سوشل

آج کی ویڈیو: قوم کے نام عمران خان کا ایک اور جھوٹ!

سوشل ڈیسک | عمران کامیانہ

آج کل سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پہ عمران خان کا قوم کے نام ایک پیغام بہت گردش کر رہا ہے جس میں موصوف عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر رہے ہیں۔ جی ہاں! وہی ایمنسٹی سکیم جو ماضی کی حکومتیں دیا کرتی تھیں تو عمران خان نیازی صاحب یوں اچھلا کرتے تھے جیسے کسی نے گرم توے پہ بٹھا دیا ہو۔ آپ پہلے ویڈیو دیکھیں باقی بات اس کے بعد  کرتے ہیں۔

بات ایمنسٹی سکیم کی ہو رہی ہے تو چلتے چلتے عرض کر دیں کہ یہ ہوتی کیا ہے۔ سرمایہ دارانہ حکومتیں جب غریبوں کا پیسہ امیروں پہ لٹا لٹا کے کنگال ہو جاتی ہیں تو اس میں سے تھوڑے سے کمیشن کے عوض باقی کے کالے دھن کو سفید اور جائز قرار دینے کی ضمانت دیتی ہیں۔ اسے عیاری کی زبان میں ”ایمنسٹی سکیم“ کہا جاتا ہے۔

لیکن ہمارا آج کا موضوع ایمنسٹی سکیم نہیں بلکہ وہ بات ہے جو عمران خان نے اپنی ویڈیو کے آغاز میں کی ہے۔ یعنی صرف ایک فیصد پاکستانی ٹیکس دہندگان ہیں جو باقی 99 فیصد کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں وغیرہ۔

یہ ایک ایسا مکروہ جھوٹ ہے جو اس نظام کے حکمرانوں کے علاوہ کارپوریٹ میڈیا بھی بے دریغ بولتا ہے اور جو غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

پاکستان میں حقیقت اِس کے بالکل برعکس ہے جسے جاننے کے لئے ”ٹیکس“ کے گورکھ دھندے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ٹیکس دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو آمدن یا منافعوں وغیرہ پہ لگائے جاتے ہیں۔ یہ بالعموم امیر یا نسبتاً خوشحال طبقات پر لگتے ہیں۔ انہیں براہِ راست ٹیکس (Direct Tax) کہا جاتا ہے۔ دوسرے ٹیکس بالواسطہ (Indirect) ہوتے ہیں جو اشیائے صرف پر لگائے جاتے ہیں۔ مثلاً پٹرول، چینی، گھی، کپڑوں، جوتوں وغیرہ سمیت اشیائے ضرورت کی ہر چیز پر صارفین جو سیلز ٹیکس، کسٹم اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وغیرہ ادا کرتے ہیں وہ اِس زمرے میں آتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر عوام پر لگنے والا ٹیکس ہوتا ہے۔

پاکستان میں اگر ہم حکومت کے اعداد و شمار بھی دیکھیں تو مجموعی ٹیکس آمدن میں بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ 70 سے 80 فیصد نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بھی پورا سچ نہیں ہے۔ براہِ راست ٹیکسوں میں بھی بہت سے ایسے طریقے شامل ہیں جو بالواسطہ ٹیکسوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ کچھ رپورٹوں کے مطابق تو ”براہِ راست ٹیکسوں“ کا 96 فیصد تک بالواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے!

ملک میں چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کے ادارے (ICAP) کی ٹیکسیشن کمیٹی کے مطابق ”حکومتی آمدن کا 88.79 فیصد بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے جبکہ براہِ راست ٹیکسوں کی شرح صرف 11.21 فیصد ہے۔“

مختصراً بات کریں تو پاکستان میں 1 فیصد نے 99 فیصد کا بوجھ نہیں اٹھا رکھا بلکہ 99 فیصد نے 1 فیصد کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ عمران خان اسی 1 فیصد کے نمائندے ہیں۔


آپ بھی سماجی مسائل کو اجاگر کرنے والی ویڈیوز ہمیں ارسال کر کے سوشل ڈیسک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اپنی ویڈیوز ہمیں یہاں ارسال کریں۔


Imran Kamyana

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔