خبریں/تبصرے

تیس سالہ ’اسلامی‘ دور کے بعد سوڈان کو سیکولر ملک قرار دینے کا اعلان

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سوڈان کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور پیپلز لبریشن موومنٹ (نارتھ ریبل گروپ) کے رہنما عبدالعزیز ال ہیلو کے مابین ایتھوپیا کے دارلحکومت عدیس ابابا میں یہ معاہدہ طے پا گیا ہے کہ سوڈان میں ریاست کو مذہب سے علیحدہ قرار دے دیا جائے گا۔ یوں تیس سالہ ’اسلامی‘ نظام کا خاتمہ کیا جا رہا ہے جو ملک پر 1989ء میں فوجی آمریت مسلط کرنے والے عمر البشیر نے اپنی شخصی حکومت کو جائز بنانے کے لئے لاگو کیا تھا۔ یہ معاہدہ جمعرات کے روز ہوا۔

معاہدے کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سوڈان میں جمہوریت متعارف کرانے کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کو مذہب سے علیحدہ کیا جائے تا کہ تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک ممکن ہو سکے۔

حکومت نے ایک ہفتہ قبل ایسے گروہوں سے مذاکرات شروع کئے تھے جو سوڈانی فوجوں کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ ایسے ہی ایک اہم گروہ پیپلز لبریشن موومنٹ (نارتھ ریبل گروپ) کا مطالبہ تھا کہ ملک کو سیکولر قرار دیا جائے۔

ان مذاکرات اور موجودہ معاہدے کے بعدسوڈان میں امید کی جا رہی ہے کہ اب ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔

یاد رہے 1993ء میں امریکہ نے سوڈان کو دہشت گرد ملک قرار دے دیا تھا اور افغانستان آنے سے پہلے اسامہ بن لادن یہاں قیام پذیر تھے۔ 2017ء میں امریکہ نے سوڈان پر پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔ پچھلے سال شروع ہونے والی بحالی جمہوریت کی ایک تحریک نے عمر البشیر کی آمریت کا خاتمہ کیا۔