پاکستان

بلاد کاریوں کی ریاست!

خیرالنسا چانڈیو

صدیوں کی جمی دھول ملبے میں تبدیل ہوجاتی ہے اور پھر بارشوں کے بعد اس میں سختی آنے لگتی ہے اور کچھ صدیوں بعد وہی دھول پتھر کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ سب انسان کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا اور نہ ہی جس ماحول میں انسان رہتا ہے اس ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ انسان اس سب کو اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مگر یہی دھول جب انسان کے خالی دماغوں میں ملبے کی صورت میں تبدیل ہونے لگتی ہے تو نتیجہ تباہی و بربادی میں موصول ہوتا ہے۔ جس طرح اس وقت ہم ان حالات سے گزر رہے ہیں مگر اس دھول سے بنے ملبے کو پتھر بننے سے پہلے ہمیں اسے روکنا ہوگا ورنہ انسان پتھر کے دور میں چلا جائے گا۔

میں گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل دنیا کے مختلف ملکوں میں پیش آنے والے ریپ اور بلادکار کے حادثات کو پڑھتی رہی ہوں۔ موٹر وے پر پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے کے بعد سے ریپ کیسز سے متعلق درجنوں کالم پڑھے۔ کچھ بہت بھیانک تھے تو کچھ کیسوں کے نتائج اُن واقعات سے بھی زیادہ شرمناک تھے۔ عالمی پیمانے پر ان واقعات کو زیادہ بھیانک بنانے میں قانونی اداروں کا کتنا بڑا ہاتھ ہے اس بات کا اندازہ ان چند واقعات سے لگایا جا سکتا ہے جن کو یہاں بیان کرنا میں لازم سمجھتی ہوں۔

جب میں نے برطانیہ کی ایک ٹین ایجر لڑکی کیساتھ پیش آنے والے واقعے کو پڑھا تو میرے اندر غم و غصے کی ایک بہت گہری لہر نے جنم لیا۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ وہ برطانوی لڑکی سائپرس میں اپنے ایک دوست کے ساتھ تھی کہ وہاں 12 اسرائیلی آئے اور اس لڑکی کے ساتھ بلادکارکیا جب لڑکی نے رپورٹ کرائی تو اسنے بتایا کے اس کے وکیل کی غیر موجودگی میں پولیس نے کئی گھنٹے اسے بٹھا کر اس کا بیان لیا اور اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنا بیان تبدیل کرے اور کہے کے اسنے جھوٹا بیان دیا تھا اسے اس قدر خوف میں مبتلا کیا گیا کہ لڑکی نے اپنے بیان کو جھوٹا قرار دیا اور عدالت کی طرف سے اس لڑکی کو 6 ماہ کی قید کی سزا سنا دی گئی۔ مگر 4 ماہ بعد بڑی ہی مشکل شرائط کی بنیاد پر اسے ضمانت پر رہاکیا گیا۔ لڑکی کی ماں نے بتایا کہ اسکی بیٹی ذہنی طور پر ٹھیک نہیں، وہ ذہنی بیماری کا شکار ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ظلم بھی ان کے ساتھ ہوا اور اسکی سزا بھی انہیں کو بھگتنی پڑی۔ مزید انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی جیسے ہی رہا ہو کر گھر آئی اس کے ریپ کی بنائی ہوئی ویڈیوز دھڑا دھڑ سامنے آنے لگیں۔ اس واقعے نے خواتین کے حوصلے اس طرح توڑ دیے کہ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ سائپرس میں اپنی چھٹیاں منا رہی تھی کے ان کے ساتھ 5 افراد نے ریپ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رپورٹ درج کروانا چاہتی تھی لیکن برطانیہ کی لڑکی سے پیش آنے والے واقعے نے ان کے حوصلے توڑ دیے اور انہوں نے خوف میں آکر کوئی رپورٹ درج نہ کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس سب کو دیکھتے ہوئے سب کچھ برداشت تو کیا مگر ان کے ساتھ کیے ریپ کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں تھیں اور وائرل کی گئیں تھیں۔

ایک اور انڈیا کا واقعہ ہے جس میں ایک شادی شدہ خاتون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا گینگ ریپ ہوا جس میں با اثر لوگ شامل تھے مگر جب وہ پولیس میں رپورٹ درج کروانے گئیں تو اس ریپ کے واقعے سے زیادہ برا رویہ پولیس کا تھا جسے برادشت نہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنا کیس واپس لیا۔

اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک 13 سالہ لڑکی کو ایک فرد بلیک میلنگ کے ذریعے پچھلے ڈیڑھ سال سے اس کا ریپ کرتا رہا مگر جب غریب ماں باپ کو پتا چلا تو اس کے گھر والے اس شخص کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرانے گئے مگر لڑکی کی ماں نے بتایا کے پولیس کا رویہ بہت ہی بیہودہ تھا۔ پہلے تو انہوں نے کہا کہ لڑکی کو کھڑا کرو تاکہ ہم اس کی جسامت دیکھ سکیں کہ واقعی اس کا ریپ ہوا ہے یا نہیں۔ مگر انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا اور دو دن تک لگاتار رات کو 12 بجے فون کر کہ کہتے رہے بچی کو لے آؤ اس وقت تاکہ ہم تحقیقات کر سکیں۔ مگر خاتون نے بتایا کہ انہوں نے اس سب سے میڈیا کا سہارا لینا بہتر سمجھا اور جیسے ہی وہ میڈیا کے سامنے آئی ان کی ایف آئی آر بھی درج ہوگئی اور لیڈی پولیس کا تعین بھی کیا گیا۔ بیان لینے کے لیے مگر یہ عجیب بات تھی کہ انہوں نے میری بیٹی کو ملزم کے سامنے بٹھا کر بیان لینے کی بجائے لیڈی پولیس میری بیٹی کو تھپڑ مارتی رہی اور کہتی رہی سچ بتاؤ کہ تم خود اس کے پاس جاتی تھی۔

تو کیا یہ ہے وہ قانون اور قانون کے ادارے جن پر خواتین کی حفاظت کے لیے علمی طور پر تو قوانین موجود ہیں مگر عملی طور پر یہ ادارے ہی خواتین کے ریپ کا باعث ہیں۔ یہی سب موٹر وے پر پیش آنے والے واقعے پر ہوا کہ اپنی نااہلی کا الزام پولیس کے اعلیٰ افسر نے درندگی کا شکار ہونیوالی ہی خاتون پر لگا دیا کہ وہ رات کے اس وقت اکیلی کیوں ادھر نکلی۔ اس دقیانوس بیان کے خلاف جب عوام میں غصے کی لہر نے جنم لیا تو قانون اور قانونی ادارے جاگ پڑے اور سی سی پی او کو اس بیان پر معافی مانگناپڑی۔ لیکن اس پولیس افسر کے ردعمل نے ظاہر کیا کہ وہ رتی برابر بھی شرمندہ نہ تھا۔

موٹر وے پر خاتون کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوا تب خاتون کے ہنگامی رابطہ نمبر پر کال کرنے کے باوجود ڈیڑھ گھنٹے تک کوئی امداد نہ آئی اور دریں اثنا انسانوں کے روپ میں وحشی درندے وارِد ہوئے۔ جن کے ہاتھوں میں اسلحہ اور ڈنڈے تھے۔ انہوں نے گاڑی کے شیشوں کو توڑنا شروع کیا۔ یہ بات بہت ہی عجیب اس لیے بھی ہے کہ ان کا اطمینان ظاہر کر رہا تھا جیسے انہیں سب کچھ معلوم ہو اور آتے ہی وار شروع کر دیا۔ جیسے کہ کسی منصوبے کے تحت یہ واردات کی جا رہی ہو۔

خود قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بد عنوانی اور رشوت ستانی گہرائی تک پیوست ہو چکی ہے۔ جیسا کہ نامہ نگار منصور آفاق نے روزنامہ جنگ میں ”درندوں کی بستی“ کے عنوان سے مضمون لکھا کہ ”پچھلے برس کی بات ہے میں ایک آئی جی کے دفتر میں گیا جہاں ایس ایچ اوز کے ساتھ ان کی میٹنگ اسی وقت ختم ہوئی تھی، ابھی وہ میٹنگ روم میں موجود تھے، آئی جی صاحب چونکہ میرے دوست تھے انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔ آؤ آؤ، روز قانون کی علمبرداری قائم کرنے کے مشورے دیتے ہو، کرپشن ختم کرنے کے طریقے بتاتے ہو۔ ان پولیس افسران کے اس سوال کا جواب تو دو۔ سوال یہ تھا کہ تھانے سے جب کوئی مقدمہ عدالت جاتا ہے تو عدالت کے اہلکار اس وقت تک کیس نہیں لیتے جب تک ایک کیس کے ساتھ کم از کم پانچ ہزار روپے نہ دئیے جائیں۔ ایک تھانے سے اگر ایک مہینے میں صرف ایک سو کیس بھی عدالت میں جائیں تو اس تھانے کو پانچ لاکھ روپے رشوت دینا پڑتی ہے، یہ پانچ لاکھ کہاں سے آئیں۔ عدالتی اہلکاروں کو رشوت لینے سے کیسے روکیں۔ سوال اتنا خوفناک تھا کہ میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا“۔

آج جب میں اسی حوالے سے بی بی سی پر کالم پڑھ رہی تھی تو پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد کا بیان تھا کہ پولیس مکمل طور پر سیاسی ہو چکی ہے۔ اب اسے غیر سیاسی ہونا پڑے گا اور سیاست دانوں کو بھی پولیس میں دخل نہیں دینا چاہیے ورنہ پولیس اپنا امیج گرا دے گی۔ ایسی ہی پولیس ریفارمز کی راگ موجودہ حکومت کے سربراہان سالوں سے الاپ رہے ہیں۔ لیکن اس نظام کی اس بحرانی کیفیت میں صرف باتیں ہی کی جا سکتی ہیں۔ کیا چیف جسٹس صاحب بتا سکیں گے کہ سیاسی ادارے کی مداخلت کے یقینا مذموم مقاصد ہوتے ہیں لیکن عدالتوں اور عدالتی کاروایوں کے ذریعے قانونی کاروائیوں میں جو خلل پیدا ہوتا ہے کیا کبھی اس پر بھی کوئی نوٹس لیا جائے گا؟ یہاں دہائیوں تک عدالتی کیسز چلتے ہیں اور قید میں مرنے کے سالوں بعد پتہ چلتا ہے کہ ملزم بے قصور تھا۔

اس سارے منظر نامہ میں سیاسی گیدڑ بھبکیاں زخموں کو کریدنے کے مترادف ہیں۔ حکمران انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کبھی ملزم کے گھر والوں کو پکڑنے کی خبریں گردش میں رہیں تو کبھی اس کی بیوی اور بیٹی کی حراست شہ سرخیاں بنتی رہیں۔ وزیراعظم کو سماج کی اس بیماری کا علاج خصی کرنے کی سزا میں نظر آ رہا ہے۔ یہ انتہائی مزاحیکہ خیز ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حکمران طبقہ کتنا سطحی ہے۔ جب سماج بیمار ہو تو صرف سخت ترین سزاؤں سے معاملات حل نہیں ہوتے۔ قصور کی زینب کے قاتل کو پھانسی ہوئی لیکن کیا یہاں آج معصوم بچیاں محفوظ ہیں؟ اخباروں میں ایسی خبریں بھری پڑی ہیں جہاں معصوم بچیاں آج بھی درندگی کا شکار ہو رہی ہیں۔ مسئلہ نظام کا ہے جس پر سماج کھڑا ہے۔ ایک بوسیدہ نظام میں اجڑے سماج ہی پنپتے ہیں۔

حقیقی معنوں میں ریاست کا کام اس وقت صرف لوٹ مار کرنا ہی رہ گیا ہے جیسے پائلو فریری نے اپنی ایک کتاب میں لکھا کہ ان کا کام ہوتا ہے عوام کو آپس میں لڑوانا اور وہ اس سب کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیں۔ کیونکہ عوام کو ان کے اصل مسائل بے بہرہ کرنے اور ایک دوسرے کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کا یہی طریقہ ہے ورنہ عوام کا متحد ہونا ان کے وجود کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

ایسے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ کبھی ہمیں کشمور میں لڑکی گینگ ریپ کے بعد پگلائی ہوئی نظر آتی ہے توکبھی 5 سال کی بچیوں کی ریپ کے بعد لاشیں ملتی ہیں۔ کا مریڈ لیون ٹراٹسکی اپنی کتاب ’عورت اور خاندان‘ میں اس بات کو بار بار دھراتے رہے کہ کوئی بھی سماج تب ہی صحت مند ہوگا جب ماں اور بچے غلاظتوں سے محفوظ ہوں گے۔ مگر اس نظام نے ماں اور بچے کو ہی سب سے زیادہ تار تار کیا ہوا ہے۔

پوری دنیا میں خواتین کہیں بھی محفوظ نہیں۔ کبھی زینب بی بی یا کبھی موٹروے سانحہ جیسے واقعات پوری دنیا کے عوام میں غم و غصے کی لہر کو جنم دیتے ہیں۔ مگر اس طرح کے سینکڑوں واقعات جو ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں ان کا کوئی حساب کتاب موجود ہی نہیں ہوتا۔ حالیہ سانحے کے بعد ایسے بیانات بھی دیکھنے میں آئے کہ خواتین کو اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی، خواتین کو اپنے ساتھ بلیڈ اور چھری حفاظت کے لیے رکھنے چاہیے۔ اگر ہمیں اپنی جنگ چھری اور بلیڈ کے ساتھ خود ہی لڑنی ہے تو اس ریاست کا جواز ختم ہوجاتا ہے۔ جب ریاستیں اپنے لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکتیں تو انہیں اکھاڑ پھینکنا ہی واحد راستہ بچتا ہے۔

جرم میں ملوث افراد کو دھرا جا رہا ہے۔ کچھ پکڑ بھی لیے گئے ہیں اور تفتیش بھی چل رہی۔ شاید انہیں پھانسی پر بھی لٹکا دیا جائے۔ مگر کیا اسی کے ساتھ یہ جرائم بھی ختم ہو جائیں گے۔ جواب ہم سبھی جانتے ہیں!اس مردہ سماج میں جان نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس نظام میں سماج کے مسائل کا حل ناممکن ہے۔ اب واحد حل یہی ایک راستہ ہے کہ اس مردہ نظام کو دفنانے کے بعد ایک نیا صحت مند نظام تخلیق کیا جائے۔ جو خواتین سمیت تمام مظلوموں کی نجات کا ضامن ہو جس میں خواتین کی برابری اور حقوق کی ضمانت ہو اوریہ صرف سوشلزم میں ممکن ہے!