پاکستان

جس جوش سے 6 ستمبر مناتے ہو، اسی جوش سے 8 مارچ مناتے تو یہ ملک ریپستان نہ بنتا

فاروق سلہریا

موٹر وے پر جو ہوا، اس کی وجہ سے پاکستان سکتے میں ہے۔ بظاہرپولیس مجرموں کی تلاش میں ہے لیکن پولیس تو خود مجرم ہے۔ لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ نے جو بیان دیا، وہ ایک فرد یا محکمے کا نہیں، پوری ریاستی مشینری کا بیانیہ ہے۔ صرف ریاست ہی نہیں بلکہ سماج کے سارے ٹھیکیداروں کا بیانیہ یہی ہے۔

مولوی حضرات کو لیجئے۔ دو دن سے بعض لوگ، جائز طور پر، جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن کا بیان شیئر کر رہے ہیں جس میں خواتین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر ان کا ریپ ہو جائے تو وہ خاموشی اختیار کریں۔ ادھر، مولانا طارق جمیل غائب ہیں جنہیں اٹھتے بیٹھتے یا تو حوروں کی ٹانگوں کی لمبائی نظر آتی ہے یا جینز میں ملبوس عورتیں جن کی وجہ سے کبھی زلزلہ آ جاتا ہے تو کبھی کرونا۔

ممکن ہے اس تازہ المئے پرکسی مولوی صاحب نے بیان دیا ہو (میری نظر سے نہیں گزرا) مگر بچوں کے خلاف مدرسوں میں ہونے والے روز روز کے ریپ واقعات پر یا عورتوں کے خلاف گھناؤنے جرائم پر کبھی جلوس نکالا ہو؟ ہاں ایسی ویڈیوکلپس روز سامنے آتے ہیں جس میں کوئی باریش مولوی صاحب اس مسئلے پر بحث کر رہے ہوتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی کا دودھ پی سکتا ہے یا نہیں۔ کسی کلپ میں علامہ ابتسام الٰہی ظہیر یاد دلاتے ہیں کہ غیر مسلم عورتوں کو لونڈی بنانا جائز ہے۔ کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ کم سن بچیوں کی شادی پر پابندی سے اسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔ ہر مولوی کے وعظ میں یہی پیغام ہوتا ہے کہ عورت کو گھر سے نہیں نکلنا چاہئے۔ کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ اگر کسان عورتیں گھروں میں بیٹھ گئیں تو ملک میں پڑنے والے قحط کا حل سعودی عرب کے حکمران کریں گے یا ایرانی آیت اللہ؟ یا مولانا طارق جمیل کوئی معجزہ دکھائیں گے؟ اگر ان مولویوں کا بس چلے تو فتویٰ دے دیں کہ ریپسٹ گھر سے نکلنے کی سزا کے طور پر عورت کو کوڑے بھی ماریں۔

یہی حال میڈیا کا ہے۔ خلیل الرحمٰن قمر جیسے عورت دشمن کردار دن رات ڈراموں، مارننگ شوز اور ٹاک شوز کے ذریعے یہ یاد دلا رہے ہوتے ہیں کہ عورت کی اصل جگہ گھر میں ہے۔ جو عورت گھر سے نکلتی ہے، اس کا انجام برا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ گھر سے نکلے تو پھر اس کے ساتھ اچھا برا جو بھی ہو، اس کی ذمہ دار وہ خود ہے نہ کہ ریاست یا معاشرہ۔ اگر ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ لگاتے ہوئے عورتیں سڑک پر نکلیں تو ان کو کلبھوشن یادیو کی تصویربنا دو۔

جو ظلم باقی رہ جاتا ہے اس کی کسر عدالتیں نکال دیتی ہیں۔ کہیں آج کل میں پڑھا تھا کہ ریپ کے محض چار فیصد مجرم انجام تک پہنچتے ہیں۔ یہ عدالتیں ایک منتخب وزیر اعظم کو تو پھانسی گھاٹ بھیج سکتی ہیں مگر ریپسٹ کو جیل تک نہیں پہنچا پاتیں کیونکہ نہ سی سی پی او عورت کے ساتھ ہے نہ جج صاحب۔

رہی ریاست تو اسے اپنی سکیورٹی اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی سے فرصت ملے تو بچوں اور عورتوں کی حفاظت پر بھی کوئی توجہ دے، کچھ خرچ کرے۔ ابھی چند دن پہلے کی خبر ہے کہ لاہور بھر میں کل ساڑھے چھ سو خواتین پولیس اہل کار ہیں۔ اگر سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ بچوں اور عورتوں کی حفاظت پر بھی دو دو سو ارب ہر سال خرچ کر دئیے جائیں تو خواتین کو یہ مشورہ نہ دینا پڑے کہ وہ موٹر وے کی بجائے جی ٹی روڈ سے سفر کریں۔

اسی طرح ریاست اگر دن رات نو نہالوں میں شوق شہادت اجاگر کرنے کی بجائے عورت مرد کی برابری اور امن و انسانیت اجاگر کرنے پر خرچ کرتی تو موٹر وے غیر محفوظ نہ ہوتی۔ جس زور و شور سے 6 ستمبر منایا جاتا ہے، اسی جوش سے 8 مارچ منایا جاتا تو یہ ملک ریپستان نہ بنتا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔