دنیا

اسرائیل کی ایک اور سفارتی فتح

طارق علی

مصر اور ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ اسرائیل کتنا ہی بڑا ظلم ڈھائے، ان تعلقات پر آنچ نہیں آتی۔ ترکی ناٹو کا رکن ہے اور رجب طیب اردگان کی اسرائیل کے خلاف تمام تر بکواسیات کے باوجود ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کئے۔

مصر کو امدادکی شکل میں بہت بڑی رشوت ملتی ہے۔ اردن تو ایک عرصے سے اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ باجگزار ہے۔ اب متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے۔ عرب امارات نے اسرائیل کو ایک ایسے وقت تسلیم کیا ہے کہ جب فلسطینی بلا ناغہ مارے جا رہے ہیں جبکہ نیتن یاہو کی کابینہ میں ایسے وزیر شامل ہیں جنہیں فاشسٹ کہا جا سکتا ہے۔ جی ہاں فاشسٹ۔

ذرا ملاحظہ کیجئے یہ حضرات عربوں بارے کیا بیانات دے رہے ہیں، ذرا دیکھئے کہ یہ لوگ فلسطینیوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، ذرا غور کیجئے کہ قبضہ کیسے آگے بڑھ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات سے کیا گیا یہ وعدہ کہ اسرائیل باقی ماندہ فلسطین پر قبضہ نہیں کرے گا، سفید جھوٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ قبضے کا منصوبہ بن چکا ہے اور اس پر عمل درآمد کی تیاری ہے۔

خلیجی ریاستیں (اسرائیل کی طرح) سامراج کی پیداوار ہیں لیکن ابھی تک وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور سفارتی معاہدوں کو خفیہ رکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔ یہ نقاب بھی اتر گیا۔ اب متحدہ عرب امارات بھی اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ باجگزار ریاست بن جائے گا۔

عرب امارات کے بعد کس کی باری ہے؟ سعودی عرب؟ ان کی بھی اسرائیل سے ملاقاتیں اور رابطے موجود ہیں۔ سعودی عرب کے راستے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں۔ اندرونی خلفشارکا خوف؟ ممکن ہے ایسا ہو مگر یاد رہے وہابی اسٹیبلشمنٹ نے ابن سعود کے، پہلے، برطانیہ، بعد ازاں، امریکہ کے ساتھ معاہدے پر بھی مہرتصدیق ثبت کر دی تھی۔

یہ سارے حالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف بی ڈی ایس (Bocott, Disinvest, Sanctions) تحریک پہلے سے بھی زیادہ اہم ہے۔

Tariq Ali

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔