دنیا

40 ملکوں میں 32 ہزار کیوبن ڈاکٹرز، نرسز ٹرمپ کیلئے دھچکا: رائٹرز اپنے ہی پراپیگنڈے کا شکار

فاروق سلہریا

14 ستمبر کو رائٹرز نے ایک خبر چلائی جس کا واحد مقصد کیوبا کو بد نام کرنا تھا۔ مصیبت یہ ہوئی کہ رائٹرز نے کیوبا کے نظام صحت پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور اس حملے کا رخ کیوبا کی عالمی یکجہتی کے سب سے بڑے اور انسان دوست اظہار کی جانب تھا: یعنی کیوبا جو دنیا بھر میں غریب ممالک کی مدد کے لئے اپنے ڈاکٹرز اور انجینئرز روانہ کرتا ہے، ان کو نشانہ بنایا گیا۔

تنقید کیا ہے؟

اول: کیوبا نے اپنی طاقت سے زیادہ وزن اٹھا لیا ہے۔

دوم: ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ کیوبن ڈاکٹرز اور نرسز کے اوقات کار اچھے نہیں ہیں۔

سوم: ہیومن رائٹس واچ نے کیوبا پر تنقید کی تھی کہ اگر کوئی کیوبن ڈاکٹر میڈیکل مشن پر جائے اور اگر منحرف ہو جائے تو وہ آٹھ سال تک کیوبا واپس نہیں آ سکتا۔

اس تنقید کا جواب تو بعد میں دیتے ہیں پہلے ذرا رائٹرز کی اس رپورٹ میں پائے جانے والے دلچسپ حقائق پر نظر دوڑاتے ہیں جس کی وجہ سے رائٹرز خود مشکل میں پھنس جاتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق پانچ بر اعظموں میں دنیا کے چالیس ممالک میں 32 ہزار کیوبن ڈاکٹر اور نرسیں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کرونا وبا پھیلنے سے قبل 28 ہزار ہیلتھ ورکرز دوسرے ممالک میں تعینات تھے جبکہ کرونا وبا کے بعد 4,000 مزید ہیلتھ ورکرز کو بھیجا گیا۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیوبا کے انٹرنیشنل میڈیکل اسکول سے اب تک 30,000 غیر ملکی طالب علم گریجویٹ ہو چکے ہیں (رائٹرز نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ ان سے فیس کی مد میں ایک روپیہ تک نہیں لیا گیا، بلکہ ان کا رہنا سہنا بھی کیوبا کے ذمے تھا۔ نہ ہی رائٹرز نے امریکہ سے موازنہ کیا کہ اگر کوئی غیر ملکی امریکہ سے ڈاکٹری کرے تو وہ کتنے میں پڑتی ہے)۔

رائٹرز کے مطابق ”(کیوبا) کے میڈیکس کی کامیابی ٹرمپ انتظامیہ کے لئے ایک دھچکا ہے جو پچھلے چند سالوں سے کیوبا کے میڈیکل مشن کے خلاف غیر معمولی مہم چلا رہی ہے اور ڈاکٹروں کے برے اوقات کار کی بات کر رہی ہے“۔

سوچنے کی بات ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پریشانی سے رائٹرز اتنی متذبذب کیوں ہے؟ کیا یہ میڈیا امپیریل ازم کی ایک شکل تو نہیں؟

اب ذرا جائزہ لیتے ہیں رائٹرز کی تنقید کا۔

رائٹرز کو پہلا اعتراض ہے کہ کیوبا نے اپنی طاقت سے زیادہ وزن اٹھا لیا ہے۔

ہمارا جواب: اس پر کیوبا کی تعریف ہونی چاہئے نہ کہ کیوبا پر تنقید۔ اگر تو ایسا ہوتا کہ کیوبا میں لوگ کرونا سے مر رہے ہوتے اور کیوبن ڈاکٹر دوسرے ملک ارسال کر دئے جاتے تو تنقید کا کوئی پہلو بھی نکلتا تھا۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیارہ ملین کے اس ملک میں کل چار ہزار سے کچھ زائد کرونا مریض سامنے آئے اور 108 ہلاکتیں ہوئیں۔ ہفتوں قبل کیوبا نے کرونا وبا کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔ تنقید اگر ہونی چاہئے تو سامراجی ممالک پر ہونی چاہئے تھی جو مشکل کی اس گھڑی میں کسی کی مدد کرنے کو تیار نہ تھے۔ اور تو اور یورپی یونین کے تمام ممالک نے اپنے یورپی رکن اٹلی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ کیوبا نے اٹلی بھی اپنے ڈاکٹر بھیج دئے تاکہ کرونا آفت کے شکار اس ملک کا ساتھ دیا جائے۔

دوسرا اعتراض رائٹرز کو یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے خیال میں کیوبن ڈاکٹرز اور نرسز کے اوقات کار اچھے نہیں ہیں۔

ہمارا جواب: یہ تنقید بھی اسی رپورٹ میں تضاد کا شکار ہو جاتی ہے۔ رپورٹ میں ہی بتایا گیا ہے کہ کیوبن مشن کے ساتھ جانے والے ارکان کو ملک میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز کی نسبت زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ جو نہیں بتایا گیا وہ یہ ہے کہ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف نہیں بھیجا جاتا۔ سب رضاکارانہ بنیادوں پر جاتے ہیں۔

تیسرا نقطہ تنقید یہ تھا کہ ہیومن رائٹس واچ کے بقول، اگر کوئی کیوبن ڈاکٹر میڈیکل مشن پر جائے مگر منحرف ہو جائے تو وہ آٹھ سال تک کیوبا واپس نہیں آ سکتا۔

ہمارا جواب: ایسے ڈاکٹرز کے ساتھ کیا کرنا چاہئے؟ یہ لوگ کیوبن ٹیکس دہندگان کے خون پسینے کی کمائی سے پڑھتے ہیں۔ کیوبا ایک غریب ملک ہے۔ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے اگر کوئی اقدام اٹھائے تو ہیومن رائٹس واچ (جس کے اہل کاروں کی بھاری بھاری تنخواہیں خود انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہیں) کو اعتراض ہے۔ اگر امریکہ اپنے منحرف فوجیوں کا کورٹ مارشل کرے تو یہ قانون کی پاسداری ہے۔ نہ تو رائٹرز نہ ہی ہیومن رائٹس واچ نے کوئی حل تجویز کیا ہے۔

پوری رپورٹ میں ایک بات جو رائٹرز کو بالکل دکھائی نہیں دی (دیتی بھی کیسے) وہ یہ کہ امریکہ اور اس کے سامراجی کزن تیسری دنیا کے ممالک میں فوجی، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور آئی ایم ایف کے مالی ماہرین بھیجتے ہیں۔ کیوبا ان ہی ممالک میں اپنے ڈاکٹرز بھیجتا ہے جنہیں رائٹرز کی اسی رپورٹ میں آرمی آف وائٹ کوٹس (Army of White Coats) کہا گیا ہے۔

یہ فرق لیکن سامراجی عینک لگا کر نظر نہیں آتا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔