تاریخ

ایک یاد بہار سمے کی

طارق علی

اپریل 1969ء۔ لاہور۔ بہار کا ایک خوب صورت دن محض اس لیے نہیں کہ پیچ اناری کے پھول کھل رہے ہیں۔ پانچ ماہ جاری رہنے والی جدوجہد کے بعد مزدوروں اور طالب علموں نے واشنگٹن کی حمایت یافتہ فوجی آمریت کا تختہ الٹ دیا ہے۔ عوام نے یہ فتح بغیر کسی بیرونی طاقت کی مدد سے حاصل کی۔ واشنگٹن اور بیجنگ نے کوشش کی مگر فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت برقرار نہیں رکھ سکے۔ طلبہ اور مزدوروں کے مطالبات…جمہوریت اور سوشلزم…لاکھوں دلوں کی آواز بن گئے۔ مذہبی بنیاد پرست بالکل پچھڑ کر رہ گئے۔

ملک کے مختلف حصوں میں جلسوں سے خطاب کے بعد میں لاہور واپس آیا جہاں مجھے ’نیشنل تھنکرز فورم‘ کی ایک نشست بعنوان ’چیکوسلواکیہ پر سویت یلغار‘ میں ٹینکوں کے خلاف بولنا تھا کہ ٹینکوں نے ’انسانی چہرے والی سوشلزم‘ کو محض اس لئے کچل کر رکھ دیا تھا کہ اس نے جمہوریت کا وعدہ کیا تھا۔ ہال طالب علموں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا گو ماسکو نواز کمیونسٹ اور چیئر مین ماؤ کے قدرے کہنہ سال مگر شور دار حامی بھی موجود تھے۔ ان دنوں میں ٹراٹسکی اسٹ چوتھی انٹرنیشنل کا سرگرم رکن تھا مگر جنوبی ایشیا میں چوتھی انٹرنیشنل کے نظریات زیادہ عام نہیں تھے۔ کوشش یہ کی گئی تھی کہ جلسے کا رُخ متعین کر دیا جائے۔ ماؤ نوازوں نے دخل اندازی کے لیے کرائے کے ایک نعرے باز کا بندوبست کررکھا تھا جس نے ٹراٹسکی کے قتل پر اظہار خوشی کے لیے چند نعرے گھڑ رکھے تھے۔ گو حاضرین کے دماغ ضرور مختل ہوئے مگر میں نے اس اشتعال انگیزی پر دھیان نہیں دیا۔

سوویت یلغار پر میری تنقید پر بہت اچھا ردعمل ہوا۔ میں نے ثقافتی انقلاب کے ریڈ گارڈز کا چیک طالب علموں سے موازنہ کرتے ہوئے ثانی الذکر کی حمایت کی۔ موقع پر موجود طلبہ کی اکثریت نے جبلی طور پر پراگ میں اپنے طالب علم ساتھیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ ماسکو نواز گروہ پر فکر تھا، اس نے کچھ سوالات کئے مگر زیادہ تر خاموش ہی رہا۔ ماؤ نواز جنونی مناظرے کے ساتھ حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے میرا تجزیہ رد کرتے ہوئے مجھے میرے ان خیالات کی بنا پر مغربی سامراج کا ایجنٹ قرار دیا کہ بیوروکریٹک سوشلزم کی موت قریب ہے، کہ پراگ پر یلغار کفن میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے اور یہ کہ سوشلزم کو صرف جمہوریت سے ہی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سویت سوشل سامراجیوں کی بھی مذمت کی مگر ان کا اصرار تھا کہ مقبول چیک کمیونسٹ رہنما الیگزینڈر ڈیبیک بھی ترمیم پسند اور ’سرمایہ داری کے راستے پر گامزن‘ ہے۔ ایک بدمزہ بحث چل نکلی جس کے اختتام پر ایک سفید ریش بزرگ رہنما نے سٹیج سنبھال لیا۔

انہوں نے حاضرین کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا: ذرا انہیں دیکھو! ہمارے بچوں نے ہمیں ایک بڑی فتح سے ہمکنار کیا ہے۔ انہوں نے ایک آمر کا تختہ الٹ دیا ہے اور ہم ہیں کہ آپس میں دست وگریباں ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے مزید ناصحانہ انداز میں کہا: ’سنو! پاکستان کا بایاں بازو پہلے ہی کافی تقسیم ہے۔‘

انہوں نے ماسکو نوازوں کی طرف مڑتے ہوئے کہا: ’یہ دیکھئے! یہ ہیں ہمارے سنی‘ پھر ماؤ نوازوں کی طرف گھورتے ہوئے بولے: ’یہ رہے ہمارے شیعہ‘۔ پھر میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولے: ’اب یہ نوجوان شعلہ بیان چاہتا ہے کہ ہم وہابیت کی بیعت کر لیں۔ دوستو! خدارا ہم پر رحم کرو۔‘

سب کھل کھلا کر ہنس پڑے، بڑے میاں نے جو انداز اپنایا تھا انسان اس سے ہمدردی کئے بنا نہیں رہ سکتا تھا۔

طارق علی کی کتاب ’بنیاد پرستیوں کا تصادم‘ سے اقتباس۔ ترجمہ: فاروق سلہریا

Tariq Ali

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔