شاعری

سلطان! آپ دو جنگیں ہار چکے

نزار قبانی

شام سے تعلق رکھنے والے، عرب دنیا کے بہت ہی مقبول اور ترقی پسند شاعر نزار قبانی (1923-1998ء) نے ’سلطان‘ کے عنوان سے یہ نظم 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی شکست پر لکھی تھی جس میں ’خود تنقیدی‘ کا عنصر نمایاں ہے۔ عرب آمریتوں نے خود تنقیدی کی بجائے نزار قبانی کے لئے زندگی مشکل بنا دی۔ وہ سالہا سال اپنے ملک شام سے ہی جلا وطن رہے۔ یہ نظم آج بھی نہ صرف عرب ممالک بلکہ پوری مسلم دنیا کے حوالے سے حرف بہ حرف سچ ہے۔مترجم: فاروق سلہریا

1
دوستو
حرفِ کہنہ مر چکا
کہنہ کتب مر چکیں۔
ہمارا دریدہ دامن گفتار مر چکا۔
وجہ شکست جو بنا وہ دماغ مر چکا۔
2
ہماری شاعری ترش ہو چکی۔
گیسو، رات، پردے اور صوفے۔
سب ترش ہو چکا۔
سبھی کچھ ترش ہو چکا۔
3
میرے اداس وطن،
لمحے بھر میں
تو نے محبت کی نظمیں لکھنے والے شاعر کے ہاتھ میں
خنجر تھما دیا ہے۔
4
جو کچھ کہ اس دل پر گزری ہے
مت پوچھو:
ہم اپنی نظموں پر شرمسار ہیں
5
وہ مشرقی عبارت آرائی،
وہ شیخی کہ جس سے کبھی کوئی مکھی بھی نہیں مری،
وہ ڈھول تماشا
یہ تھے ہمارے جنگی ہتھیار
اور جنگ ہم گئے ہار
6
ہماری باتیں ہمارے اعمال سے بڑی ہیں
ہماری تلواریں ہم سے اونچی ہیں
یہ ہے ہمارا المیہ
7
قصہ مختصر
اگرچہ ہمارے تن پر تہذیب کا لبادہئ ہے
مگر ہماری روحیں غاروں کے عہد میں زندہ ہیں
8
جنگ، طاؤس و رباب کے ساتھ
نہیں جیتی جاتی
9
ہماری بے صبری کا نتیجہ
پچاس ہزار نئے خیمے۔
10
تقدیر کو دوش مت دو
اگر تقدیر نے ساتھ نہیں دیا، تو
حالات کو مت کو سو
خدا جسے چاہے فتح دیتا ہے۔
خدا تلواریں ڈھالنے والا لوہار نہیں۔
11
صبح خبریں سننا بوجھل ہے۔
بھونکتے ہوئے کتوں کو سننا بوجھل ہے۔
12
دشمن نے ہماری سرحد نہیں پھلانگی
وہ تو چیونٹی کی طرح ہماری کمزوری کے راستے آیا ہے۔
13
پانچ ہزار سال تک ہم، غاروں میں
اپنی داڑھیاں بڑھاتے رہے
ہمارے سکے کی کوئی شناخت نہیں
ہماری آنکھوں پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔
دوستو،
دروازے کھولو،
دماغوں پر لگے جالے اتارو
دامن جھاڑو۔
دوستو،
کوئی کتاب پڑھو،
کوئی کتاب لکھو،
الفاظ، انار اور انگور بڑھاؤ،
دھند اور برف کے ملک کا سفر کرو۔
کسے معلوم تم، غاروں میں پڑے ہو۔
تم لوگوں کی نظر میں دوغلی نسل ہو۔
14
ہم لوگ کہ جن کی کھال موٹی ہے
مگر روحیں خالی۔
ہم جادو ٹونے میں دن گزارتے ہیں،
شطرنج کھیلتے ہیں یا خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں۔
کیا ہم ہیں ’وہ قوم جو اللہ نے انسانیت کو عطا کی؟‘
15
ہمارے صحراؤں کا تیل
آگ اور شعلوں کا خنجر بن سکتا تھا
ہم اپنے آبا کے دامن پر داغ ہیں:
ہمارا تیل فاحشاؤں کے قدموں میں پڑا ہے
16
ہم گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں
لوگوں کو رسیوں میں جکڑتے ہیں،
کھڑکیاں اور تالے توڑتے رہتے ہیں۔
ہم مینڈک کی طرح تعریف کے پل باندھتے ہیں،
مینڈک کی طرح قسمیں کھاتے ہیں،
ہم بونوں کو ہیرو،
اور ہیرو کو زیرو بنا دیتے ہیں:
ہمیں سوچنے کی فرصت ہی کہاں ہے۔
مسجدوں میں
ہم بے کار شور مچاتے ہیں،
نعتیں کہتے ہیں،
محاورے بولتے ہیں
دشمن پر فتح کے لیے
خدا سے مدد مانگتے ہیں
17
جان کی امان پا سکتا
اور سلطان سے کہہ سکتا
تو کہتا:
’سلطان‘
تمہارے وحشی کتوں نے میرا لبادہ تار تار کر ڈالا ہے
تمہارے جاسوس میرے پیچھے لگے ہیں
ان کی نظریں مجھے تاڑتی ہیں
ان کے نتھنے مجھے سونگھتے ہیں
ان کے قدم میرے پیچھے لگے ہیں
وہ میری تقدیر بن کر میرے پیچھے لگے ہیں
میری بیوی سے پوچھ گچھ کرتے ہیں
اور میرے دوستوں کے نام پتے درج کرتے پھرتے ہیں۔
سلطان‘
میں آپ کے دروازے پر
اپنا دکھ سنانے آتا ہوں تو،
مجھے رسوا کرتے ہیں۔
سلطان‘
آپ دو جنگیں ہار چکے،
سلطان،
ہمارے لوگوں کا نصف بے زبان ہے،
بے زبان لوگوں کا فائدہ؟
باقی نصف چوہوں اور کیڑوں کی طرح
دیواروں میں قید ہے،
جان کی امان پا سکتا تو کہتا:
آپ دو جنگیں ہار چکے
آپ نسلِ نو سے کٹ چکے،
18
گر اتحاد کو ہم دفنا نہ چکے ہوتے
اس کے جواں جسم میں سنگین نہ اُتار چکے ہوتے
اور اگر اتحاد باقی ہوتا
تو دشمن یوں ہمارے خون سے نہ ہولی کھیلتا۔
19
ہمیں طیش سے بھری ایک نسل درکار ہے
جو آسمانوں کو ادھیڑ ڈالے
جو تاریخ کو ہلا دے
جو ہماری سوچوں کو جھنجوڑ ڈالے۔
ہم ایک ایسی نئی نسل کے طلب گار ہیں
جو غلطیاں درگزر نہ کرے
جو گھٹنوں کے بل نہ جھکے۔
ہمیں جنات کی ایک نسل درکار ہے۔
20
عرب بچو!
مستقبل کو بتا دو،
تم ہماری زنجیریں توڑ ڈالو گے۔
ہمارے ذہنوں کی افیون مار ڈالو
سب سراب قتل کر ڈالو۔
عرب بچو!
ہماری گھٹن زدہ نسل بارے مت پڑھو،
ہم سے بہتری کی توقع عبث۔
ہم تربوز کے چھلکے جیسے بے کار لوگ۔
ہمارے بارے مت پڑھو،
ہمارے نقشِ قدم پرمت چلو
ہماری بات مت مانو،
ہمارے خیالات مت مانو،
ہم دغا باز اور تماشا گروں کی قوم ہیں۔
عرب بچو!
ساون کے قطرو،
مستقبل کو بتا دو
تم ہی وہ نسل ہو
جو شکست پر غالب آئے گی۔