دنیا

5 اگست 2019ء: وسیع تر پیغام کیا تھا؟

پرکاش کرات

ترجمہ: ریاض ملک

ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین کی دفعہ 370کو منسوخ کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی جانب سے اٹھائے گئے بد نام زمانہ اقدامات اور ریاست کو دو لخت کرکے دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے والی تباہ کن قانون سازی کو 5 اگست 2020ء کو ایک سال ہو گیا۔

ایک ہی جھٹکے میں ہندتوا حکمران اُس وعدے کو توڑ گئے جو کشمیری عوام کے ساتھ الحاق کے وقت کیاگیاتھا کہ انہیں خود مختاری دی جائے گی، جو آئین کے ذریعے فراہم کردہ خصوصی درجہ پر منتج ہوئی تھی۔ جموں و کشمیر کے لوگوں پر مزید ذلت و رسوائی کے لئے ہندوستانی وفاق کی ایک ریاست کے طور ان کا وجود ختم کیاگیا۔

جس فاتحانہ تکبر اور غرور کے ساتھ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اس غیر قانونی آئینی ترمیم اورقانون سازی کو لایا، وہ ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کا اقتدار ختم کرنے پر جشن منانے کا کھلم کھلا اظہار تھا۔

اس سیاہ برسی پر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ گھنائونی حرکت ریاست کو ایک وسیع جیل میں تبدیل کرکے کی گئی تھی۔ تقریباً 40 ہزارفوج تعینات کی گئی تھی، ریاست بھر میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا، تمام مواصلاتی ذرائع (بشمول موبائل فون اور ٹیلی ویژن) منقطع کئے گئے تھے، مکانوں کے باہر نقل و حرکت منع تھی اور میڈیامکمل طور بندکیاگیاتھا۔ بی جے پی کو چھوڑ کرسیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان اور دیگر عوامی شخصیات کو یا تو کٹھور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا یا بغیرکسی تحریری حکم کے اپنے گھروں میں خانہ نظر بندکیاگیاتھا۔

جمہوریت اور جمہوری حقوق کا گلہ گھونٹنے کے اس عمل میں مودی حکومت نے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ انٹرنیٹ مہینوں تک بند تھا۔ ایک سال گزر جانے کے بعد بھی کشمیر کو صرف 2 جی نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہے نہ کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح 4 جی تک۔ اس فقید المثال محصوریت نے ریاست کی معیشت اور تجارت کو بری طرح متاثر کیا۔ وبائی مرض کی وجہ سے دوسرے لاک ڈاون کے ساتھ کسانوں اور عام لوگوں کی روزی روٹی کو معدومیت سے دوچارکیاگیاہے۔ اگرچہ کچھ رہنمائوں اور کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے، لیکن بہت سے افراد جیل میں ہی ہیں، یا محبوبہ مفتی کی طرح نظر بند ہیں۔ یہاں تک کہ جیل سے رہائی پانے والوں میں سے کچھ ا بھی تک نظر بند ہی ہیں۔

وبائی لاک ڈاون کو جموں وکشمیر کو ایک مرکزی علاقہ کے طور پر نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ محدود کی گئی اسمبلی کے لئے نشستوں کی تازہ حد بندی کا عمل شروع کیا گیا۔ ایک نئی ڈومیسائل پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے ذریعے جموں و کشمیر کے باہر کے افراد کو رہائشی حیثیت مل سکتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ملازمت حاصل کرسکیں گے اور زمین بھی خرید سکیں گے۔ یہ وادی کی آبادی کو تبدیل کرنے کے منصوبے کا آغاز ہے۔ ایک میڈیا پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جو میڈیا اور صحافیوں کو ڈھٹائی کے ساتھ ڈرانے اور ان کی آواز دبانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

جموں و کشمیر پر حملہ، جو ایک سال پہلے شروع کیا گیا تھا، تنہائی میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ یہ مودی سرکار کے دوسرے دور میں شروع کردہ جمہوریت، سیکولرازم اور وفاقیت پر زور دار حملوں کا پیش خیمہ تھا۔ جموں وکشمیر کو بطور ریاست ختم کرنے کے بعد اگلی قانون سازی کا اقدام پارلیمنٹ میں سی اے اے کو اپنانا اور ملک بھر میں سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہروں کے خلاف جبر کو ہونے دینا تھا۔ غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون( یو اے پی اے) اور بغاوت سے متعلق قانون کے بے دریغ استعمال کے ذریعے آمرانہ حکومت کو تقویت بخشی گئی۔ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے استعمال نے اس کی پیش گوئی کی تھی۔ صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کرنااُس منظم عمل کا ماحصل تھا جو جموں و کشمیر میں دہرایاگیاتھا، جہاں دو صحافی ابھی بھی یو اے پی اے کے تحت جیل میں ہیں۔

انتباہ واضح ہے کہ باقی ہندوستان میں سیکولر اور جمہوری قوتیں، ریاستوں کے حقوق اور سیکولرازم کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو جموں وکشمیر کے ساتھ ہوا ہے۔

5 اگست کو ایودھیا میں رام مندر کی تقریب میں ”بھومی پوجن“ کی تاریخ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اس تاریخ کا جان بوجھ کر انتخاب کیا گیا۔ بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر اور جموں و کشمیر کا انہدام، دونوں ہندتوا قوتوں کے بنیادی ایجنڈے کا حصہ تھے۔ وزیر اعظم نے ایک مذہبی عبادت گاہ کی سنگ بنیاد تقریب میں پہلی اینٹ رکھ کر ریاست کے سیکولر اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔ مشکوک بنیادوں پر مبنی سپریم کورٹ کے فیصلے کا شکریہ کہ ایودھیا میں مندر کی عمارت کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ عدالت، جس نے مسجد کے انہدام کو ”قانون کی سنگین خلاف ورزی“ قرار دیاتھا، نے اکثریت کے عقیدے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مندر تعمیر کرنے کی منظوری دے دی۔

اسی سپریم کورٹ کو اُس آئینی ترمیم اور قانون سازی کے بارے میں فیصلہ سنانے کا وقت نہیں ملا جس نے غیر قانونی طور آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے ریاست کو ختم کردیا۔ یہ عدالتی احتراز اور اجتناب کی ایک اور مثال ہے۔

ہندتوا طاقتوں کی یلغار کا مقابلہ پوری طرح سے ہونا چاہئے۔ جموں و کشمیر کے معاملے میں ہم نے سیکولر حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں کو یہ موقف اختیار کرنے پر راضی نہیں دیکھا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجہ کو بحال کیا جانا چاہئے۔ وہ اس معاملے کو صرف سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جمہوری حقوق کی بحالی تک کم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک سمجھوتہ کرنے والا موقف ہے۔ جمہوریت، سیکولرازم اور وفاقیت کی جنگ کے لئے واضح موقف کی ضرورت ہے۔ خصوصی حیثیت کے ساتھ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنا ہو گا۔ ایسانہ کرنے سے ہندوستان کا سیکولر جمہوریت کی حیثیت سے قد مزید کم ہو جائے گا۔

Parkash Karat

پرکاش کرت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکرٹری تھے اور آج کل پولٹ بیورو کے رکن ہیں۔