اداریہ

مسئلے کی جڑ کرپشن نہیں، طاقت ہے

اداریہ جدوجہد

پہلی بات: بدعنوانی (کرپشن) کا بیانیہ عالمی سطح پر نوے کی دہائی میں زور پکڑنے لگا۔ اس بیانئے کو عام کرنے میں ورلڈ بینک کا کافی کردار ہے۔ عالمی سطح پر یہ پرکشش مگر سامراجی بیانیہ تھا۔ کہا یہ جانے لگا کہ تیسری دنیا، بالخصوص افریقہ، کی پسماندگی کی وجہ وہاں کے حکمرانوں کی کرپشن ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تیسری دنیا کے بہت سے حکمران انتہا کے بد عنوان تھے۔ سامراجی ممالک سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ اکثر جگہ پوسٹ کلونیل اشرافیہ انتہا کی بد عنوان اور ظالم ثابت ہوئی مگر سامراج کی طرف سے اس بیانئے کو عام کرنے کا مطلب تھا:

۱۔ تیسری دنیا میں مداخلت کا ایک نیا جواز۔
۲۔ تیسری دنیا کی پسماندگی کی اصل وجہ یعنی سامراجی لوٹ مار پر سفیدی پھیر دی جائے۔
۳۔ تیسری دنیا میں سامراج مداخلتوں پر مبنی تاریخ پر پردہ ڈال دیا جائے کیونکہ بہت سے بدعنوان حکمران حکومت میں آئے ہی سامراجی مدد سے تھے۔
۴۔ سرد جنگ کے دوران سیموئیل ہنٹنگٹن جیسے نظریہ دان تو تیسری دنیا کو یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ کرپشن معاشی نمو کے لئے اچھی چیز ہے۔

دوم: پاکستان میں بدعنوانی کے نام پر ہر فوجی آمر نے جمہوریت کی پینٹھ میں خنجر گھونپا۔ پہلے فوجی آمر، جنرل ایوب نے تو بدعنوانی کے نام پر کئی سیاست دانوں کو نااہل قرار دیا۔ جب ایوب شاہی اپنے انجام کو پہنچی تو پتہ چلا کہ ایوب خان کا اپنا خاندان بدعنوانی کی علامت بن چکا ہے۔ انہیں غریب ترین ملک کا امیر ترین سربراہ بولا جاتا تھا۔ ضیا نے افغان جہاد پر ڈالر خان پیدا کئے اور جنرل مشرف کی کہانی ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے کہ انہوں نے بیس ملین کی آمدن کے ساتھ بیرون ملک چار سو ملین کے اثاثے خریدے۔ گویا بدعنوانی کا نعرہ محض آمریت کو جائز قرار دینے کے لئے لگایا گیا۔

سوم: تحریک انصاف جیسی جماعتوں نے یہ سامراجی اور آمرانہ بیانیہ عام کیا کہ پاکستان میں ہر مسئلے کی جڑ بدعنوانی ہے (تا کہ سرمایہ داری، طبقاتی اونچ نیچ اور قومی جبر کی بات نہ ہو سکے)۔ عمران خان کا بیانیہ یہ تھاکہ اگر پارسا لوگ حکومت میں آ جائیں تو بدعنوانی ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا یہ بیانیہ پچھلے دو سال میں دھڑام سے زمین پر آ چکا۔ اس بیانئے میں پہلا شگاف جہانگیر ترین نے ڈالا۔ آخری کیل باجوہ لیکس ثابت ہو رہے ہیں۔ جہانگیر ترین تو چلیں سیاستدان تھے، عاصم باجوہ تو ایک ایسے محکمے سے آئے تھے جس پر انگلی اٹھانے کی بھی اجازت نہیں۔

مندرجہ بالا نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بدعنوانی کے بیانئے پر ایک نئی بحث کی ضرورت ہے۔

یہ بات طے ہے کہ بدعنوانی کا مسئلہ انفرادی سطح پر طے نہیں ہو سکتا۔ بدعنوانی اس لئے نہیں ہوتی کہ کچھ لوگ نیک ہوتے ہیں اور کچھ بد عنوان۔ بدعنوانی کی جڑ طاقت (پاور) ہے، ایسی طاقت جس کا احتساب نہ ہو سکے۔ جہانگیر ترین ہو یا نواز شریف، اگر وہ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر استحصال نہیں کریں گے اور غبن نہیں کریں گے…ان کے کاروبار نہیں چلیں گے۔

اسی طرح تحریک انصاف یا ورلڈ بینک نے جو بیانیہ مقبول بنایا ہے اس میں انفرادی کرپشن کی بات تو ہے مگر ادارہ جاتی کرپشن کی بات نہیں کی جاتی۔ افغانستان، عراق اور افریقہ کے وسائل پر قبضے بھی تو بدعنوانی ہیں۔ اسی طرح ملکی سطح پر جب فوج، عدلیہ، پارلیمان اور سول بیوروکریسی میں بیٹھی اشرافیہ ’قانونی‘ طریقوں سے وہ مراعات حاصل کرتے ہیں جو عام شہریوں کو حاصل نہیں ہیں، تو اسے بدعنوانی کیوں نہیں کہا جاتا؟

گویا نہ صرف بدعنوانی کے خاتمے کے لئے طاقت کا احتساب ضروری ہے (جو بغیر وسیع جمہوریت کے ممکن نہیں) بلکہ بدعنوانی کی ایک جامع تعریف مقرر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک بدعنوانی سے پاک معاشرہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں ایسا نظام نہ ہو جس میں شہری اختیارات کے مالک ہوں، ضرورتوں کا خاتمہ کر دیا جائے اور اونچ نیچ کی بجائے برابری ہو۔ ایسا معاشرہ بغیر وسیع جمہوریت اور سوشلسٹ معاشی اقدامات کے ممکن نہیں۔