اداریہ

بلاسفیمی کے نام پر فرقہ واریت

اداریہ جدوجہد

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے ایک پریس ریلیز میں اس بات پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پچھلے ماہ، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، کم از کم چالیس مقدمات توہین مذہب کے الزام کے تحت شیعہ حضرات کے خلاف درج کرائے گئے ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ گذشتہ ماہ محرم کے مہینے کے دوران اہل تشیع نے روایتی مذہبی رسومات اور تقریبات کا اہتمام کیا۔

ایچ آر سی پی نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ ریاست یہ یقینی بنائے کہ ہر شہری اپنے عقیدے پر عمل درآمد کرنے میں آزاد ہو۔ پریس ریلیز میں پولیس پر بھی اس بات پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ توہین مذہب کے نام پر مقدمات درج کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر رہی ہے حالانکہ سب جانتے ہیں ایسے مقدمات اکثر جھوٹے یا ذاتی رنجش کی بنیاد پر کرائے جاتے ہیں۔

دریں اثنا، یہ غیر مصدقہ اطلاعات بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں کہ ایک درجن سے زائد زاکرین کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اوکاڑہ اور کراچی سے ایسی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں جو انتہائی تشویش ناک صورت حال کی غمازی کرتی ہیں۔ کراچی سے سامنے آنے والی ویڈیو میں ایک اہل تشیع نوجوان کو اسی طرح خوفزدہ کیا جا رہا ہے جس طرح بھارت سے آنے والی ان ویڈیوز میں کیا جاتا ہے جن میں ہندو انتہا پسند مسلمانوں کو دھمکا رہے ہوتے ہیں۔ اوکاڑہ والی ویڈیو میں محرم کے جلوس کو روکنے کے لئے جمع ایک ہجوم اور پتھراؤ کی صورت حال دیکھی جا سکتی ہے۔

کافی سالوں کے بعد، امسال ایک مرتبہ پھر محرم کے مہینے میں فرقہ وارانہ تناؤ محسوس کیا جا سکتا تھا۔ یہ انتہائی افسوسناک صورت حال ہے۔ توہین مذہب کے قانون کا استعمال اس آگ کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ توہین مذہب کے نام پر تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر اس قانون کو اب فرقہ وارانہ سیاست بڑھانے کے لئے استعمال کرنا شروع ہو گیا تو اس کا ہولناک انجام کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔

ملک ابھی بڑی مشکل سے دہشت گردی کے چنگل سے نکلا ہے۔ فرقہ واریت اور اقلیتوں پر حملے اس دہشت گردی کا لازمی جزو تھے گو فرقہ وارانہ حملے گیارہ ستمبر سے پہلے سے جاری ہیں۔ ریاست نے اگر اس خوفناک صورت حال سے روایتی غفلت برتی تو ایک مرتبہ پھر ملک امن و امان کی افسوسناک صورت حال سے دو چار ہو گا۔

’روزنامہ جدوجہد‘ کی ملک بھر کے تمام شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ دوسروں کے عقیدے کا احترام کریں۔ بطور شہری ہمیں مذہبی رواداری کی شاندار مثالیں قائم کرنی چاہئیں۔ ایسی سیاسی جماعتوں اور گروہوں سے ہوشیار رہنا ہو گا جو فرقہ واریت اور مذہبی جنون پھیلا کر دراصل اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں۔

ہمارا یہ بھی اصولی موقف رہا ہے کہ ملک میں مذہبی رواداری کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کو مذہب سے علیحدہ کیا جائے