دنیا

میثاقِ امن میں مری کچھ بات بھی تو ہو؟ فلسطین اور عرب اسرائیل معاہدے

قیصر عباس

وائٹ ہاؤس میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل کے سربراہوں نے امریکی صدر کی موجودگی میں تعاون اور امن کے معاہدوں پر دستخط کرکے اپنے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیاہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان معاہدوں کے نتیجے میں جہاں اسرائیل کو خلیجی ریاستوں تک رسائی اوران کی حمائت حاصل ہوئی ہے وہاں اہلِ فلسطین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ناقدین کے خیال میں فلسطینی مسئلے پر بات کئے بغیر خلیجی ریاستوں نے خود کو بیچ کر فلسطینیوں سے غداری کی ہے۔

فلسطینی علاقوں پر اسرائیل ایک عرصے سے بزور قابض ہے اور ان کے بنیادی حقوق مسلسل پامال کر رہا ہے۔ فلسطینی ان معاہدوں کو رد کرتے ہوئے مظاہرے کر رہے ہیں اور یہی نہیں بلکہ ترقی پسند یہودی باشندے بھی ریاست کے خلاف احتجاج میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق معاہدوں کے بعد غزہ سے اسرائیل کے جنوبی علاقے میں دو راکٹ داغے گئے جس کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے۔ جواباً اسرائیل کے جہازوں نے عسکری گروہوں کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی ہے۔

امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ یہ معاہدے خلیج میں اسرائیلی ٹیکنالوجی اور جدید اسلحے کی درآمد اوران کے استعمال کے نئے دروازے کھولیں گے جو پہلے میسر نہیں تھے۔ اس کے علاہ ان چھوٹی مگراقتصادی طورپر امیر اور طاقتور ریاستوں کو علاقے میں اپنی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کے مواقع بھی ملیں گے جس سے سعودی عرب کے علاقے میں اثر و رسوخ پر سوالات بھی اٹھ سکتے ہیں۔

ادھر سعودی رہنماؤں نے اسرئیل کے ساتھ اس طرز کے کسی معاہدے کے امکانات کو رد کیا ہے اگرچہ اب اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے درمیان پروازو ں کوسعودی خلائی حدود سے گزرنے کی کھلی آزادی بھی حاصل ہوچکی ہے۔ معاہدوں پر دستخط کے بعد ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کیا کہ عنقریب کئی اور مسلم ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ نئے معاہدے مشرق وسطیٰ میں کیا تبدیلیاں لائیں گے اور کیا سعودی عرب بھی مستقبل قریب میں اسرائیل سے تعلقات بحال کرے گا؟

اسرائیل اور امریکہ دونوں نے مشرق وسطیٰ کے اس کھیل میں ایک بار پھر شطرنج کے مہروں کو اپنے اندرونی اور بین الاقوامی سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے لئے ان معاہدوں کی تکمیل کااس سے بہتر کوئی اور وقت نہیں تھا۔ نیتن یاہو کو اسرائیل میں سیاسی مسئلوں کا سامنا ہے اور وہ ابھی تک کرپشن کے الزامات سے نجات بھی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ بھی انتخابات میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بیرونی کامیابیوں کے سہارے بحال کرنا چاہیں گے۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر پیٹرک تھیروز کا کہنا ہے: ”بادی النظر میں، نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کو اس کامیابی کے لئے کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑی۔ ان معاہدوں کے بعد قطر سے تعلقات، خلیج میں امریکی موجودگی یا ایران پر صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں کسی طرح کی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔“

مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ ان معاہدوں کے ذریعے نومبر کے انتخابات میں خود کو ایک ایسے رہنما کے طورپر پیش کریں گے جو ایک فعال خارجہ پالیسی کی تشکیل اور پیچیدہ بین الاقوامی مسائل کے حل کی اہلیت رکھتاہے۔ ان معاہدوں کے ذریعے اب اسرائیل بھی ایران کے خلاف خلیجی ریاستوں اورعرب ا تحادیوں کے ساتھ نظر آئے گا۔

متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں اپنی تعمیرات کے منصوبے ترک کردئے ہیں۔ درحقیقت نیتن یاہو نے اعلان کیاہے کہ وہ مزید تجاوزات پر عمل درامد صرف معطل کررہے ہیں اور انہیں منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

تھیروز کے مطابق: ”فلسطینی علاقوں کے انضمام کا مسئلہ ابھی میز پر موجودہے یہاں تک کہ صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ یہ مسئلہ ان کی انتخابی مہم کے لئے اہم نہیں ہے۔ درد حقیقت نیتن یاہوان معاہدوں کو اپنے حق میں استعمال کریں گے اگر انہوں نے نئے انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔“

عرب اور خلیجی ریاستیں ایک کے بعد ایک اس کھیل میں خود اپنے شہریوں کی رائے عامہ کو نظرانداز کرتے ہوئے، جو فلسطینوں کے حقوق کی جدو جہد میں ان کے ہمراہ کھڑے ہیں، سامراجی طاقتوں کی صف میں شامل ہورہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کب تک اس کھیل کو جاری رکھ سکیں گے؟

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اس کھیل کے اصل کھلاڑیوں یعنی فلسطینی باشندوں کو ایک بار پھر میدان سے باہر رکھا گیا ہے۔ بقول شاعر:

میں نے بھی اپنے خون سے جیتا ہے یہ محاز
میثاق امن میں مری کچھ بات بھی تو ہو!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔