دنیا

کیوبا کے عوام ان کی زمین پر اٹھنے والے ہر فتنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں

پیٹر بوائل

ترجمہ: محسن ابدالی

کیوبا کی کویڈ 19 جیسی وبا میں عالمی یکجہتی قابل رشک ہے۔ قریب 2000 ڈاکٹرز اور نرسیں ان ممالک میں بھیجے گئے جو وبا سے نپٹنے میں مشکلات کا شکار تھے۔ اٹلی سے جنوبی افریقہ اور یہاں تک کہ برازیل میں جہاں کی دائیں بازو حکومت نے نظریاتی بنیادوں پر کیوبا کے ڈکٹرز کو نکال دیا تھا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ 40 سے زائد یورپی تنظیمیں ایک مہم کا ساتھ دے رہیں ہیں جن کا یہ مطالبہ ہے کہ عالمی نوبیل امن انعام وبا کے خلاف جنگ میں صف اؤل میں رہنے پر کیوبا کی بین الاقوامی میڈیکل بریگیڈ کو دیا جائے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیوبا اپنے گھر میں وبا کا مقابلہ کیسے کر رہا ہے؟

کیوبا کی کویڈ 19 پر شماریات سے اس کا اشارہ ہمیں ملتا ہے۔ 10 جون تک کیوبا میں، جسکی آبادی 12 ملین ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق 2205 کیس تھے۔ ان میں سے 85 فیصد مکمل صحتیاب ہوچکے ہیں۔

کیوبا میں وبا کے باعث محض 83 ہلاکتیں ہوئیں، جو کہ آسٹریلیا جیسی امیر اور دور دراز کی ریاست سے بھی کہیں کم ہیں۔ کیوبا کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ اؤل تو یہ کہ کیوبا ان ممالک میں سے تھا جنہوں نے وبا کا بھرپور اور فی الفور جواب دیا۔ یہاں کی سوشلسٹ حکومت نے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ میں بورس جانسن کی رجعت پسندانہ حکومتوں سے بالکل الٹ جواب دیا۔

یونیورسٹی کالج لندن سے ایمیلی مارس کی 15 اپریل کی دی کنورسیشن میں رپورٹ کے مطابق، جنوری 2020ء تک کیوبا میں ”بچاؤ اور کنٹرول“ کا ایک مفصل پلان تیار کیا جا چکا تھا۔ اس پلان میں میڈیکل سٹاف کی ٹریننگ، میڈیکل اور قرنطینہ کی سہولیات کی تیاری اور عوام کو اس کی علامات اور بچاؤ کی تدابیر بتانا شامل تھے۔

جس وقت تک 11 مارچ میں تین کیس منظر عام پر آئے، ٹیسٹنگ پروگرام کی آغاز کیلئے تیاری مکمل کی جاچکی تھی، مریضوں کو ڈھونڈا اور قرنطینہ کیا جاچکا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ میڈیکل سٹوڈنٹس کو گھر گھر جا کر سرویز کرنے اور کمزور لوگوں میں علامات کی شناخت، کیلئے متحرک کیا جا چکا تھا۔

کیوبا دوسری ریاستوں پر بہت حوالوں سے فوقیت رکھتا ہے جن میں، مفت عالمی نظام صحت، دنیا میں سب سے اعلیٰ ڈاکٹرز اور ان کا آبادی سے تناسب اور دوسرے مثبت صحت سے متعلق اشارات جیسا کہ لمبی عمر کی توقع اور بچوں کی شرح اموات میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔

مورس اور کیلمین نے وضاحت کی کہ ”یہاں کے بہت سے ڈاکٹرز نے دنیا بھر میں رضاکارانہ طور پر دوسرے ممالک کے صحت کے نظام کو بنانے اور سپورٹ کرنے کیلئے خود کو پیش کیا اور ہنگامی صورتحال میں کام کرنے کا تجربہ بھی حاصل کیا۔ تعلیم یافتہ آبادی اور ترقی یافتہ طبی تحقیقاتی صنعت، جس میں سہولیات سے لیس اور عملے سے بھرپور تین وائرس ٹیسٹ کی لیبارٹریز بھی شامل ہیں، نے مزید قوت مہیا کی۔

ریاستی و مرکزی طور پر منظم اور منصوبہ بند معیشت کی وجہ سے کیوبا کی حکومت تیزی سے وسائل متحرک کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اس کا قومی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی پر کاربند ڈھانچہ ملک کے ہر کونے میں موجود علاقائی سطح پر موجود تنظیموں سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔

تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے تیار رہنے والا نظام، ممکنہ طور پر متاثرہ لوگوں کے اخراج کے ساتھ، سمندری طوفانوں تک سے غیر معمولی طور پر انسانی زندگیاں بچانے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم کیوبا ابھی تک بھی سینکڑوں سالوں سے مسلط نو آبادیاتی اور جدید نو آبادیاتی استحصال اور اسکے نتیجے میں آنے والی معاشی تباہ کاریوں سے نپٹنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ دردناک معاشی میراث کو امریکی ناکہ بندی، جو ابھی تک کیوبا پر مسلط ہے، نے مزید طول دیا ہے۔

رہائشی سہولیات کی بھی کمی ہے اور اکثر کیوبن کو خراب حالات میں رہنا پڑتا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ، جیسا کہ ٹرانسپورٹ اور بجلی کی رسائی، بھی کم ترقی یافتہ اور امریکی بندشوں کے باعث شدید وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ اس لئے ’سماجی فاصلہ‘ برقرار رکھنا کافی مشکل ہے۔

کیوبا کیلئے سیاحت ایک بڑا اور دن بہ دن بڑھتا ہوا زرمبادلہ کا زریعہ ہے، اس لئے وبا کیوجہ سے بہت زیادہ معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ تاہم، مورس اور کیلمین لکھتے ہیں، 20 مارچ کو صرف 21 تصدیق شدہ کیسز کے ساتھ، حکومت نے سیاحتی آمد پر پابندی لگا دی، کمزور لوگوں کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، گھر سے کام کی سہولت مہیا کی، محنت کشوں کو ضروری کاموں ہی کی طرف لگایا، ملازمت کا تحفظ اور سماجی مدد کی۔

”جب چہرے پر ماسک اور جسمانی فاصلہ پبلک ٹرانسپورٹ کو محفوظ رکھنے کیلئے ناکافی ثابت ہوا تو آمد و رفت معطل کردی گئی۔ مریضوں اور ضروری ورکروں کی آمد و رفت کیلئے سرکاری اور نجی گاڑیوں اور ڈرائیوروں کو بروئے کار لایا گیا۔ دکانوں میں رش کے خاتمے کیلئے تقسیم کے نظام کو نئے سرے سے منظم کیا گیا اور آن لائن خرید و فروخت کو متعارف کروایا گیا۔ تعاون نہ کرنے پر جسمانی فاصلے کو طاقت سے لاگو کیا گیا۔“

جینیس آرگائیلوٹ، جو کہ جامعہ گرینولب آلپس میں لاطینی امریکی امور کی اسکالر ہیں، 5 مئی کی دی کنورسیشن کی رپورٹ میں لکھتی ہیں، کہ کیوبا کی ایک دوسری بڑی قوت اس کا صحت اور تعلیم کا پر اثر عوامی نظام ہے۔

کیوبا کے عوام ان کی زمین پر اٹھنے والے ہر فتنہ کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ آرگیلوٹ نے لکھا کہ سیاح جو ابھی تک جزیرے پر موجود ہیں (جو کہ وزیراعظم مانویل مریرو کے مطابق 32,500 ہیں) انہیں بھی قرنطینہ کر دیا گیا۔ صدر ڈیاز کینل نے اسکولوں کو بھی ایک مہینے کیلئے بند کیا اور عوام کو یہ مطلع کیا کہ بچوں کو گھروں میں رکھنا خاندان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا، بالخصوص قطاروں کے جو ریاستی دکانوں کے باہر ہوتی ہیں۔ شہری اور سیانٹروپوپسٹاز (جو آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں) وہ لباس اور کپڑے کے ماسک بنانے میں مصروف ہیں، کیونکہ سرجیکل ماسک ناکافی ہیں۔ شہری لاک ڈاؤن کے انتظار کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلے کی بھرپور پابندی کر رہے ہیں۔

کیوبا کے عوام حالات کی سنجیدگی کو سمجھتے ہیں، آرگیلوٹ نے کہا، حالانکہ کیوبا میں خوراک کی شدید کمی کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ انہیں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد کا مشکل ترین ’خاص وقت‘ یاد ہے، جو کہ کیوبا کا بڑا معاشی پارٹنر اور امداد کا ذریعہ تھا۔

’دفاع انقلاب‘ کے نام سے علاقائی بنیادوں پر بنی کمیٹیاں حکومت کی جانب سے ملی ہدایات کو لوگوں تک پہنچانے اور آبادی میں علامات کے ظاہر ہونے پر خصوصی توجہ دیئے ہوئے ہیں۔ ”یہ ایک غیر معمولی بحران ہے“، آرگیلوٹ نے لکھا، ”لیکن کیوبا کے عوام ایسے پر تشدد اور ہنگامی حالات کا سامنا کرنے کے عادی اور پر عزم ہیں، چاہے وہ سمندری طوفانوں سے تباہی ہو یا امریکہ کی جانب سے عائد کردہ مالی اور سیاسی پابندیاں ہوں، جو ٹرمپ حکومت میں آنے کے بعد مزید سخت کردی گئیں ہیں۔

بشکریہ: آسٹریلین ہفت روزہ گرین لیفٹ