پاکستان

موٹر وے کیس: کیا مجرم صرف دو ہی ہیں؟

رضوان عبدالرحمان عبداللہ

عوامی سطح پر غم و غصے کی لہر ہی شاید وہ ”حجت“ ہے جو حکومت وقت کو ان ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے پر مجبور کررہی ہے جنہوں نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر ایک ماں کو بچوں کے سامنے درندگی کا نشانہ بنایا۔ اس جرم کا مرتکب ایک ملزم، شفقت، گرفتار ہو چکا ہے جبکہ دوسرا ملزم، عابد، تادمِ تحریر جدید اور سائنٹیفک طریقوں سے پیچھا کرنے والی پولیس کو کھیتوں کھلیانوں میں چکمے دینے میں مصروف ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس دلخراش سانحے میں عابد اور شفقت ہی وہ ملزم ہیں؟ کیا اس جرم کے ذمہ دار وہ ادارے اور ان کے اہلکار بھی نہیں جو ہیلپ لائن پر موجود تھے؟ ایک طرح سے مجرم سی سی پی او عمر شیخ بھی تو ہیں۔ اس پولیس افسر نے معذرت تو کر لی مگر ان کا تبادلہ نہیں کیا گیا جیسا کہ پاکپتن کے ڈی پی او کے معاملے میں ہوا تھا۔

جب ایک پولیس افسر وکٹم خاتون کی غلطیاں انگلیوں پر گنوانے میں مصروف تھا، تو اس قبیح فعل پر نہ تو پڑھے لکھے وزیر برائے منصوبہ بندی کو کوئی ”غیر قانونی“ بات نظر آئی اور نہ ہی لندن پلٹ مشیر داخلہ کو کوئی ”تنازعہ“ دکھائی دیا۔

ایک معاونِ خصوصی کو تو ملزم کے ڈی این اے میچ ہونے کی خبر پر وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان شخص کی طرف سے مبارکباد بھی ملی۔ آخر ان پست ذہنیت اور باعثِ شرم رویوں پر اخلاقی احتساب کیوں نہیں کیا جاتا؟

ایسے افراد کا مواخذہ کرنا مشکل ہے کیونکہ جب حاکم ریاستِ خود اس واردات میں برتی جانے والی کوتاہیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے قوم کو ”نامرد بنانے“ سے جڑی نئی بحث میں الجھا کرکے بری الذمہ ہو جائے۔

وزیراعظم صاحب شاید بھو ل رہے ہیں کہ ایسے جرائم کا تدارک کے لئے فوری انصاف اور پولیس ریفارمز جیسے اصلاحات نہ کر کے وہ بھی گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔ ادھر حزب اختلاف کی حالت یہ ہے: وہ اس بات پر کریڈت لے رہے ہیں کہ جس موٹر وے پر یہ واقعہ ہوا، وہ ان کے دور میں بنی تھی۔ اسمبلی کے ارکان کے اخلاقی دیوالیہ پن کو وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی سنجیدہ تقریر پر لگنے والے قہقوں نے ہی ظاہر کر دیا۔

ستم بالائے ستم اس سانحے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے عدالت نے از خود نوٹس تک نہیں لیا۔ ملک میں خواتین کے تحفظ کے ناکافی اقدامات پرایک اور ازخود نوٹس بھی تو لیا سکتا تھا۔ اس بات پر ہی غور کیا گیا ہوتا کہ ریپ کیسز میں صرف پانچ فیصد ملزموں کو سزا ملتی ہے۔

دوسری طرف اس سانحے پرمذہب کے کچھ داعی مظلوم کا تحفظ کرنے کی بجائے ایک مولوی صاحب نے مخلوط تعلیمی نظام کو بنیاد بنا کر ریپ کرنے والوں کی ”بخشش“ کرا دی۔ موٹروے سانحے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ اس گھناؤنے جرم میں فقط عابد اور شفقت ہی شریک نہیں ہیں، بلکہ ان کے لئے راہ ہموار کرنے والا ہمارا کھوکھلا نظام بھی برابر کا مجرم ہے۔