پاکستان

کراچی میں سیلاب سے 82 ارب کا روزانہ نقصان ہوا، قدرتی آفتوں سے سالانہ 2 ارب ڈالر کا نقصان

فاروق سلہریا

پاکستان ٹوڈے نے ایک خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں آنے والے حالیہ سیلابوں سے روزانہ کی بنیاد پر 449 ملین ڈالر (تقریباً 82 ارب روپے) کا نقصان ہوا۔ یہ تخمینہ اس بنیاد پر لگایا گیا ہے کہ پچھلے سال کراچی کا جی ڈی پی 164 ارب ڈالر سالانہ تھا۔ یہ ایک ابتدائی اندازہ ہے، صحیح اندازہ لگانے کے لئے زیادہ مفصل تحقیق کی ضرورت ہو گی۔ بہر حال یہ خبر اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

اگر پاکستان کی سلامتی کا شور مچانے والوں کو اس کی سلامتی کی فکر ہے تو مندرجہ ذیل چند حقائق سنجیدہ توجہ کے طالب ہیں:

قدرتی آفات کی وجہ سے پچھلی تقریباً دو دہائیوں سے پاکستان کو سالانہ دو ارب ڈالر کا اوسط معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عالمی سطح پراس صدی میں جو دس بڑی قدری آفات آئیں، ان میں سے دو کا شکار پاکستان (بشمول پاکستان کے زیر انتظام کشمیر)ہوا۔

2005ء میں آنے والا زلزلہ نہ صرف انسانی جانوں کے لئے تباہ کن تھا بلکہ ستر ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق کشمیر اور پاکستان میں ڈھائی ارب ڈالر کا معاشی نقصان بھی ہوا۔

2010ء میں آنے والا زلزلہ بھی دنیا کی بڑی ترین آفات میں سے ایک تھا۔ اس سیلاب کی وجہ سے دس ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

2012ء میں بھی سیلابوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور نقصان کا تخمینہ چھ ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔