تاریخ

خالد علیگ: جدوجہد کا شاعر

ایوب ملک

15 اگست 2007ء کو معروف انقلابی شاعر، صحافی و سیاسی کارکن خالد علیگ کا یومِ وصال تھا۔ ان کو ہم سے بچھڑے قریب گیارہ سال ہو گئے ہیں لیکن آ ج جب میں ان پر لکھنے بیٹھا ہوں تو یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے خالد بھائی ہم سے بچھڑے ہی نہیں، وہ یہیں کہیں ہم میں ہی موجود ہیں۔ وہی نرم و شیریں لہجے کی گفتگو، وہی ہر وقت خود میں پرسکون نظر آتے، اپنے تند و تیز لہجے میں شعر سناتے بالکل کل کی طرح میری یاداشتوں میں محفوظ ہیں۔ آج اگر میں یہ کہوں کہ میری زندگی پر سب سے زیادہ اثر خالدؔ علیگ کا ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔

خالدؔ علیگ کی شخصیت کا گرویدہ ہونے کی وجوہات ناقابل یقین حد تک انوکھی ہیں اور اہم ہیں جن میں پہلی بات ان کے کردار کی عظمت ہے کہ انہوں نے تاحیات سچائی کو اختیار کئے رکھا۔ دوسری بات خود داری ہے جس کی آبیاری کی مثال مجھے اس معاشرے میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ سچ، خودداری اور ذاتی کردار کی ہر عظمت ان کے حصے میں آئی تھی۔

انہوں نے تاحیات کسی ادارے یا فرد سے کبھی کوئی مالی معاونت قبول نہیں کی، زندگی کے بہت کھٹن دن بڑی خندہ پیشانی سے گزارے اور کسی کو احساس تک نہیں ہونے دیا۔ روزنامہ مساوات 1979ء میں بند ہونے کے بعد انہوں نے تاحیات اپنے واجبات بھی اس لیے نہیں لئے کہ دیگر ملازمین کو انتظامیہ واجبات دینے میں ٹال مٹول کرتی رہی تھی۔ اس سے قبل بھی اور بعد ازاں بھی خالدؔ علیگ کی زندگی سادگی کی عظیم مثال تھی۔ انہوں نے زندگی کا کافی حصہ لانڈھی میں ایک 80 گز کے مکان میں گزاردیا۔ اس مکان کی خستگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھااور گھر میں بنیادی سہولتیں موجود نہیں تھیں۔

وہ بھٹو صاحب کے خاص دوستوں میں سے تھے مگر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی سے کوئی مالی معاونت تو کیا کوئی صحافتی ملازمت بھی قبول نہیں کی۔ مساوات بند ہونے کے بعد اپنی قیام گاہ کے قریب ایک عوامی ہوٹل ان کی مستقل بیٹھک تھا جہاں ان کے مداح انہیں گھیرے رہتے تھے۔ یہ بیٹھک مغرب کے بعد رات گئے تک جاری رہتی تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خالدؔ علیگ کی بیگم شکیلہ خالد نے بھی اپنے شوہر کی روش کو اپنا یا اور خالد بھائی کی وفات کے بعد کسی ادارے اور کسی بھی فرد سے کوئی نذرانہ قبول نہیں کیا۔ میں نے قول و فعل کی سچائی کے ساتھ نظرئیے سے کمٹ منٹ اور خود داری کی ایسی بلندی رکھنے والا شخص خالدؔ علیگ کے سواکوئی اور نہیں دیکھا۔

میں ان سے ملا اور ایک شاگردکی طرح ان کے حلقہِ دوستاں میں شامل ہوگیا تھا۔ تاہم شخصیت کے مطالعے کا وقت تو بعد میں آیا۔ برسراقتدار افراد، حکومتوں اور برسراقتدار طبقے کے خلاف خالد علیگ اپنی شاعری میں جس طرح صدائے استرداد اور ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے تھے وہ ان کے علاوہ اس دور میں حبیب جالب کے سوا کسی اور میں نظر نہیں آتی۔

تفکر کی جو گہرائی اور ترقی پسند مارکسی فکر سے وابستگی، جو شعور اور علم خالد علیگ کے پاس تھا اور صحافیانہ زندگی کے سبب حالات حاضرہ سے جتنی واقفیت ان کے پاس تھی وہ کسی اور کے پاس نہیں تھی۔ سچائی کی راہ میں کچھ مشکل مقامات کا ذکر بھی خالد علیگ کی زبان سے سنا اور ان کی شخصیت کا اثر ہم پر دو گنا ہو گیا۔

خالد بھائی نے ایک بار بتایا کہ 1958ء میں ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف انہوں نے قطعہ لکھا تھا ”گھر پر قبضہ کر بیٹھے گا یارو چوکیدار نہ رکھنا“۔ اس پر فوجی انتظامیہ حرکت میں آگئی اور خالد بھائی کو گرفتار کرکے میجر ٹکہ خاں کی سمری فوجی عدالت میں پیش کیا گیا تاکہ سزا تجویز کردی جائے۔ اس بات کا علم ہونے پر معروف سماجی اور علمی شخصیت مولانا فرنگی محلی خود عدالت جا پہنچے اور خالد علیگ کو سزا سے بچانے کے لیے ٹکہ خان سے کہا کہ وہ خالد علیگ کو علی گڑھ کے زمانے سے جانتے ہیں اور یہ کہ یقینا کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ وہ قطعہ خالد علیگ کا نہیں ہو سکتا۔ خالد بھائی نے کہا کہ ساری زندگی مجھ پر کبھی اتنے سخت لمحات نہیں آئے جن سے میں اس وقت گزرا۔ اس وقت اگر ٹکہ خان مجھ سے مولانا کی بات کی تصدیق کرواتے تو جھوٹ بولنے کی صورت میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا اور سچ بولنے کی صورت میں ایک بڑی شخصیت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا وہ بھی میرے لیے قابل برداشت نہیں ہوتا مگر بس یوں کہ ٹکہ خان مجھ سے مخاطب نہیں ہوئے اور مولانا سے کہا کہ اچھا آپ ایسا سمجھتے ہیں تو انہیں لے جائیں۔

2007ء کی ابتدا میں خالدؔ علیگ بس سے اتر کر اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے گر کر بے ہوش ہوگئے۔ ایم کیو ایم والوں نے انہیں پہچان کر اور ان کی صحت کی قابل تشویش صورت حال کے سبب فوری طور پر اسپتال میں داخل کروا دیا۔ اگلے دن صبح خالد علیگ کوہوش آیا تو انہوں نے ہسپتال کے عملے سے سوالات کئے اور جیسے ہی انہیں صورت حال کا علم ہو اوہ فوراً اسپتال سے چلے آئے کہ انہیں اہل اقتدار کی طرف سے کوئی سہولت قبول نہیں ہے۔ اگلے روز ہم لوگوں نے منت سماجت کرکے انہیں دوسرے اسپتال میں داخل کرایا۔ خود داری کی ایسی کئی مثالوں سے خالد بھائی کی زندگی بھری پڑی ہے۔

خالد بھائی کی زندگی میں سوائے اس تضاد کے علاوہ کوئی تضاد نہیں تھا کہ ان کی شخصیت نہایت نرم خو اور ملائم اور شاعری اسی کے بالکل برعکس انتہائی جارحانہ! وہ خود میں ایک مکمل شخصیت کے حامل تھے۔ ان میں کہیں کوئی جھول نظر نہیں تھا۔ وہ شہرت و نمائش کی دولت سے بالکل بے نیاز لیکن خود داری کی دولت سے مالامال تھے۔ خالدؔ بھائی اپنی شاعری کو کبھی یکجا نہیں کرتے تھے او ر نہ انہیں اس سے کوئی نسبت تھی۔ ہم دوستوں نے مل کر ان کے کلام کو یکجا کیا اور اسے کتابی شکل میں لانے کی سعی کی۔ بالآخر کتاب مکمل ہوئی اور اشاعتی شکل میں ظہور پذیر ہوئی۔ اب ہم دوستوں نے مل کر محمود باویجہ کی میزبانی میں اس کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام کیا۔ اب پہلی مشکل جو اس ذیل میں ہمیں پیش آئی وہ خالد بھائی کو اس تقریب میں شرکت کے لیے منانا تھا۔

خیر بہت کوششوں سے وہ اس تقریب میں آنے کے لئے رضامند ہوئے۔ تقریب اپنے لحاظ سے کراچی شہر کی ایک شاندار تقریب تھی مگر ہم سب کی اس وقت حالت دیکھنے کی تھی جب خالد بھائی کو اپنی شاعری سنانے اور گفتگو کرنے کے حوالے سے بلایا گیا تو انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ہی ان جملوں سے کیا مہانانِ گرامی!

”ہم بھی آپ ہی کی طرح اس تقریب میں بطورِ مہمان شریک ہوئے ہیں یہ تقریب پروفیسر ریاض صدیقی، ایوب ملک، محمود باویجہ اور ان عزیزوں نے مل کر سجائی ہے اور ہمارا نام اس کتاب کے مصنف کے طور پر ساتھ رکھا ہے عرض کرتے چلیں کہ اس کتاب اور تقریب دونوں کے ساتھ ہمارا سوائے ایک مہمان کے کوئی تعلق نہیں۔“

خالدؔ بھائی نے شاعری کی تقریباً تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ نظم، موضوعاتی نظم، غزل اور قطعات وغیرہ سبھی میں خالد بھائی نے اپنی شاعری کے جادوئی رنگ بکھیرے ہیں۔ خالد بھائی کی شاعری کا خاصہ تھا کہ نظم ہو یا غز ل یا پھر کوئی قطعہ ہر مصرع پر خالد بھائی کی چھاپ نظر آتی تھی چونکہ شاعری میں اکثر ایسے ہوتا ہے کہ نظم اور غزل ایک ہی شاعر کی ہونے کے باوجود اس پر دو شاعروں کاگمان ہونے لگتا ہے سوائے چند ایک بڑے شاعروں کے (اقبال، فیض وغیرہ)۔ خالد بھائی کی شاعری کا غالب حصہ انقلابی و جہدِ مسلسل پر مشتمل تھا لیکن ایک بات جو نہایت اہم ہے باوجود اس کے کہ ان کی شاعری انقلابی کیفیت کی حامل تھی۔ اس میں کہیں بھی جمالیات کا عنصر غائب نہیں ہوتا۔ ان کے شعر کا ہر مصرع اپنا مکمل جواز رکھتا ہے۔

خالد ؔعلیگ نے کامریڈ حسن ناصر کی شہادت کا بہت اثر لیا۔ اس لیے حسن ناصر پر لکھی گئیں نظمیں ان کی معروف ترین نظمیں ہیں۔ ان نظموں میں خالد بھائی کا تخیل تادیر تسلسل کے ساتھ سفر کرتا ہوا انقلابی خیالات، ظلم کے خلاف آوازاورجذبہ حریت کو اپنے جمالیاتی تصورکے ساتھ یوں مزین کرتے ہیں کہ قاری ان کی گرفت سے باہر نہیں نکل سکتا۔

شب13…نومبر کی شب مرگ وفاہے
دمِ مقتل زنداں میں کوئی توڑ چکا ہے!
خوں روئے گا اب کون تمنائے سحر کو
اس طرح تو پتھر نہیں کرتے ہیں نظر کو
اکتا کے خموشی سے زباں کھول اٹھیں گے
لب وا ہیں کہ جیسے ابھی کچھ بول اٹھیں گے

حسن ناصر پر لکھی ان کی مقبول ترین نظم

گام گام مقتل!
ساتھیو! دیدہ ور و! ہم سفرو!خوش نفسو!
شہر زنداں کے رفیقو!کوئی آواز تو دو
کوئی نغمہ، کوئی نوحہ، کوئی آہنگ نہیں
کیسے فرہاد ہو، سودائے سر وسنگ نہیں
میں کہ آزادی افکار کا سرنامہ ہوں
اپنے مقتل کی طرف خود ہی چلا آیا ہوں

خالد بھائی کا یہ شعر ان کی سچائی کا امین ہے!

مرا شہر مجھ پہ گواہ ہے کہ ہر ایک عہدِسیاہ میں
وہ چراغ راہ وفا ہوں میں کہ جلا تو جل کہ بجھا نہیں

ان کی شاعری ان کے سماج سے سچے اور بھرپور کمٹ منٹ سے عبارت ہے جو اسی شدت احساس، تخیل کی بلندی اور اپنے تمام تر جمالیاتی عناصر کے ساتھ قاری کو مرغوب کر لیتی ہے۔

میرا اندوہ طرب، عیش فغاں سب سے الگ
میں نے ایجاد کیا طرز فغاں سب سے الگ

ان کی شاعری جرات اظہار کا بہترین نمونہ ہے۔ ہمیں فخر ہے اردو شاعری میں خالدؔعلیگ نے جدوجہد اور انکار کے اسلو ب کو مکمل جمالیاتی پیمانوں کے ساتھ آگے بڑھا یا اور ”ایجاد کیا طرز فغاں سب سے الگ“۔

ایسے بہت سے نمونے آپ کو خالد بھائی کی شاعری میں ملیں گے جن کو پڑھ کر خالد بھائی کے جمالیاتی و مصرع سازی کو بخوبی جانا جا سکتا ہے یہ صرف اس لیے عرض کئے کہ کہیں قارئین خالد بھائی کی شاعری کے حوالے سے انقلابی کیفیت کا نظریہ ہی قائم نہ کر لیں۔

خالد بھائی کواکثر شاعر و نقا د مزاحمتی شاعر کہا کرتے تھے لیکن خالد بھائی ان کی اس رائے سے ہمیشہ اختلاف رکھتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے میں مزاحمت کانہیں جدوجہد کا شاعر ہوں۔

Ayub Malik

ایوب ملک ترقی پسند سیاست کرنے والے ایک سیاسی کارکن، ناشر اور کالم نگار ہیں۔ ان کے کالم روزنامہ جنگ میں بھی شائع ہوتے ہیں۔