دنیا

عرب دنیا کی سیاست اور معیشت مارکسزم کی مدد سے ہی بہتر سمجھ آتی ہیں

آدم ہنیہ

آدم ہنیہ اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز (SOAS) میں پڑھاتے ہیں اور خلیجی ریاستوں کے معاشی و سیاسی نظام پر تحقیق کرتے ہیں۔ ان موضوعات پر ان کی کم از کم تین کتابیں اور درجنوں مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ بائیں بازو کے معروف امریکی جریدے جیکوبن کے ساتھ وہ مندرجہ ذیل انٹرویو میں ان ممالک کی معیشت و سیاست بارے ایک مارکسی نقطہ نظر سے تجزیہ کرتے ہیں:

مغربی تجزیہ نگار عموماً خلیج کو سرمایہ دار ریاستوں سے ہٹ کر انوکھا تصور کرتے ہیں لیکن خلیج میں بھی وہ محرکات کارفرما ہیں جو کسی بھی سرمایہ دارانہ ملک میں پائے جاتے ہیں حتیٰ کہ یہی قوتیں مشرق وسطیٰ کی سیاست کا تعین کر رہی ہیں۔

دسمبر 2019ءمیں سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے ریاستی تیل کی کمپنی ’آرامکو‘ کی جزوی نجکاری کا اعلان کیا گیا۔ یہ آج تک کی تاریخ کی سب سے بڑی ’انیشیل پبلک آفرنگ‘(Initial Public Offering) ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا معیشت کو نیولبرل سرمایہ داری کی ڈگر پر لانے کے منصوبہ میں یہ ایک بہت بڑا اقدام تھا۔

اسی طرح کے رحجانات خلیج کے باقی ممالک میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ جس میں خطے کے سیاسی بیانئے کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی اثاثہ جات کی نجکاری اور عوامی اخراجات میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ خصوصاً 2014ءکے بعد سے یہی صورتحال نظر آتی ہے۔

سوال: رائے عامہ میں خلیج کے خطے کو انوکھا تصور کیا جاتا ہے یعنی ایک ایسا خطہ جس میں نیم جاگیردارنہ باقیات بھی پائی جاتی ہیں لیکن بہرحال اس نے جدید سرمایہ داری کو بھی اپنا یا ہے۔ اس تعلق کو سمجھنے کے لیے ابتدائی طور پر جو رینٹیئر سٹیٹ (کرایہ دار ریاست) کا نظریہ (Rentier State Theory) اپنایا گیا، کیا اس خطے کی موجودہ معاشی و سیاسی صورتحال کو سمجھنے کے لیے یہ نقطہ نظر کافی ہے؟

آدم ہنیہ: رینٹیئر سٹیٹ کے نظریے کے کئی پہلو ہیں لیکن انکی مشترک خصوصیت خلیج میں پیٹرول اور ہائیڈروکاربن مرکبات کی برآمدات کے ذریعے حاصل ہونے والی دولت پر پروان چڑھنے والے سماجی، معاشی اور سیاسی کردار کا تعین کرنی کی کوشش ہے۔ یہ اس لئے ”کرایہ جات“ کہلاتے ہیں کیونکہ یہ ان ممالک کی قومی حدود میں پائے جانے والے قدرتی ذخائر کے حسن اتفاق سے موصول ہوتے ہیں۔ دراصل یہی دولت خلیج کے حکمرانوں کو سماج کی دوسری پرتوں پرحاوی رہنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ اسی طریقہ کا رکے ذریعے ہی خلیج کے تمام اقدامات بشمول مطلق العنانیت، کمزور سول سوسائٹی، نیٹ ورک کے بیرونی جال پر انحصار، کرایہ دار نفسیات اور اقتصادی ترقی کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

یقینا ہائیڈروکاربن (پیٹرول اور گیس) کی درآمدات کا خلیج کی سیاسی معاشیات میں بہت اہم کردار ہے لیکن خلیج اور قدرتی وسائل کی حامل دیگر ریاستوں کے تجزیے کے لیے رینٹیئر سٹیٹتھیوری کے طرزِ اطلاق پر کئی تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔ میرے خیال میں رینٹیئر سٹیٹتھیوری کے لئے سب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہمارے تجزیے کو خلیجی سماج کے سرمایہ دارانہ کردار سے پرے دھکیل دیتا ہے۔ گویا ان ممالک کی اپنی کوئی مخصوص خصوصیات ہیں اور وہ باقی تمام جگہوں کے سرمایہ دارانہ محرکات سے بالکل جدا ہیں جبکہ اپنے تجزیے سے سرمایہ داری کو خارج کرنے کا مطلب ہے طبقات کو تجزئے سے خارج کرنا۔

اس نظریے میں نجی سرمائے کو بہت کمزور اور نحیف بتایا جاتا ہے اور محنت کی اہمیت اور محنت کش طبقے کے کرادار کو انتہائی پست کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح ہم خلیج ریاستوں کی ایک انتہائی بھونڈی تفہیم تک ہی رسائی کر پاتے ہیں۔

اس کے بر عکس، میرے خیال میں ریاست اور طبقات کی تشکیل کا مارکسی نقطہ نظر خلیج کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے زیادہ سود مند اور قابلِ فہم ہے۔ مارکسی نظریہ ہماری توجہ دیگر کئی سوالات اور مسائل کی جانب مبذول کرواتا ہے جیسا کہ خلیج میں سرمائے اور محنت کی بنیاد پر طبقات کاوجود کیسے ہوا؟ ان طبقات کا باہمی تعلق کیا ہے؟ سرمائے کے ارتکاز (مثلاً پیدارو، اشیا کا تبادلہ اور سرمایہ کاری وغیرہ) کے اہم لمحات کیا تھے؟ اور یہ سب آپس میں کس ربط میں جڑے ہیں؟ خلیج میں ارتکازِ سرمایہ کے مقامی محرکات کیا ہیں؟ اور یہ کیسے قومی، علاقائی اور عالمی سطح تک بڑھے ہیں؟ ان تمام محرکات میں خلیج کی ریاست کاکیا کردار رہا؟ ہم حاکم خاندانوں، سرمایہ دار طبقے، تارکین وطن مزدوروں اور مقامی شہریوں کو کس تصور میں لاتے ہیں؟ خلیج میں طبقات کی صنفی اور نسلی نوعیت کیا ہے؟ اس نوعیت کے سوالات خلیجی سماج کے سرمایہ دارانہ کردار کو آشکار کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ رینٹیئر سٹیٹ تھیوری سامراج اور عالمی منڈی کے کردار کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے خلیج کو پوری دنیا کے عالمی عوامل سے یکسر کاٹ کر الگ تھلگ کر دیتا ہے لیکن کوئی بھی اس خطے کی امریکی طاقتوں کے ساتھ دیرینہ یکسوئی اور مرکزیت یا مغربی ریاستوں کی طرف سے خلیجی خاندان حاکمیتوں کی عسکری اور سیاسی حمایت کو خاطر میں لائے بغیر خلیج میں ”جمہوریت کے فقدان“ کی وضاحت کس طرح کر سکتا ہے؟ اسی طرح ایک اہم نقطہ نو آبادیات کی تاریخ اور ماضی کی جنگوں کو سمجھنا ہے جس کی بنیاد پر آج کا خلیج تشکیل پایا ہے۔

سمجھنے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک اور عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ ریاستوں کے مابین کوئی عجیب و غریب تنازعہ نہیں ہے بلکہ اس کے الٹ ہے اور میرے خیال میں مغربی ممالک کے بائیں بازو کے وسیع حلقوں میں بھی اس نقطہ نظر کو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ خلیج ہمیں اس بارے میں بہت کچھ سکھا سکتا ہے کہ دوسری جگہوں پر بھی درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کس طرح کام کرتا ہے۔

سوال: پیٹرو ڈالر کیا ہوتا ہے اور کیا یہ آج کے عالمی نظام میں بھی ایک کارگر عنصر ہے؟

آدم ہنیہ: پیٹرو ڈالر کی اصطلاح 70ءکی دہائی میں ایجاد ہوئی تھی اور یہ اس آمدن کے لیے استعمال ہوتی تھی جو مختلف ممالک کو ہائیڈوکاربن کی برآمدات پر حاصل ہوتی تھی۔ یہ سرمایہ ممالک میں اندرونی طور پر بھی خرچ کیا جا سکتا تھا یا پھر دوبارہ عالمی مارکیٹ میں گردش میں آجاتا تھا۔ تاریخی اعتبار سے عالمی مالیاتی منڈیوں کی تشکیل میں پیٹرو ڈالر ز کا اہم کردار تھا اور آج بھی ہے۔

اس کے ظہور کے ساتھ نام نہاد ’یورو مارکیٹس‘ تشکیل پائیں۔ یہ 1950ءاور 1960ءکی دہائیوں میں قومی انضباطی نظام کی حدود سے باہر یورپ میں تشکیل پانے والی ایسی منڈیاں تھیں جو بڑی حد تک ٹیکس اور قومی مالیاتی ضابطوں سے مستثنیٰ تھیں۔ لندن ان یورو مارکیٹس کا اہم عالمی مرکز بنا جس نے بینکوں اور کمپنیوں کو قومی منڈیوں سے مختلف کرنسی کے حامل بانڈز اور ڈیپازٹس میں کاروبار کرنے کی اجازت دی اور اسی طرح 1970ءکی دہائی میں خلیج کی آئل کمپنیوں کی نیشنلائزیشن اور اس کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے بعد یورو مارکیٹوں میں کام کرنے والے شمالی امریکہ اور یورپی بینکوں میں پیٹرو ڈالر کے ذخائر بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

خلیجی پیٹرو ڈالر کے اس بہاو نے بین الاقوامی بینکوں کی ملٹی نیشنل کمپنیوں، حکومتوں اور دیگر قرض دہندگان کو قرض دینے کی صلاحیت میں بہت اضافہ کیا اور 1970ءکی دہائی سے پیداوار کو بین الاقوامی بنانے میں مدد دی۔ 1980ءکے دوران ’’تیسری دنیا“کے قرض کے بحران کے پھیلاو میں بھی یورومارکیٹس کا کردار تھا، جب جنوب میں محدود پیسوں والے ممالک یورو مارکیٹوں کے ذریعے ری سائیکل شدہ پیٹرو ڈالر ادھار لینے پر مجبور ہوگئے اور اس طرح بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ قرضوں کے تعلقات میں جکڑے گئے۔ آج کے عالمی مالیاتی نظام میں ’لندن شہر‘ کی طاقت ان مارکیٹوں کی براہ راست میراث ہے اور اس تمام تر صورتحال میں خلیج کی پوزیشن نہایت اہم ہے۔

بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے بعد سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بطور غالب عالمی طاقت اور اس کے استحکام میں بھی خلیجی پیٹرو ڈالراہم تھے۔ تیل کی قیمتوں کا امریکی ڈالر سے تعین کرنے سمیت تیل سے حاصل شدہ آمدن کی امریکی ٹرثری سیکیورٹیز (Treasury Securities)، حصص اور سٹاک میں سرمایہ کاری کرنے کے خلیجی ممالک کی طرف سے کیے جانے والے معاہدے اور راضی نامے نے پہلے سے مضبوط حیثیت کے حامل امریکی ڈالر کو ”عالمی کرنسی“ کے طور پر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

عالمی منڈیوں میں پیٹرو ڈالر کو ری سائیکل کرنے کے دیگر کئی بلاواسطہ ذرائع بھی موجود تھے۔ جن میں خلیجی ممالک کی طرف سے غیر ملکی خدمات(سروسز) اور اشیا ءکی خرید شامل ہے۔ خاص طور پر وہ اشیا ءجو شہری انفراسٹرکچر کی تعمیر سے جڑی تھیں جیسے مشینری، ٹرانسپورٹ کے آلات، اعلیٰ سطح کی انجینئرنگ اور تعمیرات کے شعبے میں خدمات وغیرہ۔ اور بلاشبہ پیٹرو ڈالر کی ری سائیکلنگ کا سب سے بڑا ذریعہ خلیج کے ممالک کی طرف سے اسلحہ اور دیگر عسکری خدمات کی خریداری ہی رہا۔ 2015ءاور 2019ءکے درمیان اسلحے کی عالمی تجارت کا 20 فیصد صرف چھ خلیج ریاستوں نے خریدا۔ اسلحہ کی درآمدات کی عالمی رینکنگ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر بالترتیب پہلے، آٹھویں اور دسویں نمبر پر رہے۔ اس عرصے میں امریکی اسلحہ کی کل برآمدات کا چوتھا حصہ صرف سعودی عرب نے خریدا جو کہ 2010-14ءکے عرصے میں 7.4 فیصد تھا۔

سوال: کیا آپ خلیج کے سرمایہ دار طبقے اور اسکے ریاست اور حاکم خاندانوں کے ساتھ تعلقات پر مزید روشنی ڈال سکتے ہیں؟

آدم ہنیہ: خلیج میں بڑا سرمایہ عام طور پر کئی عناصر کے باہمی اشتراک کے ساتھ جڑاہوا ہے جس میں تعمیرات سے لے کر رئیل سٹیٹ، صنعتی عوامل (خصوصاً سٹیل، ایلومینیم اور کنکریٹ) ریٹیل کاروبار (بشمول درآمدی تجارت اور شاپنگ سینٹر اور مالز کی ملکیت) اور مالی اعانت سمیت کئی اقتصادی شعبہ جات شامل ہیں۔ یہ اشتراکی عناصر ان خاندانوں کے کنٹرول میں ہیں جن کی بنیادیں قدیم کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ پیوست ہیں اور خلیج کے حکمران خاندانوں اور ریاستی ڈھانچے میں ان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔

اب خلیج کی تمام ریاستوں میں مختلف طرز کی بادشاہتیں ہیں اور حکمران خاندان ریاست کے وسیع حصے سمیت پیٹرول اور گیس سے حاصل شدہ بے پناہ دولت پر قابض ہیں۔

خلیج میں سرمائے کا ارتکاز بڑی حد تک ریاست کی قربت اور حکمرانوں کی حمایت پر منحصر ہے۔ اس کو کئی پہلوو ں سے دیکھا جا سکتا ہے جیسے زمین پر سبسڈی اور دیگر کئی گرانٹس، مختلف منصوبوں کے ریاستی معاہدے، نجی سرمائے اور ریاست کی مشترکہ سرمایہ کاری، نجی اشتراکی گروہوں کی بیرون ملک سرمایہ کاری میں ریاستی اداروں کی مکمل سیاسی سرپرستی اور مالی اعانت وغیرہ۔ خلیجی سرمائے کا ریاست کے ساتھ اس قسم کا رشتہ کوئی انوکھا نہیں ہے۔ یہ آج کے دور میں دنیا کے کسی خطے میں بھی بڑے سرمایہ دار کا کاروبار کرنے کا معمول ہے۔

اب رینٹیئر سٹیٹ تھیوری کا ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ خلیج میں نجی سرمایہ کمزور ہے اور ایک مضبوط ریاست کے زیر سایہ ہے۔ یہ خیال ریاست اور سرمائے کو علیحدہ علیحدہ کاٹ کر دیکھتا ہے جو کہ میرے خیال میں اصولی طور پر غلط ہے۔ در حقیقت حکمران خاندان کے افراد اکثر ذاتی حیثیت میں بڑے کاروباروں کو کنٹرول کرتے ہیں اس لیے ان کو نجی سرمایہ دار کی حیثیت سے دیکھنے کی ضرورت ہے ( ساتھ ہی یہ بھی کہ کس طرح ریاستی طاقت اس بنیادی معاملے میں اثر انداز ہو رہی ہے)۔

مثال کے طور پر قطر میں سٹاک مارکیٹ کی 80 فیصد فرمز میں حکمران خاندان ’الثانی ‘ کا کم از کم ایک فرد بورڈ میں بیٹھا ہوا ہے۔ اب یہ فرد یہاں کسی ریاستی ادارے کی نمائندگی نہیں کر رہا بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں کام کر رہا ہے۔ اسی طرح دبئی کا حاکم ’محمد بن راشد آل مکتوم‘ امارات کی کئی بڑی کمپنیوں بشمول رئیل سٹیٹ فرمز، بینک اور ایک بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے نجی حصص کا مالک ہے۔

مختصر یہ کہ، میرے خیال میں، خلیج میں ریاست اور طبقاتی تعلقات کے مارکسی اندازِ فکر کو دوبارہ روشناس کرانے کی ضرورت ہے… یعنی ایک ایسا نقطہ نظر جو خلیج میں ریاست کو طبقاتی طاقت کا غماز سمجھتا ہے اور سرمایہ دار طبقے میں ریاستی اشرافیہ اور حکمران خاندانوں کو شامل جانتا ہے۔

سوال: آپ نے اپنی کتاب ’Capitalism and Class in the Gulf States‘ میں خلیج کے طبقات کو جدا کرنے اور زائد پیداوار کے بحران پر قابو پانے میں ’مقامی محرکات کے تعین‘ کو اہم عنصر کے طور پر پیش کیا ہے۔ خلیج کے ان مقامی محرکات کو متعین کرنے میں کو نسے عناصر شامل ہیں؟ اور یہ کس انداز میں کا رفرما ہوتے ہیں؟

آدم ہنیہ: بلاشبہ میں نے یہ اصطلاح ’ڈیوڈ ہاوری‘ سے مستعار لی ہے جنہوں نے اس کا استعمال یہ سمجھانے کے لیے کیا تھا کہ کس طرح سرمایہ بحران کے لمحات کو قابو کرنے یا اس کے بعد بحالی کے لیے ان مخصوص محرکات کا استعمال کرتا ہے۔ میرے خیال میں ہم خلیج میں تارکین وطن مزدوری کے سلسلے میں اس قسم کے مطابقتی عمل کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب، اومان، بحرین اور کویت میں غیر شہری آبادی کا تناسب 56 سے 82 فیصد تک ہے اور یہی تناسب قطر اور متحدہ عرب امارات میں 95 فیصد تک ہے۔ یہ حیران کن اعشاریے خلیج میں طبقاتی ڈھانچے کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ بدنام زمانہ کفیل نظام کی بدولت یہ مہاجرین محنت کش نجی آجر کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں جو نہ ہی کوئی متبادل روزگار ڈھونڈسکتے ہیں حتیٰ کہ یہ بغیر اجازت ملک بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ان محنت کشوں کی ایک وسیع اکثریت نجی شعبوں میں ملازم ہے۔ جن میں تعمیرات، گھریلو ملازمت اور ریٹیل کے تمام شعبہ جات شامل ہیں۔ یہ کم ترین اجرتوں پر خطرناک کام کے حالات میں سخت استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے تارکین وطن محنت کشوں کا استحصال ان باہمی اشتراک کے حامل گروہوں کے کاروبار کا بنیادی عنصر بن جاتا ہے جس کا ذکر میں نے پہلے کیا ہے۔

تارکین وطن مزدوروں کے اس بہاو کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطی، مشرقی افریقہ اور دیگر کئی خطوں کے لاکھوں خاندانوں کا انحصار خلیج سے مزدوروں کے ذریعہ موصول ہونیوالی ترسیلات پر ہے۔ دنیا کے کسی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیج میں عالمی جنوب کے زیادہ تارکین وطن محنت کش ہیں اور اکیلا سعودی عرب دنیا میں ترسیلات زر کا (ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بعد) دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

تارکین وطن کی محنت کا سرحد پار کا یہ بہاو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طبقہ کوئی سادہ سا تجریدی زمرہ نہیں جو قومی حدود میں سرمائے اور قدر زائد کی پیداوار کے مخصوص رشتہ کا اظہار کرتا ہے۔ درحقیقت طبقات مختلف جغرافیاوں کو آپس میں جوڑتے ہوئے وجود میں آئے ہیں اور سرحدوں کے پار انسانی بہاو ( اور نقل مکانی) کے ذریعے مسلسل بنتے اور تشکیل پاتے رہتے ہیں۔ جب ہم خلیج میں ’محنت کشوں کی ریزرو آرمی ‘ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ان لاکھوں لوگوں کو ذہن میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے جو شاید ’گلف کوآپریشن کونسل‘ سے باہر رہتے ہیں لیکن بہرحال وہ خلیج کی محنت کی منڈی میں وقتاً فوقتاًً آتے جاتے رہتے ہیں۔

اب جبکہ معاشی زوال کا عہد ہے تو کئی تارکین وطن محنت کشوں کو بڑی آسانی سے خلیج سے واپس گھروں کو بھیج دیا گیا ہے اور عموماًایسا بغیر کسی واجب الادامعاوضے یا بقایا اجرتوں کی ادائیگی کے کیا جاتا ہے۔ یہی صورتحال ہم نے بڑے پیمانے پر 2008ءکے بحران کے وقتوں میں دیکھی تھی اور آج بھی اسی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ چند ہفتے پہلے دبئی کے فنانس کے شعبے کے سابقہ سربراہ نے اپنی ٹویٹ میں رواں سال میں امارات کی آبادی میں کم ازکم 10 فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ ایک حیران کن عندیہ ہے! لیکن یہ ان کئی طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے جس سے خلیج کی ریاستیں بحران کے ان لمحوں سے جزوی طور پر نبٹنے میں کامیاب رہی ہیں، یعنی ایسے طریقے مرتب کرنا جس سے مقامی مزدوروں کی ترتیب ممکن ہو اور بحران کے اثرات کو عالمی منڈی کے غریب علاقوں میں منتقل کیا جائے۔

سوال: بعد از ’عرب بہار‘ بیشتر خلیجی ممالک کی طرف سے ہمسایہ ممالک میں دراندازی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ مزید واضح ہو گیا جب 2013ءمیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی طرف سے مصر میں فوجی آمریت کی حمایت کی گئی جس کے ذریعے عبدالفتح السیسی طاقت پر براجمان ہوئے جبکہ قطر نے ’اخوان المسلمین ‘ کی حکومت کی حمایت کی جو کہ اس وقت زیر عتاب تھی۔ کیا اس سیاسی تناو سے کوئی معاشی جہت وابستہ ہے؟ خلیج کے سرمائے اور مشرق وسطیٰ کی سیاست میں کونسا وسیع ترتعلق پایا جاتا ہے؟

آدم ہنیہ: میرے خیال میں زیادہ اہم یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے کی سیاست کو معاشی عوامل سے کاٹ کر نہ دیکھا جائے۔ گزشتہ کچھ دہائیوں سے اس پورے خطے میں منڈی کی نیو لبرل معاشی پالیسیوں کا جارحانہ اطلاق کیا گیا ہے اور انکو عالمی مالیاتی اداروں (IFIs) کے قرضوں سے منسلک ساختی اصلاحاتی پیکجز کے ذریعے لاگو کروایا گیا ہے۔ اس طرح پیکجز میں معمول کی ”اصلاحات“ بھی شامل ہوتی ہیں جیسے نجکاری، برآمدات کے رحجان پر مبنی پیداوار اور زراعت، محنت کی منڈی اور سرمائے کوچھوٹ، بیرونی سرمایہ کاری (FDI) کی راہیں ہموار کرنا وغیرہ۔ ان پالیسیوں کا اطلاق مختلف ریاستوں میں مختلف انداز میں کیا جاتا ہے۔ لیکن 2010ءکے اواخر میں ابھرنے والی ’عرب بہار‘ سے عین پہلے عالمی مالیاتی اداروں (IFIs) کی طرف سے مصر اور تیونس جیسے ممالک میں ان پالیسیوں کو تواتر سے بہت بڑی کامیابی گردانا جا رہا تھا۔

اب، ان معاشی تبدیلیوں کے کئی دیگر پہلو وں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ اس خطے کی جابر آمریتوں کے ساتھ وابسطہ ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ تیونس میں زین العابدین بن علی اور مصر میں حسنی مبارک دونوں 1980ء کی دہائی میں ساختی اصلاحتی پیکجز کے نفاذ کے نام پر اقتدار براجمان ہوئے تھے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی طرف سے انکو سراہا گیا۔ یہ بالکل واضح ہے کہ ساختی اصلاحات کی جب بہت بڑے پیمانے پر مخالفت ہو تو آپ کو کوئی ایسا فرد چاہیے ہوتا ہے جو خوفناک داخلی جبر کے ذریعے ان کا اطلاق یقینی بنائے۔

یہی وجہ ہے کہ خلیج میں آمریتوں اور نیولبرل اصلاحات کے مابین تاریخی طور پر گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ یہ 1990ءاور 2000ء کی دہائی میں امریکی ماہرین کی تخلیق کردہ آزاد منڈی اور آزاد انتخابات کی خرافات کی اصل حقیقت ہے۔

سیاست اور معیشت کے مابین اس تعلق کو سمجھنا آج کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ سیاسی تبدیلیوں اور حقیقی معاشرتی تبدیلیوں کے درمیان رابطے کی نشاندہی کرتا ہے۔ عرب کی بغاوتوں کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ معاشی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے صرف طاقت پر براجمان شخصیت کو بدلنا کافی نہیں۔

1990ءاور 2000ء کی دہائیوں کے نیو لبرل اقدامات بھی خطے کی سطح پر ترتیب پانے والی نئی سیاسی و اقتصادی درجہ بندیوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اس کے اہم پہلووں میں سے ایک خلیج کے سرمائے کی خطے بھر میں عالمگیریت تھی۔ یعنی خلیج کی اشتراکی کاروباری گروہوں کی ہمسایہ عرب ممالک میں سرمایہ کاری۔ اس ضمن میں اشتراکی کاروباری گروہ، جن کی میں پہلے بات کر چکا ہوں، سمیت ریاستی زیر انتظام سرمایہ کاری کے ذرائع بھی مشرق وسطیٰ کے ان نیولبرل اقدامات سے مستفید ہوئے۔ اس کا مشاہدہ کئی اہم معاشی شعبہ جات میں کیا جا سکتا ہے۔ جیسے رئیل سٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ، لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر، بینکنگ اور فنانس، میڈیا اور ٹیلی کمیونیکیشن، رٹیل اور ٹریڈ اور زراعت کا کاروبار وغیرہ۔ میں نے اپنی حالیہ کتاب میں اس عمل کو تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس علاقائی سرمائے کا بہاو کئی طریقہ کار سے ہوتا ہے جن میں مرجر اور ایکیوزیشن، عرب کی سٹاک مارکیٹوں میں چھوٹے پیمانے کے پورٹ فولیو، سرحد پار ذیلی اداروں کا قیام اور لائسنس اور ایجنسی کے حقوق پر قبضہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان اور دیگر کئی طرح کے وسائل کے ذریعے خلیجی سرمائے کی عالمگیریت بڑی تیزی سے عرب ریاستوں میں پیداوار، کھپت اور مالی سرگرمیوں کو تشکیل دیتی ہے۔ بیشتر عرب ممالک کی سیاسی معاشیات خود خلیج کے سرمائے کے ارتکاز کی حرکیات کے ساتھ ہم آہنگ ہوگئی ہیں۔

نتیجتاً خلیج اور یہاں ہمیں باہمی حریفوں اور مقابلے کے تناو کا بھی ادراک رکھنا ہوگا، کا اس پورے خطے کی سیاسی معاشیات میں اہم عمل دخل ہے۔ ہم خطے کی سیاسی صورتحال کو یہاں کی معاشی جہتوں سے جدا نہیں سوچ سکتے اور نہ ہی اس کے برعکس۔

سوال: کیا آپ خلیج اور مشرق وسطیٰ کی مستقبل کی ممکنہ صورتحال کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں خصوصاً کورونا وبا کے تناظر میں ؟

آدم ہنیہ: یہ خطہ ممکنہ طور پر تیز ترین بہاو کی کیفیت میں ہے۔ وبا سے پیشتر مشرق وسطیٰ کو گہرے بحرانوں کی کیفیات کا سامنا رہا ہے۔ جس میں سے ایک شام، یمن، لیبیا اور عراق میں جاری جنگوں کی وجہ سے مہاجرین اور اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد ہے۔ یہ خطہ اب دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی جبری نقل مکانی کا گڑھ ہے۔ بے گھر ہونیوالوں کی بڑی تعداد اب کیمپوں یا رش سے بھری شہری جگہوں میں رہتے ہیں۔ جہاں اس مہلک وائرس سے متاثر ہونے کے خطرات مزید بڑھ جا تے ہیں۔ غذائی قلت سمیت دیگر کئی مہلک بیماریاں  (جیسے یمن میں ہیضے کا دوبارہ ظہور ہونا) پھیل رہی ہیں، جو پھر وبا کے پھیلاو سے پہلے کی جنگوں اور تنازعات کا شاخسانہ ہیں۔

2019ءسے ہم مشرق وسطیٰ خصوصاً سوڈان، لبنان، الجیریا، مراکش اور عراق میں عوامی مزاحمت اور جدوجہد کی ایک نئی لہر کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو گزشتہ دہائی کی بغاوت سے کسی حد تک جدا نظر آتے تھے۔ اور اس نئی تحریک میں رجائیت کے کئی وجوہات موجود ہیں۔ یہ تحریکیں غربا، مزدوروں اور غیر رسمی کام کے شعبہ جات سمیت سماج کی کئی پرتوں تک پھیل رہی ہیں۔ انہوں نے پسماندگی کی کوششوں کے خلاف موثر انداز میں مزاحمت کی اور خصوصاً لبنان اور عراق میں فرقہ واریت کے خلاف ان تحریکوں کا کرادار انتہائی مضبوط رہا ہے۔

ان تحریکوں نے سیاست اور معیشت کے باہمی ربط کا درست ادراک حاصل کیا ہے۔ مثال کے طور پر لبنان میں مظاہروں کا ہدف بینک تھے جو کہ اقربا پروری اور سیاسی بدعنوانی جیسے روایتی مسائل سے ایک آگے کی جست ہے۔ 2019ءکے مظاہروں میں ایک اہم نقطہ خطے کی علاقائی درجہ بندیوں اور ڈھانچوں کو دھتکارنا تھا۔ جیسا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور ایران جیسی ہمسایہ طاقتوں کی سازشوں کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔

یقینی طور پر، کورونا وبا نے ان تحریکوں کو عارضی طور پر پیچھا دھکیلا ہے اور لوگوں کی طرف سے احتجاج کے طور پر سڑکوں اور چوراہوں پر مظاہروں کی صلاحیت کو ماند کیا ہے لیکن ان تحریکوں کا موجب بننے والا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا ہے۔ درحقیقت، میرے خیال میں، اس خطے کے حکمران طبقات کی حکمرانی کے جواز پر قدغنیں لگانے والے غربت، عدم مساوات اور بدعنوانی جیسے مسائل کورونا وبا اور عالمی معاشی بحران کے ان وقتوں میں مزید واضح اور گہرے ہوں گے۔

خلیج میں یقینی طور پر سب سے بڑا مسئلہ گزشتہ پچھلے چند مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں تیز ترین گراوٹ ہے۔ دیگر تمام تیل کی پیداوار کے حامل ممالک کی طرح یہ گراوٹ خلیج کی مالیاتی حیثیت پر سنجیدہ انداز میں اثر انداز ہوگی اور بلاشبہ سماجی اخراجات پر بھاری کٹوتیاں کی جائیں گی، جن میں کچھ کے باقاعدہ اعلانات کیے جا چکے ہیں، اور اسی طرح پچھلے کچھ سالوں کے اعلان کردہ خلیجی ”ویژن“ کے چند بڑے منصوبوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

لیکن، میرے خیال میں، اس بحران کو اوپر بیان کیے گئے کچھ رحجانات اور ممکنات کے مستقل طور پر خاتمہ کا موجب سمجھنا غلط ہو گا۔ خطے کی دوسری ریاستوں کے برعکس خلیج حکومتیں نسبتاً کم مقروض ہیں اور دولت کے وسیع ارتکاز تک رسائی رکھتی ہیں اور عالمی منڈی سے سستے قرضے لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ کورونا وبا نے تیل کی عالمی منڈی کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن بعد از وبا کی دنیا میں پڑوسی ممالک کے اثاثہ جات اور وسائل کی سستی دستیابی جی سی سی تیل کی کمپنیوں کی حیثیت کو مستحکم کر سکتی ہے۔

اور جیسا کہ اکثر خلیج میں ہوتا ہے، معاشی بحران اور کورونا وبا کی قیمت تارکین وطن محنت کشوں کو چکانی پڑی ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب نے ایتھوپیا کے تارکین وطن محنت کشوں کو ملک بدر کرنا شروع کر دیا ہے اور اقوام متحدہ کی اندرونی میموکے مطابق مجموعی طور پر 2لاکھ لوگوں کی جلا وطنی متوقع ہے۔ خلیج میں تارکین وطن مزدوروں کے خلاف نسل پرستانہ تقاریر کے ساتھ ساتھ نئے قوانین بھی عمل میں لائے جا رہے ہیں جن کے تحت نجی کمپنیوں کا اختیار دیا جا رہا ہے کہ غیر شہری ملازمین کی تنخواہوں میں مستقل کمی کر سکتے ہیں یا ان کو بلا معاوضہ جبری طور پر چھٹیوں پر بھیج سکتے ہیں۔

بشکریہ: جیکوبن

Adam Haneih

آدم ہنیہ لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں پڑھاتے ہیں۔ ان کی تازہ ترین کتاب ’منی، مارکیٹس اینڈ منارکیز‘ (کیمبرج یونیورسٹی پریس) ہے جس میں خلیجی ممالک کی سیاسی معاشیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔