شاعری

غزل: آئے ہو اس طرف تو ملاقات بھی تو ہو!

قیصر عباس

آئے ہو اس طرف تو ملاقات بھی تو ہو
کیسے کٹے گی رات کوئی بات بھی تو ہو

رقصاں ہیں میرے شہر میں ہرسو اداسیاں
عہدِ خزاں میں موسمِ برسات بھی تو ہو

مانگے ہیں آسماں سے تری قربتوں کے خواب
حرفِ دعا میں کوئی کرامات بھی تو ہو

سورج کی تیزدھوپ میں جلنے لگا بدن
رستے بہت کٹھن ہیں، کہیں رات بھی تو ہو

اب کیجئے ستم کے نئے زاویے تلاش
زندانیوں میں آپ کی سوغات بھی تو ہو

میں نے بھی اپنے خون سے جیتا ہے یہ محاز
میثاقِ امن میں مری کچھ بات بھی تو ہو

قیصرؔ قرارداد میں شامل نہیں تھے ہم
کوئی فریق وقت سوالات بھی تو ہو

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔