خبریں/تبصرے

چار سال بعد مہر عبدالستار آخری مقدمے میں بھی باعزت بری

فاروق طارق

مہر عبدالستار جنرل سیکرٹری انجمن مزارعین پنجاب کو لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژنل بینچ نے آج آخری مقدمے میں بھی باعزت بری کر دیا۔ انکے وکیل زاہد بخاری مرحوم اس کیس میں دلائل دے چکے تھے اور وہ وفات سے قبل بحث کر گئے تھے۔ مہر عبدالستار کے ساتھ قیدی عبدالغفور کو بھی بری کر دیا گیا۔

مہر عبدالستار کو 16 اپریل 2016ء کو صبح دوبجے انکے گھر پر دھاوا بول کر گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس سے ایک روز بعد کسانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے گاؤں چک 4/4L اوکاڑہ ملٹری فارمز پر ایک بڑا جلسہ منظم کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔

آج سے ٹھیک تین سال قبل 16 ستمبر کو سپریم کورٹ کے حکم پر مرحومہ عاصمہ جہانگیر اور عابد ساقی ایڈووکیٹ نے میرے ہمراہ ساہیوال ہائی سکیورٹی جیل میں آسیر مہر عبدالستار سے ملاقات کی اور ان سے ہونے والے غیر انسانی سلوک بارے معلومات لیں۔

مہر عبدالستار اپریل 2016ء سے جیل میں ہیں۔ جبکہ 2001ء سے لیکر 2016ء تک ان کے خلاف 36 مقدمات درج کئے گئے۔ چند میں وہ بری ہو چکے تھے آخری مقدمے میں وہ آج 8 ستمبر کو بری ہو گئے۔ جبکہ اس سے قبل دو کے سوا تمام مقدمات میں ان کی ضمانت منظور کی جا چکی تھی اور ایک مقدمہ میں انہیں ساہیوال انسداد دہشت گردی عدالت نے دس سال کی سزا سنائی تھی۔ چار سالوں کے دوران ان کے وکلا میں سینئر ایڈوکیٹس مرحومہ عاصمہ جہانگیر، مرحوم زاہد بخاری، اعظم نذیر تارڑ، عابد ساقی، فاروق احمد باجوہ اور آزر لطیف خان شامل تھے۔

مزارعین کے خلاف اکثر مقدمات انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کاٹے گئے۔ شائد ہی کسی اور تحریک کے راہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت اتنے مقدمات درج کئے گئے ہوں جتنے انجمن مزارعین پنجاب کو کچلنے کے لئے کئے گئے۔ اوکاڑہ میں پنجاب پولیس کی جانب سے جتنے جھوٹے مقدمات مزارعوں کے خلاف درج کئے گئے اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز مزارعین کی حق ملکیت کی جدوجہد سے ہمارا رابطہ 2001ء میں ہوا۔ انکا ساتھ دینے کا عزم کیا گیا۔ اسی وقت عاصمہ جہانگیر کو تفصیل سے اس جدوجہد بارے بتایا گیا تو انہوں نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ وہ جب بھی اوکاڑہ ملٹری فارمز گئیں تو ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ مزارع عورتیں پیش پیش تھیں۔ ان کو بتایا گیا کہ ملٹری فارمز انتظامیہ ہمارے مزارع کا سٹیٹس تبدیل کر کے ہمیں ٹھیکہ دار بنانا چاہتی ہے تا کہ بعد ازاں ہمیں بے دخل کیا جا سکے۔

مزارعین نے مالکی یا موت کی تحریک کا آغاز کیا اور ملٹری فارمز انتظامیہ نے انکے دیہاتوں کا گھیراؤ کیا، یہ جنرل مشرف کا دور تھا۔ اس کے خلاف کوئی بڑی تحریک نہ تھی۔ شائد یہ جنرل مشرف کے خلاف پہلی بڑی عوامی تحریک تھی جس کا آغاز پنجاب سے ہوا تھا۔ مزارعوں نے اس تحریک کاآغاز کیا تو مزارع عورتیں پیش پیش تھیں۔ انہوں نے ایک ”تھاپا“ فورس بنائی ہوئی تھی جو ہاتھوں میں کپڑے دھونے والے تھاپے اٹھا کر پولیس کی دو تین دفعہ خوب دھلائی کر چکی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر ان کسان عورتوں کی جدوجہد سے بہت متاثر تھیں۔

اوکاڑہ مزارعین کے خلاف مقدمات پاکستان میں ریاستی شہ زوری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ایشو کوئی اور ہے، اس پر بات نہیں ہو گی۔ بس قیادت کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان کو جھکا لیا جائے گا وہ معافی مانگ لیں، زمینوں کی ملکیت کا مطالبہ نہ کریں۔ جو وعدے ان سے ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اورعمران خان نے تحریری اور زبانی طور پر جلسوں میں ان زمینوں کے مالکانہ حقوق دینے کے لئے کیے، ان کو جھوٹا سمجھیں۔ کبھی زمینوں کو اپنی ملکیت میں لینے کا مطالبہ نہ کریں۔ پنجاب میں جو 68000 ایکڑ زمین فوجی اور دیگر اداروں کے پاس ہے وہاں چپ چاپ کام کریں۔ تو کوئی مقدمہ نہیں ہو گا۔ آپ ”ملک دشمن“ نہیں قرار پائیں گے، آپ کو ”را“ کا ایجنٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔ 6 ماہ تک بیڑیوں میں جکڑا نہیں جائے گا۔

اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب جنرل مشرف کے دور میں 2001ء کے دوران مزارعین کو ٹھیکیداری نظام پر لانے کی تجویز دی گئی تو مزارعین نے اس کے خلاف مالکی لینے کی تحریک شروع کر دی۔ تمام تر ریاستی تشدد اور جبر کے باوجود یہ تحریک آج بھی خاموشی سے جاری ہے۔ اس کا آغاز مزارعین کی جانب سے وہ حصہ جو وہ ہر سال بٹائی کے نام پر ملٹری فارمز انتظامیہ کو دیتے تھے کو دینے سے انکار سے ہوا۔ آج انیس سال بعد مزارعین نے اس سال بھی گندم اٹھائی اور حصہ نہ دینے کو احتجاج کا حصہ بنا یا۔ یہ مزارعین انیس دیہاتوں میں آباد ہیں۔

اوکاڑہ مزارعین کے خلاف درجنوں جھوٹے مقدمات کا اندراج پاکستان کے انصاف کے اداروں کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ یہ وہ طمانچہ ہے جس کی مثال ہمیشہ دی جاتی رہے گی۔

مہر عبدالستار کے خلاف ایک مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ اس نے بھتہ خوری کی ہے۔ جس کی طرف سے الزام لگایا گیا اس مدعی نے عدالت میں بیان دے دیا کہ مجھ سے کبھی مہر ستار نے کوئی زبردستی نہیں کی۔ نہ ہی بھتہ خوری کی۔ کئی مقدمات میں ان کے خلاف ایک ہی مدعی ہے۔

جس مقدمے میں وہ اب بری ہوئے اس میں ایک پولیس کانسٹیبل نے یہ گواہی دی کہ مہر ستار نے مظاہرے کے دوران اس پر گولی چلائی اور وہ زخمی ہو گیا۔ یہ پولیس کانسٹیبل کسی پولیس مقابلہ میں معمولی زخمی ہوا تھا۔ بس اسی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ کئی اورمقدمات میں بھی پیش ہوا تھا۔ آج لاہور ہائی کورٹ کے جج نے پوچھا کہ مہر ستار نے جب سات فٹ کے فاصلے سے گولی چلائی تو کیا گولی آر پار نہ ہوئی۔ اس پر سرکاری وکیل کی آئیں بائیں شائیں اور پھر سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی۔

ایک اور مقدمے میں مہر ستار کے ساتھ اسے بھی ملوث کیا گیا جو کچھ عرصہ قبل فوت ہو چکا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے چک پندرہ اوکاڑہ ملٹری فارمز پر فائرنگ سے دو مزارعے ہلاک ہوئے تھے اور مقدمہ مہر عبدالستار سمیت پندرہ مزارع راہنماؤں پر درج کر لیا گیا۔ ان میں ایک مزارعہ اس واقعہ سے قبل ہی فوت ہو چکا تھا۔

16 اپریل 2016ء کو ان کی گرفتاری کے ہفتوں بعد رات دو بجے ان کے گھر پر پولیس کے درجنوں افرادفائرنگ کرتے داخل ہوئے، گھر کے اندر فائرنگ کی۔ گھر والوں کو زبردست ہراساں کیا، جب گاؤں والے پہنچے تو پھر وہ وہاں سے گئے اور عدالتوں کو یہ بتایا کہ ان کے گھر سے اسلحہ، ہینڈ گرنیڈ، دھماکہ خیز مواد اور 80,000 سے زائد بھارتی کرنسی برآمد ہوئی ہے۔ ایسی بے شمار جھوٹی کہانیاں گھڑ کر انہیں دہشت گرد قرار دینے کی پوری کوششیں کی گئیں۔ انہیں بار بار را کا ایجنٹ کہا جاتا رہا۔

ہم نے بے شمار دفعہ لکھا کہ یہ مزارع ہیں دہشت گرد نہیں۔ ان سے زمین کی بات کرو۔ مہر عبدالستار کے زیادہ تر مقدمات میں فاروق باجوہ اورملک ظفر اقبال کھوکھر ایڈووکیٹس پیش ہوتے رہے ہیں۔ مہر عبدالستار پر درج مقدمات میں ان پر جو الزامات لگائے گئے ان میں قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری، غیر قانونی اجتماعات اوردیگر شامل تھے۔ ان تمام مقدمات کو بنیادی طور پر ان کے خلاف اس لئے درج کیا گیا کہ وہ اوکاڑہ اور دیگر اضلاع میں سرکاری فارموں پر کام کرنے والے مزارعین کے مالکانہ حقوق کی جدوجہد کر رہے تھے۔ ان میں ملٹری فارمز اوکاڑہ بھی شامل ہیں۔ مالکانہ حقوق کی یہ غیر معمولی جدوجہد ان کا حقیقی جرم تھا۔

مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال کے رو برو ان کو بیڑیاں پہنانے کے خلاف رٹ کی سماعت کے دوران استدعا کی تھی کہ انہیں بذات خود جیل جانے کی اجازت دی جائے اور بیڑیاں اتاری جائیں، ان کو ہائی سکیورٹی جیل سے عام جیل میں شفٹ کیا جائے۔ پہلی دو گزارشات مان لی گئیں اور جیل شفٹ کرنے بارے فیصلہ مزیدسماعت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

ہم بعد ازاں عاصمہ جہانگیر کے ساتھ عابد ساقی کے ہمراہ ساہیوال پہنچے۔ یہ میرا انکے ساتھ آخری سفر تھا۔ ہائی سکیورٹی جیل میں مہر عبدالستار سے ملاقات نے اس مزارع راہنما کی زندگی کچھ آسان کر دی۔ واپسی پر مزارعین کے گاؤں میں گئے۔ جہاں سینکڑوں مزارع عورتوں نے انکا شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر عاصمہ کے ایک سوال کے جواب میں تقریباً ایک سو عورتوں نے ہاتھ کھڑے کر کے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات ہوئے اور انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

مہر عبدالستار بلا شک و شبہ اس وقت پنجاب کے وہ سیاسی قیدی تھے جن کی رہائی کا مطالبہ دنیا بھر کے علاوہ پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھر پور انداز میں کیا۔ پاکستان کے آئینی ادارہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے ان کی گرفتاری کے بعد اوکاڑہ وزٹ کیا اور اس کے بعد جو رپورٹ جاری کی وہ واضح طور پر ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو رد کرتی ہے اور اس نے تجویز کیا تھا کہ تمام مزارعین راہنماؤں کورہا کر کے ان سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کو حل کیا جائے۔

اب جو عاصمہ جیل جا رہی تھیں تو مہر ستار کا کمرہ بھی تبدیل کر دیا گیا۔ کچھ ”اچھا“ سلوک بھی ہونے لگا۔ بیڑیاں تو سپریم کورٹ نے اتار دیں۔ ملاقات کی اجازت بھی دے دی گئی تھی۔ عاصمہ کی وفات کے بعد سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہمارے وکیل عابد ساقی کی ایک نہ مانی اور ہماری انسانی حقوق کی اپیل خارج کر دی۔ مجھے کئی دفعہ مہر ستار کے کیسوں میں انسداد دہشت گردی عدالت، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت سننے کا موقع ملا۔ یہ بالکل واضح تھا کہ یہ جھوٹے مقدمات ہیں جو صرف انجمن مزارعین کے زمینی حقوق کی جدوجہد کو دبانے کے لئے قائم کئے گئے تھے۔

مہر عبدالستار کی باعزت رہائی نے پولیس اور ریاستی اداروں کی ان کوششوں کو ناکام بنا دیا جو وہ اس تحریک کو دبانے کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ ہمارا آج بھی مطالبہ ہے کہ تمام سرکاری زرعی فارموں کی زمینوں کو وہاں کاشت کرنے والے مزارعین کے نام کیا جائے۔

جھوٹے مقدمات سے مزارعین کو زمینوں کی ملکیت کے مطالبہ سے دستبردار نہیں کرایا جا سکتا۔ مزارعوں کو بے دخل کرنا ممکن نہیں، زمینیں وہ خالی نہیں کریں گے یہ ان کا قانونی حق ہے۔ مزارعیت کے قوانین کے تحت مزارعوں سے زمین خالی نہیں کرائی جا سکتیں۔ پنجاب حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے جھوٹے مقدمات واپس لے۔ مزارعوں کو باعزت بری کرے اور ان سے مذاکرات کرے اور نو آبادیاتی دور کی اس نشانی سے جلد از جلد جان چھڑائے اور زمینیں مزارعوں کے نام کرے۔

مزید تفصیلات کے لئے:

عاصمہ جہانگیر اور اوکاڑہ مزارعین کی جدوجہد

اوکاڑہ مزارعین کی مالکی تحریک خاموشی سے جاری

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔