خبریں/تبصرے

9/11 کے بعد امریکی جنگیں 8 لاکھ جانیں لے چکی ہیں

عدنان فاروق

گیارہ ستمبر کے تناظر میں اپنی کتاب ’بنیاد پرستیوں کا تصادم‘ میں طارق علی نے اسامہ بن لادن کی بے بہا مقبولیت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس صدی کی تاریخ لکھی جائے گی تو یہ واقعہ ایک فٹ نوٹ سے زیادہ جگہ نہیں پائے گا۔

اس گیارہ ستمبر پر مجھے یہ جملہ بار بار یاد آیا۔ کسی جگہ اسامہ کی تصویرر دکھائی نہیں آئی۔ ابھی تو یہ صدی آدھی بھی نہیں گزری۔ ہاں ڈیموکریسی ناو پر ایک خبر دعوت فکر ضرور دے رہی تھی۔

خبر کے مطابق گیارہ ستمبر کے بعد ہونے والی ان جنگوں میں جنہیں امریکہ نے یا شروع کیا یا جن میں بھر پور کردار ادا کیا، ایسی جنگوں میں 800,000 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان جنگوں میں جن ملکوں کے لوگ ہلاک ہوئے ان میں افغانستان، عراق، پاکستان، شام اور یمن شامل ہیں۔

براؤن یونیورسٹی کے کاسٹ آف وار پراجیکٹ کے مطابق 8 ملکوں میں امریکی جنگوں کی وجہ سے 37 ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس جنگ کا خرچہ اٹھانے والے امریکہ ٹیکس دہندگان اس جنگ میں 6.4 ٹریلین ڈالر جھونک چکے ہیں۔

سوچئے اگر یہ کھربوں ڈالر جنگ کی بجائے امن پر خرچ ہوئے ہوتے؟

امریکی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈیوڈ وائن، جو اس رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک ہیں، کہتے ہیں: ”پچھلے انیس سالوں میں جنگیں شروع کرنے اور انہیں جاری رکھنے میں امریکہ کا بڑا حصہ ہے“۔

Adnan Farooq

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔