خبریں/تبصرے

فیس بک پوسٹ پر نادرا ایمپلائز یونین سندھ کے سابقہ صدر رضا خان کی بر طرفی

لاہور (روزنامہ جدوجہد) گزشتہ برس خڑ قمر سانحہ کے بعد سوشلسٹ ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو جعلی اور بے بنیاد الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ جس پر لاہور لیفٹ فرنٹ کے رہنماؤں کا مذمتی بیان اور رہائی کا مطالبہ روزنامہ جدوجہد پر شائع ہوا۔ اسی بیان اور ایک نظم کو فیس بک پر شیئر کرنے کی پاداش میں نادرا ایمپلائز یونین سندھ کے سابقہ صدر رضا خان سواتی پر انکوئری بٹھا دی گئی اور ایک سال بعد 16 جولائی کو نادرا کے اعلیٰ حکام کی طرف سے رضا خان سواتی کو برطرف کر دیا گیا۔ جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے علی وزیر سمیت دیگر ساتھیوں کیخلاف درج یہی مقدمہ واپس لینے فیصلہ کرلیا ہے اور بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں 16 مارچ کو ایک درخواست جمع کرائی گئی جسکے مطابق حکومت یہ مقدمہ واپس لینا چاہتی ہے۔

ممبر قومی اسمبلی علی وزیر نے اپنی حالیہ ٹویٹ میں برطرفی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ”انتہائی شرم کا مقام ہے ریاست کے لیے کہ وہ کسی کو اس بنیاد پر نوکری سے نکالے کہ اس نے میری رہائی کی بات کی“۔

رضا خان کی برطرفی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جس میں موجودہ حاکمیت ہر قسم کی رائے کے اظہار کو بری طرح کچل رہی ہے۔ سرکاری ملازمین سمیت بیشتر شعبہ جات کے ملازمین سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جواب طلبی کا سلسلہ شروع ہے اور گھٹن کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر رضاخان سواتی کا کہنا تھا کہ ”یہ سب کچھ ان کے خلاف ایک انتقامی کاروائی ہے کیونکہ وہ ادارے میں بڑھتی بدعنوانیوں، لازمی سروسز ایکٹ کے نفاذ اور نادرا حکام کے ملازمین کے خلاف بڑھتے استحصال کے خلاف ہمیشہ ہی سے آوا ز بلند کرتے رہے اور وہ پر عزم ہیں کہ آئندہ بھی اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے“۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نادرا کا قیام 2001ء میں ہوا اور اتھارٹی کے قیام سے لیکر آج تک ملازمین بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ نادرا اپنے قیام سے لیکر اب تک مقتدر قوتوں کے زیر تسلط رہا ہے جس کی وجہ سے سول اداراہ اور اور سول ملازمین آمرانہ احکامات اور قوانین کے زیر اثر رہے ہیں۔ دوسرے نظام سروس کی وجہ سے ملازمین احساس کمتری اور محرومی کا شکار رہے ہیں۔ نادرا کے ملازمین کنٹریکٹ پر تھے اور مکمل جاب سکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے معمولی قسم کی شکایات پر ملازمین کو برطرف کردیا جاتا تھا۔ یونین کی طویل جدوجہد کے بعد 2012ء میں نادرا ملازمین کو مستقل کیا گیا۔ مستقلی کے بعد بھی نادرا ملازمین کے تمام بنیادی حقوق ضبط رہے۔ نادرا ان اداروں میں شامل ہے جو کہ آج بھی سروس اسٹرکچر سے محروم ہے۔

یہ فیصلہ ایک سال کی طویل انکوائری کے بعد اچانک 16 جولائی کو انتظامیہ کی جانب سے ایسے حالات میں جاری کیا گیا جب کورونا وبا کی وجہ سے ملک کا اکثریتی محنت کش طبقہ بدترین معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ حالیہ فیصلہ موجودہ حکومت کی نااہلی اور مزدور دشمن اقدامات کا واضح اظہار ہے۔ ملک بھر میں محنت کشوں پر تیز ہوتے ہوئے حملے یہ ثابت کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت اور نادرا انتظامیہ کو محنت کشوں کے روزگار کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ اپنی ہٹ دھرمی اور فسطائی طرز حکمرانی کے ذریعے ہر اس آواز کو دبا دینا چاہتے ہیں جو ان کی مخالفت میں ہوں یا پھر اْن کی نااہلی اور بدعنوانیوں کو واضح کرتی ہو۔

نادرا کے محنت کشوں کے حقوق کے لئے کی گئی جدوجہد میں رضاخان سواتی ایک ایسا باب ہیں جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آمریت کے دنوں میں اس ادارے کے قیام سے لے کر آج تک وہ مسلسل محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں پیش پیش رہے اور اسی پاداش میں وہ مسلسل چوتھی بار ادارے سے بے دخل کردیئے گئے مگر انتظامیہ کے اس ظلم اور جبرکے باوجود بھی وہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھنے کاعزم رکھتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے رضاخان سواتی کے خلاف انتظامیہ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے انہیں حراساں کرتی رہی ہے۔ ہر بار کوئی نیا جواز فراہم کرکے ان کے خلاف ادارتی کاروائیوں کا سلسلہ گزشتہ پوری دہائی سے جاری رہا ہے۔ مگر ہر بار اْن کے خلاف لگائے گئے الزامات اعلیٰ عدالتوں میں بے بنیاد ثابت ہوئے اور انہیں بحال کردیا گیا مگر ادارہ مسلسل ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ان کی نجی زندگی کی سرگرمیوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور ان کے ساتھ تصاویر بنانے والے نادرا ملازمین کے خلاف ادارہ مسلسل کاروائیاں کرتا دیکھا گیا۔ مگر اس سب کے باوجود بھی رضاخان سواتی کے حوصلے پست نہیں ہوسکے اور وہ اپنی ٹریڈ یونین سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے ہر محاذ پر نادرا ملازمین کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔