سے پانچ اگست تک کا سفر

گوہر بٹ

تین دن پہلے پاکستان بھر میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدام کے خلاف ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ پاکستان کی جانب سے یہ قدم اس عزم کے ساتھ اٹھایاگیا کہ ہم کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ عوامی سطح پر اس اقدام کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی بلکہ اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ اپوزیشن بھی حکومت کو’خاموشی اختیار‘ کرنے پر آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔

کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے قیام سے ہی چلا آرہاہے۔ اس لیے بھارت اور پاکستان کے پنجاب بارڈر کے دونوں اطراف میں بسنے والے اس مسئلے پر اپنی ایک رائے رکھتے ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل متصادم ہے۔

یہ مسئلہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ اور کارگل کی جنگ سمیت متعدد لڑائیوں کا باعث بن چکاہے۔ اس سوال پر دونوں اطراف کے سیاستدانوں کی جانب سے کافی سیاست بھی ہوتی رہی ہے۔ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے 5 اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اپنے طور پر اس مسئلے کا حل نکالا ہے جو کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے بالکل متصادم ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اس سوال پر پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے احتجاج کو دنیا نے جیسے ان سنا کردیا ہو حتیٰ کہ سعودی عرب کی جانب سے بھی پاکستان کی آواز کو کسی عالمی فورم پر اٹھانے سے منع کردیا گیا۔ صرف ترکی کی جانب سے مذمت کی گئی۔

یہ بات پاکستان کے مقتدر حلقوں کو سوچنا چاہئے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ جو مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باعث عالمی سطح پر متنازعہ مانا جاتا تھا، جب ایک ملک نے اس کی کھلم کھلا مخالفت کی تو دنیا بھر سے اس کے خلاف کوئی موثر آواز نہیں اٹھی۔

کیا اس بات کا یہ مطلب لیا جائے کہ دنیا کو کشمیر میں ہونے والے مظالم سے کوئی سروکار نہیں؟ کیا اسے پاکستانی حکومت کی عالمی سطح پر ناکامی قرار دیا جائے؟ یا پھر یہ سمجھا جائے کہ بھارت میدان جنگ میں اترے بغیر ہی پاکستان سے ایک اور جنگ جیت گیا ہے؟

یہ اور ایسے بہت سے نکات ہیں جن کے بارے میں پاکستان کے اربابِ اختیار کو کھلے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے اور ایک ایسا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے کہ جس کے تحت کشمیر کا، کم از کم، پہلے والا سٹیٹس ہی بحال ہوسکے۔

اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تودنیا کی نگاہ میں پاکستان کی حیثیت تب ہی بنتی ہے جب افغانستان سے دہشت گرد نکل کر مہذب ممالک(خود کو مہذب سمجھنے والے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک) میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ تب نیلی پیلی ٹائیاں پہنے بہت سے گورے اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں اور پاکستان کو دنیا کا اہم ترین ملک قرار دیتے نہیں تھکتے۔

ایسے کم ازکم دو مواقع تو ہماری زندگی میں آچکے ہیں۔ پہلی افغان جنگ اورگیارہ ستمبر کے بعد۔ بدقسمتی سے دونوں موقعوں پر پاکستان پر فوجی آمر حکمران تھے جنہوں نے ان موقعوں پر ملکی مفاد کو ترجیح دینے کی بجائے ذاتی اقتدار کو طول دینے کے لیے استعمال کیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں آمر کم و بیش کل ملا کر 20 سال حکومت کرکے چلتے بنے جبکہ کشمیر کا مسئلہ اخبارات کی سرخیوں اور جلسوں میں نعرے بازی تک محدود ہوکر رہ گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ بھارت عملی طور پر کشمیر کو ہڑپ کرچکا ہے جبکہ پاکستان نے کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کی بجائے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی پالیسی اپنا لی ہے۔

جب ہم نو عمر تھے تو جماعت اسلامی والے گلی محلوں میں نوجوان لڑکوں کو ورغلا کر کشمیر میں جہاد کے لیے تیار کیا کرتے تھے۔ بہت سے نوجوان کشمیر گئے۔ ان میں سے اکثر زندہ واپس نہیں آسکے۔

پھر 1988ء میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت آئی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے 5 فروری کو کشمیر ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سے 5 فروری 2019ء تک ہر سال بڑے جوش و خروش سے تقریباً َتمام سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں مال روڈ لاہور پر جلسے منعقد کرتیں۔ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے جاتے۔ جنگی ترانے بجائے جاتے۔ لوگوں کا لہو گرمایا جاتا اور پھر شام تک وہ کشمیر ’فتح‘ کرکے اپنے اپنے گھروں میں واپس چلے جاتے۔

عید الفطر پر کشمیر کے نام پر زکوۃ اکٹھی کی جاتی۔ عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں جمع کی جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ کم و بیش 30 سال تک جاری رہا۔

پھر پانچ اگست 2019ء کا واقعہ ہوگیا۔ مودی نے اعلانیہ طور پر کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا لیا۔ پاکستان کی جانب سے حکومتی سطح پر مذمت کرنے کے علاوہ قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد پاس کی گئی۔

کھالیں اور زکوۃ جمع کرنے والے کہیں غائب ہوگئے۔ کسی نے چوں بھی نہ کی۔ جو ملا حضرات گلے پھاڑ پھاڑ کر کشمیر کی آزادی کے نعرے لگاتے تھے ان کی آواز تک کسی نے نہ سنی۔ وہ ایسے خاموش ہوئے جیسے منہ میں زبان ہی رکھتے تھے۔

تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے آج ایک منٹ کی خاموشی اور خصوصی ترانے کے اجرا پر کسی نے ٹویٹ کیا جو کافی مقبول ہوا: طبل جنگ بجاتے بجاتے طبلہ بجا دیا دشمن پریشان ہے کہ لڑنا یا ڈانس کرنا ہے۔

ہمیں بچپن سے بتایا گیا ہے کہ محمد علی جناح نے کشمیر کوپاکستان کی شہہ رگ ہے قرار دیا تھا۔ بھارت نے شہہ رگ کو کاٹ دیا ہے۔ اب خاموش ہونا ہی بنتا ہے۔

اہلِ جموں کشمیر کو بھی چاہئے کہ طبلوں گانوں اور خاموشیوں کا مطلب سمجھ کو اپنی جدوجہد استوار کریں۔

Gohar Butt

گوہر بٹ عرصہ تیس سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ وہ پاکستان کے اہم اخبارات اور نیوز چینلز میں صحافتی فرائض ادا کر چکے ہیں۔