پاکستان

یکساں قومی نصاب ہمیں بند گلی میں پہنچا دے گا

طارق رحمن

حکومت نے حال ہی میں پہلی سے پانچویں جماعت کے لئے اپنا ’یکساں قومی نصاب‘ پیش کیا ہے۔ مجھے یہ بات ابتدا میں ہی تسلیم کر لینے دیجئے کہ اس مجوزہ نئے نصاب میں بعض ایسے مضامین شامل کئے گئے ہیں جن پر ماضی میں توجہ نہیں د ی گئی۔

حفظان صحت، پڑوسیوں کا خیال رکھنا، گفتگو اور روزمرہ کے آداب میں شائستگی پر زور دینا‘ اس حوالے سے اہم ہیں۔ میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ ایسے موضوعات ہر سکول میں ہر طالب علم کو سکھانا انتہائی ضروری ہیں۔ یہ موضوعات جنرل نالج کے مضمون میں شامل کئے گئے ہیں گو ان موضوعات پر مبنی ایک باقاعدہ مضمون ہونا چاہئے۔ اسی طرح احادیث کا انتخاب بھی بہت اچھا ہے۔

آئیے اب بات کرتے ہیں کہ اس نصاب کے خطرناک پہلو کیا ہیں: طلبہ پر پڑھائی کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے، تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی جبکہ عدم برداشت، فرقہ پرستی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک میں اضافہ ہوا ہے۔

آئیے پہلے بچوں پر پڑھائی کے بوجھ کی بات کرتے ہیں۔ بچوں کو مدرسے والے نظام تعلیم میں جو ’مکتب‘ کی سطح پر پڑھایا جا رہا ہے، یعنی ناظرہ قرآن، اب تمام سکولوں میں پڑھایا جائے گا۔ مزید براں، احادیث جو مدرسے کی سطح پر پڑھائی جاتی تھیں مگر مکتب کی سطح پر نہیں، وہ بھی اس نصاب میں شامل کر دی گئی ہیں۔

مسلمان بچے ہمیشہ سے گھر پر قرآن پڑھتے آئے ہیں۔ اب یہ ذمہ داری سکول کے حوالے کی جا رہی ہے۔ کیا اس عمل کے غیر ارادی نتائج نکل سکتے ہیں؟ جی بالکل۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ رٹا بازی کا رجحان بڑھے گا کیونکہ بچوں سے کہا جائے گا کہ وہ قرآنی آیات بھی یاد کریں اور احادیث بھی۔

جب بچے گھر میں قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی یاداشت کا امتحان نہیں لیا جاتا۔ پھر یہ کہ بچوں نے کتنے سال میں ناظرہ قرآن ختم کرنا ہے، یہ ماں باپ کی مرضی ہوتی ہے۔ اسکول میں یہ لچک نہیں ہو گی۔ بچوں کو احادیث یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اب اس کا بھی امتحان ہو گا۔ یہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ مبادا ایسا نہیں ہے کہ صرف سیکولر سکولوں کے طلبہ پر بوجھ بڑھے گا، مدرسے کے طلبہ پر بھی بوجھ بڑھ جائے گا۔ اگر انہیں میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں بیٹھنا ہو گا تو اپنے مضامین کے علاوہ ریاضی، اردو، انگریزی، جنرل نالج اور سائنس کے مضامین بھی پڑھنے ہوں گے۔

مکتب آٹھویں جماعت کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ اُولا اور ثانیہ کے ساتھ درس نظامی شروع ہوجاتا ہے۔ اُولا اور ثانیہ میں طلبہ کو قرون وسطیٰ میں لکھی گئی میزان الصرف، منشعب اور نوائے میرجیسی گرامر کی دقیق کتب پڑھنی ہوتی ہیں۔

روایتی کتابوں کے علاوہ طلبہ کو جدید نصاب سے بھی عربی سیکھنا ہو گی جبکہ اس ضمن میں زور رٹے بازی پر دیا جائے گا۔ مذہب کی اس قدر تعلیم کے بعد اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ بچوں کے پاس جدید مضمون پڑھنے کے لئے بھی وقت ہو گا (ان کے بھاری بھرکم بستے اور ہوم ورک کو ذہن میں رکھتے ہوئے) تو میرا اس شخص کو مودبانہ مشورہ ہو گا کہ آپ مدرسے میں ہی داخلہ لے لیں تو بہتر ہے۔

یکساں نصاب بنانے والوں نے ایک اور حقیقی مسئلے کی جانب بالکل توجہ نہیں دی۔ وہ یہ کہ یہ نصاب یکساں ہر گز بھی نہیں ہے۔ جب مسلمان بچے مذہبی مضامین کو رٹا لگا رہے ہوں گے تو غیر مسلم بچے اس دوران دیگر مضامین پڑھیں گے۔ وہ بچے کیا پڑھیں گے یا انہیں کیسے پڑھایا جائے گا۔ یہ اور بھی زیادہ پیچیدہ سوالات ہیں۔

میرے لئے اس سے بھی زیاد ہ تشویشناک بات یہ ہے کہ غیر مسلم بچوں کو ”غیر“ بنا کر پیش کیا جائے گا۔ جب اسلامیات کا پیریڈ شروع ہو گا تو انہیں کمرہ جماعت سے باہر بھیج دیا جائے گا۔ غیر حساس اساتذہ مسلمان بچوں کو انہیں باہر بھیجنے کی وجہ یہ بتائیں گے کہ وہ بچے ”لا دین“ ہیں۔

یوں، مذہبی اقلیتیں ہمارے سکولوں میں اور بھی تنہا ئی کا شکارہو جائیں گی۔ ایس ڈی پی آئی نے ایک تحقیق کی تھی جس کا عنوان تھا ”کونیکٹنگ دی ڈاٹس“ (Connecting the Dots) جس میں بتایا گیا تھا کہ ہندو بچوں کو زبر دستی اسلامیات پڑھائی جاتی ہے۔ کچھ اساتذہ تو انہیں ”کافر“ اور ”بت پرست“ ہونے کا بھی طعنہ دیتے ہیں۔ کیااب مسیحی، سکھ اور احمدی بھی اس امتیازی سلوک کا شکار ہو جائیں گے؟ اتفاق سے احمدی تو قرآن کو تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ احمدی بچے کیا پڑھیں گے؟

اگر نصاب میں مدرسے کی تعلیم کو شامل کرنے کا رجحان پانچویں جماعت کے بعد بھی جاری رکھا گیا تو اس سے فرقہ وارانہ نفاق پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ ممکن ہے پانچویں جماعت تک بھی مذہبی مواد میں فرقہ واریت بین السطور میں موجود ہو مگر سینئر کلاسوں میں تو یہ صورت حال گھمبیر ہو جائے گی۔

مدارس میں رَد کا مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ تما م مکاتب فکر…دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ وغیرہ…اپنے مدارس میں مناظرے کی تربیت دیتے ہیں۔ مناظرے کا مقصد ہی دیگر فرقوں اور ذیلی فرقوں کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔

اس مرحلے پر اسلامی تاریخ (مثلاًجنگ جمل) کی تعلیم یا احادیث پڑھانے کے نتیجے میں بھی تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔ اگر قرآن کی باقاعدہ کوئی تفسیر نہ بھی پڑھائی جائے تو بھی مولوی حضرات ان کا حوالہ دیں گے اور ہر کوئی آیات کی مختلف تشریح پیش کرے گا۔

راویتی سنی مفسر، جدت پسند اور ریڈیکل اسلامسٹ (جن میں بعض مسلح گروہ بھی شامل ہیں) ایک ہی آیت کی مختلف تشریح کریں گے جس کے نتیجے میں تنازع کھڑا ہو گا۔ فاٹا میں جب پاکستانی فوج نے طالبان کے خلاف لڑائی شروع کی تو ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ شروع شروع میں کچھ فوجی ایسی جہادی تشریحات سے متاثر تھے جو انتہا پسند مبلغین پیش کر رہے تھے۔ کچھ تو بھگوڑے ہو گئے۔ فوج نے جلد ہی اس رجحان پر قابو پا لیا۔ جن مبلغین کو ہم اپنے سکولوں اورکالجوں میں بھرتی کریں گے، کیا ان کو قابو کیا جا سکے گا؟ فرض کیجئے بعض طلبہ ریڈیکل تفسیر سن یا پڑھ کر اس سے متاثر ہونے لگے تو؟

حکومت کا دعویٰ ہے کہ طلبہ تنقیدی سوچ اپنائیں گے۔ مدرسے میں طریقہ تعلیم میں رٹے پر زور دیا جاتا ہے کیونکہ اس نظام تعلیم کا مقصد ہی ماضی کو محفوظ بنانا اور ماضی کو احترام کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔ سوال کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جدید سائنس میں ماضی پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ ماضی کی پوجا نہیں کی جاتی۔ جدید سائنس میں تنقیدی سوچ پر زور دیا جاتا ہے۔ غیر تنقیدی انداز میں صاحب اختیار کے سامنے سر جھکانا نہیں سکھایا جاتا۔

ان دونوں طریقہ ہائے کار میں دنیاوی معاملات کی طرف رویہ بالکل مختلف ہے۔ اگر تو ہم چاہتے ہیں کہ تنقیدی سوچ میں اضافہ ہو تو پھر ہمیں سوال کرنے اورتجزیہ کرنے کی صلاحیت پر زور دینا ہو گا۔ نئے نصاب میں رٹے بازی پر جو زور دیا گیا ہے اور جس طرح بلا چوں و چرا استاد کی بات ماننے پر زور دیا گیا ہے، کیا اس کے نتیجے میں تنقیدی سوچ کو فروغ دینے کا مقصد پورا ہو گا؟

ایک اور اہم عنصر جس پر لگتا ہے کسی نے توجہ نہیں دی وہ ہے معمول کے سکولوں میں مدرسے سے فارغ التحصیل طلبہ کی بڑے پیمانے پر بطور اسلامیات ٹیچر تعیناتی۔ اندریں حالات، ہمارے معاشرے میں ان لوگوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو اکثریت یا عمومی ڈگر سے ہٹ کر چلتے ہیں۔ مذہب کی تعلیم دینے والے اساتذہ، چاہے وہ کسی بھی فرقے سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں، ان طالبات پر تنقید کریں گے جو ایسا لباس پہنیں جو ان حضرات کی نظر میں مناسب نہ ہو گا، چونکہ یہ اساتذہ مذہب کے نام پر روک ٹوک کریں گے لہٰذا ان کی بات رد کرنا بھی مشکل ہو گا۔

خواتین اساتذہ اور طالبات کو اپنا طرز زندگی بدلنے پر مجبور کیا جائے گا یا انہیں احساس گناہ کے ساتھ جیناہو گا۔ جب تعلیمی اداروں میں اتنی بڑی تعداد میں مذہبی اساتذہ آ جائیں گے تو تعلیمی ماحول بدل کر رہ جائے گا۔ مغربی لباس، لبرل خیالات، مذہبی اقلیتیں حتیٰ کہ بعض فرقوں اور ذیلی فرقوں کے لئے عدم برداشت بڑھ جائے گی۔

تو پھر مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ نوکری کے لئے کہاں جائیں؟ یوں ہے کہ یہ طلبہ مذہبی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی جگہ مسجد اور مدرسے ہیں۔ ہاں مگر ریاست کو غریب طلبہ کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہئے کیونکہ وہ مدرسہ جانے پر مجبور ہیں۔ تمام بچوں کو ریاستی سکولوں میں تعلیم ملنی چاہئے اور صرف وہ بچے جو مولوی بن کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ درس نظامی سے گریجویشن کریں۔

میں ذاتی حیثیت میں بھی یکساں قومی نصاب پر جاری بحث کو ستم ظریفی ہی کہہ سکتا ہوں کیونکہ میری بعض کتابوں (Denizens of Alien World [2004]) اس مجوزہ نصاب کو جواز فراہم کرنے کے لئے بطور حوالہ جات استعمال کی گئی ہیں۔ میری کتاب کا مطمع نظر انصاف اور مساوی سلوک تھا، یکسانیت نہیں۔

میری دلیل یہ تھی کہ جہاں تک ممکن ہو بچوں کو پہلے تین سال ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جائے۔ میری تجویز تھی کہ انگریزی بطور لائبریری زبان سکھائی جائے اور اسے پڑھانے کے لئے دلچسپ اور جدید طریقے اپنائے جائیں (مثلاً کھیل، ڈرامہ، مکالمہ، فلم، گیت وغیرہ) البتہ تعلیم اس زبان میں دی جائے جو اس علاقے میں عمومی طور پر بولی جاتی ہے (جیسا کہ اردو یا سندھ کے وہ حصے جہاں سندھی بولی جاتی ہے)۔

اعلیٰ تعلیم بہر صورت انگریزی میں ہو۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ لبرل اور انسان دوست مواد اردو میں تیار کیا جائے اور جدید علم اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ میرا مقصد یہ تھا کہ جنوبی ایشیا میں امیر لوگوں کے پاس انگریزی میڈیم سکول کی وجہ سے جو برتری حاصل ہے، اس کے اثر کو تھوڑا کم کیا جائے۔

میں نے کسی موقع پر یہ نہیں کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگریزی کو ترک کر دیا جائے کیونکہ انگریزی تو اب دنیا بھر کی زبان بن گئی ہے۔ میں نے یہ ضرور کہا تھا کہ کچھ بنیادی مضامین یکساں ہونے چاہئیں۔ ان مضامین میں حفظان صحت، ماحولیات، انسانی حقوق (جنسی ہراسانی کے خلاف شعور) اور تاریخ عالم شامل تھے۔

میرا خیال تھا کہ یہ مضامین تمام بچوں کو پڑھائے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں ویڈیو اور فلموں کی مدد لی جائے البتہ لسانی گروہوں (سندھی، پشتون، بلوچ، پنجابی، اردو بولنے والے، دیگر گروہ اور لسانی اقلیتیں) کے ہیرو اور تاریخ مختلف ہوں گے۔

میں نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ جب کوئی انگلش میڈیم سکول نہیں ہوں گے تو اے لیول، او لیول کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ مجھے معلوم تھا کہ انگلش میڈیم سکولوں والے مجھ سے شدید اختلاف کریں گے۔ میں نے اے لیول، او لیول کے خاتمے کی جو بات کی تھی، مجھے معلوم ہے، مجوزہ نصاب میں اسے شامل کر لیا گیا ہے مگر یہ کہنا کہ میں نے یکسانیت کی بات کی تھی محض لا علمی کا اظہار ہے۔

میں بے دھڑک بات کرنے سے پرہیز کرتا ہوں مگر ایک بات مجھے یہ کہنے دیجئے کہ مساوی سلوک اور انصاف کے نام پر یکسانیت لاگو کرنا ایک شدید غلطی ہے۔ میری رائے میں اس کا نتیجہ مزید فرقہ وارانہ تنازعات اور عدم برداشت کی شکل میں سامنے آئے گا۔ میری رائے میں مجوزہ نصاب طلبہ کو جینڈر، ماحولیات اور صحت جیسے مسائل کے بارے میں زیادہ باشعور نہیں بنائے گا۔ قصہ مختصر، ہم بند گلی میں جا رہے ہیں۔ کاش میری باتیں غلط ثابت ہوں مگر میری ایماندارانہ رائے یہی ہے۔

بشکریہ: دی نیوز آن سنڈے 

Dr. Tariq Rehman

ڈاکٹر طارق رحمن لسانیات کے تاریخ دان ہیں۔