دنیا

جو بائیڈن در پردہ کمیونسٹ ہیں: ٹرمپ کا’انکشاف‘

قیصر عباس

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے’انکشاف‘ کیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن ایک کمزور اور نااہل امید وار ہیں جو لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ در پر دہ کمیونسٹ حلقوں کے امیدوار ہیں اور ان ہی کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔

جمعرات کو ریپبلکن پارٹی کے انتخابی کنونشن کے آخری دن صدر ٹرمپ نے گونا گوں مسائل میں گھرے امریکہ کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ انہیں مسائل کے حل کے لئے مزید چار سال کی ضرورت ہے۔ صد ر نے دوسری ٹرم کے لئے پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی قبول کرتے ہوئے ملک کے تمام مسائل کاذمہ دار کسی نہ کسی کو ٹھہراکر خود کو تما م ذمہ داریوں سے بری الذمہ قراردینے کی کوشش کی۔

حال ہی میں ریاست وسکانسن کے قصبے کنوشا میں ایک سفیدفام نوجوان کی فائرنگ سے دو افریقی النسل امریکی مارے گئے اور تیسرا ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ بے روزگار امریکیوں کی تعدادتشویش ناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ادھر امریکہ میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 181,655 اور متاثرین کی تعداد تقریبا چھ ملین ہوگئی ہے جو دنیامیں سب سے زیادہ ہے لیکن اس کی روک تھام کے لئے ابھی تک کوئی واضع سرکاری حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔

صدرٹرمپ نے و سکانسن میں دو افریقی نژاد امریکیوں کے قتل کا ذمہ دارعلاقے میں برسرِ اقتدار ڈیموکریٹک پارٹی کو ٹھہراتے ہوئے کہاکہ جہاں جہاں افریقی النسل باشندوں کے ساتھ نا انصافیاں ہوئی ہیں وہاں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت ہے جو انہیں روکنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ ان کے بقول ان کے پاس اس کا آسان حل تھا:

”ملک کے کئی شہروں میں جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت ہے تشدد زور پکڑ تا جارہا ہے اور صورت حا ل بہت خطرناک ہو گئی ہے۔ اگر وہ چاہتے تو حالات پر آسانی سے قابو پایا جاسکتاتھا۔ مجھے صرف ایک فون کرنے کی ضرورت تھی۔ مجھے ان کی فون کال کا انتظارر ہے گا۔“

اسی طرح انہوں نے امریکی سماج میں نسلی امتیاز کے اہم مسئلے سے نبٹنے کے لئے ہمیشہ کی طرح پولیس اور فوج کے ذریعے قانونی طریقہ کارپر زور دیا۔ انہوں نے سفید فام امریکیوں کے تعصبانہ رویوں کواپنی مخالف پارٹی کے سر تھوپنے کی کوشش کی حالانکہ وہ خود ان رویوں کو گزشتہ چار سال سے شہ دیتے آرہے ہیں۔ شواہد کے مطابق کنوشا کی فائرنگ میں ملوث نوجوان کا ایک سفیدفام نسل پرست گروہ سے تعلق بتایا جارہا ہے اور اس کی ایک ٹویٹ سے معلوم ہوتاہے کہ وہ صدر ٹرمپ کا حامی ہے۔

کوؤڈ 19 کو ’چین کاوائرس‘ قراردیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چین نے اسے ملک کی سرحدوں کے اندر روکنے کے بجائے پوری دینا میں پھیلانے میں کردار اداکیاہے۔ انہوں نے اعلان کیاکہ”اس سال کے آخرمیں یا اس سے بھی پہلے ہم اس وباکی ویکسین دریافت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔“

ملک میں کئے گئے رائے عامہ کے متعدد سروے واضح طور پر صدر ٹرمپ کو کرونا وائرس کی روک تھام میں ناکام قراردے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صدر نے لوگوں کی توجہ اندرونی حالات سے ہٹاتے ہوئے اپنے سرسے یہ بوجھ بھی اتارنے کی کوششِ ناکام کی اور چین کو اس کا ذمہ دار بھی قراردیا۔

تیسرا بڑا مسئلہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے۔ کرونا وائرس سے پہلے امریکہ میں بیروزگاری کی شرح خاصی کم ہوچکی تھی لیکن اب تقریباً 30 ملین لوگ بیروزگارہوچکے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں اس کی ایک وجہ تو اس وبا کی روک تھام میں حکومت کی کمزور حکمتِ عملی اور موثر انتظامات کی ناکامی ہے اور دوسری وجہ جلد از جلدحالات کو اپنی ڈگر پر لانے کے لئے اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت دینا ہے۔

ان دونوں محرکات کے نتیجے میں ملک میں اب تک اس وبا پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے بلکہ کچھ ریاستوں میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعدادمیں اضافہ دیکھا گیاہے۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں حسب توقع کوئی ذمہ داری لینے سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ انتظامیہ نے کروناوائرس کے تمام مریضوں کو ونٹیلیٹرز فراہم کئے ہیں اور صحت عامہ کے کارکنوں کو بلا تخصیص ماسک بھجوائے گئے۔

مخالف پارٹی کے صدارتی امید وار جو با ئیڈن کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ”درحقیقت سوشلسٹ ہیں جوایک کھلے عام مارکسسٹ برنی سینڈرز اور ان کے ریڈیکل حواریوں کو چیلنج کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں…جوبائیڈن اگر امریکہ میں برسر اقتدار آئے تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔“

شاید یہ جوبائیڈن کی بڑھتی ہو ئی مقبولیت کا ہی اثر تھا کہ صدر نے پوری تقریر میں 41 مرتبہ جو بائیڈن کا ذکر کرکیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے چار سال میں وہ کردکھایا ہے جو ان کے مخالف امیدوار اپنی پوری زندگی میں نہیں کرسکے۔ اس کے مقابلے میں جو بائیڈن نے اپنی کنونشن کی تقریر میں صدر کا نام لئے بغیر پارٹی کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی تھی۔

اسی بیانیے کوجاری رکھتے ہوئے صدر نے ایک تیر سے تین شکار کئے۔ انہوں نے لوگوں کی توجہ ا ہم ملکی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی، ایک خطرناک اندرونی دشمن کی نشاندہی کی اورساتھ ہی ساتھ اپنے رجعت پسند ووٹ بینک کو مزید مضبوط بھی کیا:

”امریکہ آج احتجاج اور لوٹ مار میں ملوث گروہوں اور امریکی پرچم نذر آتش کرنے والے انارکسٹ سیاسی کارکنوں کے حملوں کی زد میں ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ان کا نشانہ میں ہوں کیونکہ میں یہ جنگ آپ کے لئے لڑرہا ہوں۔“

تقریر کے آخر میں انہوں نے یاددلایا کہ”آپ کا ووٹ فیصلہ کرے گا کہ ہم قانون کا احترام کرنے والے پرامن امریکیوں کو تحفظ فراہم کریں یا تشدد پسند انارکسٹ، احتجاجیوں اور اور مجرموں کو شہریوں کی زندگی اجیرن بنانے کی کھلی چھٹی دیں۔“

ڈیموکریٹک اور رپبلکن پارٹیوں کے کنونشنز کے اختتام کے بعد دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان ٹی وی مباحثوں اور اشتہاری مہمات کے ذریعے ملک میں انتخابی سرگرمیوں کی گہما گہمی کا آغاز ہونے والا ہے اگرچہ کرونا وائرس کے زیر اثر براہ راست جلسوں اور تقریبات میں بہت حد تک کمی کی امید ہے۔

مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ان و وٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جوکسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہیں یا جنہوں نے 2016ء میں انہیں ووٹ دیا تھا مگر اب ان کی چار سالہ کارکردگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ان میں آزاد ووٹروں کے علاوہ ان کی اپنی پارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے وسیع و عریض لان میں ہونے والے اس کنونشن میں تقریباًڈیڑھ ہزار لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا جو عالمی طاقت کے اس مرکز میں امریکی جمہور یت کی ایک اہم روایت کا حصہ بنے۔ طاقت کے اس عظیم الشان مظاہرے کا ایک مقصد یہ بھی تھاکہ صدر کے پس منظر میں کھڑے مضبوط ستونوں کے ذریعے عمارت کے باسی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا بھی دیا جا سکے۔

سیاسی پنڈتوں کی رائے کے مطابق دنیا کے سب سے طاقتور ملک میں جمہوریت کے اس کھیل کی تیاریاں آخری مرحلے کو پہنچ رہی ہیں۔ اس سال نومبر میں فیصلہ جوبھی ہو، اگر انتخابی نتائج واضع طور فتح اورشکست کا فیصلہ نہ کرسکے تو صدر ٹرمپ وہ کھلاڑی ہر گز نہیں جو آسانی سے کھیل کا میدان چھوڑجائیں!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔